یولیسس اور کفایت شعار تنقید/ محمد عامر حسینی

یولیسس کو پڑھ کر بعض حضرات فوراً فتوا دینے لگتے ہیں کہ یہ سب بکواس ہے کیونکہ ان سے اس ناول کا متن پڑھا ہی نہیں جاتا ۔ اب اس ناول کے ایک حصّے کا اردو ترجمہ میں نے یہاں دیا ہے تب بھی یہ یہی کہیں گے کہ یہ حصّہ بھی نری بکواس ہے۔

ان کی توقع بھی بجا ہے کہ ناول میں کوئی باقاعدہ واقعہ ہونا چاہیے۔ مثلاً کوئی شخص اشتہار لے کر مدیر کے پاس جائے، مدیر شائستگی سے بات سنے پھر کاروباری معاملہ طے ہو اور سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں۔

جوئس کو دیکھیے وہ اتنے آسان کام میں انسانی زندگی گھسا دیتے ہیں۔

بلوم اشتہار کی تجدید چاہتا ہے اور مشتہر اشتہار کے ساتھ ذرا سی مفت تعریف چاہتا ہے۔ مدیر اس پوری تجارتی حکمت عملی کا جواب اپنے جسم کے ایک ایسے حصے کی معرفت دیتا ہے جسے عموماً اداریے میں جگہ نہیں ملتی۔

صحافت، کاروبار اور خوشامد کا رشتہ یہاں چند جملوں میں کھل جاتا ہے۔ بلوم کی مشکل یہ ہے کہ اسے روزی بھی کمانی ہے اور عزتِ نفس بھی ساتھ لیے پھرنی ہے۔ مدیر کی سہولت یہ ہے کہ اس وقت اسے جام پینے جانا ہے۔ دونوں کی ترجیحات بالکل واضح ہیں؛ پیچیدگی صرف یہ ہے کہ ایک دوسرے کی ترجیح کا احترام کرنے کے موڈ میں نہیں۔

اسی دوران بلوم کی نظر کسی کی ٹوپی، کسی کے بوٹ، کسی کی گھسی ہوئی ایڑیوں اور کسی کی چکنی چپڑی باتوں پر پڑتی ہے۔

یہاں ناول کو بکواس کہنے والا نام نہاد نقاد ذرا ناراض ہوتا ہے کہ اشتہار کی بات چل رہی تھی تو اس میں یہ بوٹ کہاں سے آ گئے؟

حالاں کہ اپنی روزمرہ گفتگو میں یہی نام نہاد نقاد قومی معیشت سے شروع ہو کر پڑوسی کی موٹر سائیکل، چائے کی پتی اور بھانجے کی شادی تک پہنچ سکتا ہے۔

انسانی ذہن کو یہ آزادی حاصل ہے مگر جوئس اسے کاغذ پر دے دیں تو اعتراض ہونے لگتا ہے۔

قرض کا معاملہ بھی خوب ہے۔ جیب میں کچھ نہیں مگر نیک نیتی فراواں ہے۔ دوست کو رقم نہیں مل سکتی البتہ اس یقین دہانی کی پوری سہولت موجود ہے کہ رقم ہوتی تو ضرور ملتی۔

“میری نیت کو عمل ہی سمجھو”

ایسے مواقع پر نہایت کارآمد جملہ ہے۔ اس سے دینے والے کا دل بھی ہلکا ہو جاتا ہے اور لینے والے کی جیب بھی ہلکی رہتی ہے۔

پھر اسٹیفن دو بوڑھی عورتوں کو نیلسن کے ستون پر لے جاتا ہے۔ بلندی، شہر کا منظر، گرجوں کی شناخت اور عظیم مجسمہ

سامان تو کسی پُرشکوہ تحریر کا جمع ہوا تھا۔ مگر خواتین کو چکر آتے ہیں اور ان کی گردنیں اکڑ جاتی ہیں، اور آخرکار آلو بخارے کھاتے ہوئے گٹھلیاں نیچے تھوکنے لگتی ہیں۔

جوئس عظمت کے اس منظر میں جسم کو بھی شریک رکھتے ہیں۔

تاریخ اوپر کھڑی ہے، زندگی اس کے قدموں میں بیٹھی پھل کھا رہی ہے۔

اس سارے منظر پر سرخیاں بھی یوں لگتی ہیں جیسے اخبار کا صفحہ معمولی باتوں کو غیرمعمولی بنا کر بیچنے پر تلا ہو۔

مدیر فحش جواب دے سکتا ہے مگر عورتوں کے اسکرٹ تک بات پہنچے تو فوراً آرچ بشپ کی عمل داری یاد آ جاتی ہے۔ شائستگی کا یہ انتظام خاصا عملی ہے۔

اپنی زبان کے لیے آزادی اور دوسرے کے قصے کے لیے نگرانی۔

آخر میں ہیلن اور پینی لوپی بھی گفتگو میں آ جاتی ہیں۔ اشتہار سے شروع ہونے والی محفل قدیم حسن کے فیصلے تک پہنچ گئی اور کسی نے راستے میں اجازت بھی نہیں لی۔

شاید بکواس کہنے والوں کی اصل شکایت یہی ہے کہ جوئس نے زندگی کو پہلے صاف ستھرا کر کے پیش نہیں کیا۔ اب قاری کو خود دیکھنا پڑتا ہے کہ گالی، قرض، خوشامد، علم اور آلو بخارے ایک ہی شہر میں کیسے رہتے ہیں۔

اتنی محنت سے بچنے کے لیے بکواس یقیناً ایک مختصر اور کفایت شعار تنقیدی اصطلاح ہے۔
______________________________

مدیر سے ملاقات

”بس یہ اشتہار،“ مسٹر بلوم نے ہجوم میں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھتے، ہانپتے، جیب سے تراشا نکالتے ہوئے کہا۔ ”ابھی مسٹر کیز سے بات کی۔ کہتے ہیں، دو مہینے کے لیے تجدید کر دیں گے۔ اس کے بعد دیکھیں گے۔ مگر توجہ دلانے کو ٹیلی گراف میں بھی ایک پیراگراف چاہتے ہیں، ہفتے کے گلابی شمارے میں۔ اور اگر دیر نہیں ہوئی تو اس کی نقل بھی چاہتے ہیں، کونسلر ننیٹی سے کہا تھا میں نے، کلکنی پیپل سے۔ قومی کتب خانے میں دیکھ سکتا ہوں۔ چابیوں کا گھر، سمجھ رہے ہیں نا؟ ان کا نام کیز ہے۔ نام کا لفظی کھیل ہے۔ مگر تقریباً وعدہ کر دیا کہ تجدید کر دیں گے۔ بس ذرا سی تعریفی خبر چاہتے ہیں۔ انہیں کیا کہوں، مسٹر کرافورڈ؟“

کے ایم اے

”انہیں بتاؤ گے کہ میرے چوتڑ چوم سکتے ہیں؟“ مائلز کرافورڈ نے زور دینے کو بازو پھینکتے ہوئے کہا۔ ”کہہ دو، سیدھی اصطبل سے خبر آئی ہے۔“

ذرا چڑچڑا۔ جھکڑوں سے بچو۔ سب جام پینے جا رہے ہیں۔ بازو میں بازو ڈالے۔ آگے لینہن کی کشتی والوں جیسی ٹوپی، کسی سے کچھ اینٹھنے کی ٹوہ میں۔ وہی معمول کی چکنی چپڑی باتیں۔ جانے نوجوان ڈیڈلس ہی اس سب کی جان ہے؟ آج اچھے بوٹ پہنے ہیں۔ پچھلی بار دیکھا تھا تو ایڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ کہیں کیچڑ میں چل کر آیا ہے۔ لاپروا آدمی۔ آئرش ٹاؤن میں کیا کر رہا تھا؟

”خیر،“ مسٹر بلوم نے نظر واپس لاتے ہوئے کہا، ”اگر نقشہ لا سکوں تو ایک مختصر پیراگراف کا حق تو بنتا ہے۔ میرا خیال ہے، اشتہار دے دیں گے۔ میں انہیں کہہ دوں گا۔۔۔“

کے ایم آر آئی اے

”وہ میرے شاہی آئرش چوتڑ چوم سکتا ہے،“ مائلز کرافورڈ نے کندھے کے اوپر سے زور سے کہا۔ ”جب بھی جی چاہے، اسے بتا دو۔“

مسٹر بلوم بات کو تولتا، مسکرانے کو تھا کہ مدیر جھٹکے کھاتے قدموں سے آگے بڑھ گیا۔

رقم کی ہوا باندھنا
Nulla bona, Jack.
کوئی مال و اسباب نہیں، جیک۔

اس نے ہاتھ ٹھوڑی تک اٹھاتے ہوئے کہا۔

”یہاں تک پھنسا ہوا ہوں۔ خود بھی اس چکر سے گزر چکا ہوں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی کوئی آدمی ڈھونڈ رہا تھا جو میرے قرض کے کاغذ پر ضمانت دے دے۔ افسوس، جیک۔ میری نیت کو عمل ہی سمجھو۔ اگر کسی طرح رقم کا بندوبست کر سکتا تو ایک دل نہیں، ڈیڑھ دل سے کرتا۔“

جے جے اومولوئے کا چہرہ لٹک گیا۔ وہ خاموشی سے چلتا رہا۔ وہ دوسروں تک پہنچ گئے اور برابر برابر چلنے لگے۔

”جب وہ جما ہوا گوشت اور روٹی کھا چکتی ہیں، اور جس کاغذ میں روٹی لپٹی تھی اس سے اپنی بیسوں انگلیاں پونچھ لیتی ہیں، تو ریلنگ کے قریب جاتی ہیں۔“

”تمہارے لیے ایک چیز،“

پروفیسر نے مائلز کرافورڈ کو سمجھایا۔ ”نیلسن کے ستون کی چوٹی پر ڈبلن کی دو بوڑھی عورتیں۔“
کیا ستون ہے، پہلی مٹکتی خاتون نے کہا

”یہ نئی بات ہے،“ مائلز کرافورڈ نے کہا۔ ”یہ چھپنے کا مواد ہے۔ موچیوں کی ڈارگل سیر کو نکلی ہیں۔ دو بوڑھی چالاکیاں، ہاں؟“

”مگر انہیں ڈر ہے، ستون گر نہ جائے،“ اسٹیفن نے بات جاری رکھی۔ ”چھتیں دیکھتی ہیں اور بحث کرتی ہیں کہ کون سا گرجا کہاں ہے۔ راتھ مائنز کا نیلا گنبد، آدم اور حوا کا گرجا، سینٹ لارنس اوٹول کا۔ مگر دیکھنے سے چکر آتے ہیں، اس لیے اسکرٹ اوپر اٹھاتی ہیں۔۔۔“

وہ ذرا ہڑبونگ مچانے والی خواتین

”ذرا آرام سے،“ مائلز کرافورڈ نے کہا۔ ”شاعرانہ آزادی نہیں۔ یہاں آرچ بشپ کی عمل داری میں ہیں۔“
”اور اپنی دھاری دار زیرِ دامن پوشاکوں پر بیٹھ جاتی ہیں، اس ایک ہاتھ والے زناکار کے مجسمے کی طرف گردن اٹھا کر دیکھتی ہوئی۔“

”ایک ہاتھ والا زناکار!“ پروفیسر نے کہا۔ ”یہ اچھا لگا۔ خیال سمجھ گیا۔ سمجھ رہا ہوں، کیا کہنا چاہتے ہو۔“
خواتین ڈبلن کے شہریوں کو تیزرفتار گولیاں، آسمانی پتھر عطا کرتی ہیں، خیال ہے

”گردنوں میں اکڑن پڑ جاتی ہے،“ اسٹیفن نے کہا، ”اور اتنی تھک گئی ہیں کہ نہ اوپر دیکھ سکتی ہیں، نہ نیچے، نہ بات کر سکتی ہیں۔ آلو بخاروں کا تھیلا اپنے بیچ رکھ لیتی ہیں اور ایک کے بعد ایک آلو بخارا نکال کر کھاتی ہیں۔ منہ سے بہتا رس رومالوں سے پونچھتی ہیں اور گٹھلیاں آہستہ آہستہ ریلنگ کی سلاخوں کے بیچ سے تھوکتی جاتی ہیں۔“

اختتام پر اس کی اچانک، زور دار، جوان ہنسی نکلی۔ لینہن اور مسٹر اومیڈن برک نے سن کر مڑ کر دیکھا، ہاتھ سے بلایا اور مونی کی طرف سڑک پار کرنے کو آگے بڑھ گئے۔

”ختم؟“ مائلز کرافورڈ نے کہا۔ ”بس اس سے برا کچھ نہ کریں۔“

سوفسطائی مغرور ہیلن کی ناک پر سیدھا وار کرتا ہے۔ سپارٹا والے داڑھیں پیستے ہیں۔ ایتھاکا والے پینی لوپی کو فاتح مانتے ہیں

”تم مجھے اینٹیستھنیز یاد دلاتے ہو،“ پروفیسر نے کہا، ”گورگیاس سوفسطائی کا شاگرد۔ کہتے ہیں، کوئی نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ دوسروں کے خلاف زیادہ تلخ تھا یا اپنے خلاف۔ ایک معزز آدمی اور ایک کنیز کا بیٹا تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس میں حسن کا انعام آرگوس کی ہیلن سے لے کر بے چاری پینی لوپی کو دے دیا۔“

بے چاری پینی لوپی۔ پینی لوپی رچ۔

وہ اوکونل اسٹریٹ پار کرنے کو تیار ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں