پاکستان میں صحت کا بحران: علاج کس کے لیے؟- محمد وقار اسلم

جب ایوانِ اقتدار میں بیٹھے حکمران اعداد و شمار کے سراب کو اپنی کامیابی اور تشہیر کا استعارہ بنا لیں، تو سڑکوں پر سسکتا اور رُلتا ہوا بیمار صرف ایک بے بس تماشا بن کر رہ جاتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے در و دیوار پر آویزاں رنگ برنگے فلیکس، چمکتے ہوئے اشتہارات اور مسکراتی ہوئی تصویریں یہ تاثر دیتے ہیں کہ عوام کے لیے صحت کی کوئی عظیم فلاحی بہشت اتر آئی ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے دروازے آج بھی سہولتوں کی کمی، طویل انتظار اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث ایک کٹھن آزمائش بنے ہوئے ہیں۔ صحت کارڈ کے نام پر جس فلاحی انقلاب کا غلغلہ بلند کیا گیا تھا، اس کی سہولتوں اور دائرۂ کار میں آنے والی پابندیوں نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جب علاج ہی محدود ہو جائے تو عام شہری کے لیے فلاحی ریاست کے دعوے آخر کیا معنی رکھتے ہیں؟

پاکستان میں صحت کے شعبے میں بلاشبہ دعوے بہت کیے گئے ہیں، مگر زمینی حقائق سنگین تضادات کی نشاندہی کرتے ہیں، بالخصوص پسماندہ طبقات اور دیہی علاقوں میں جہاں سماجی، صنفی اور معاشی خلیج صحت کی سہولتوں تک رسائی کو مشکل بنائے ہوئے ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دیہی علاقوں میں صرف 20 فیصد گھرانوں کو پانچ کلومیٹر کے دائرے میں صحت کی سہولت میسر ہے، جبکہ شہری مراکز میں یہ شرح تقریباً 75 فیصد بتائی جاتی ہے۔ امراضِ قلب، نچلے تنفسی نظام کے انفیکشن اور زچگی کی پیچیدگیاں پاکستان میں اموات کی اہم وجوہ میں شامل ہیں۔ اصل مسئلہ صرف بیماریوں کی موجودگی نہیں، بلکہ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور قابلِ برداشت اخراجات کی عدم دستیابی بھی ہے۔

غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے بیماری اکثر ایک طبی مسئلے سے بڑھ کر معاشی تباہی بن جاتی ہے۔ ان کے پاس نہ مناسب سماجی تحفظ ہوتا ہے اور نہ ہی علاج کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کی سکت۔ پاکستان میں زچگی کی شرحِ اموات فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر تقریباً 178 بتائی جاتی ہے، جبکہ سری لنکا میں یہ شرح تقریباً 30 ہے۔ اسی طرح بچوں کی اموات کے معاملے میں بھی پاکستان کو خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض رپورٹوں کی سطریں نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی داستان ہیں جن کے لیے بروقت طبی امداد اور مناسب سہولتوں کی عدم دستیابی زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مفلوک الحال شہری کی جان اور اس کی آخری سانس کی قیمت صرف چند مخصوص امراض تک محدود ہے؟ کیا غریب کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو جائیں، جگر کی بیماری شدت اختیار کر جائے، پتے میں شدید سوزش یا پتھری ہو، معدے کے پیچیدہ عوارض لاحق ہوں یا خون کا کینسر تشخیص ہو جائے، تو یہ بیماریاں ریاست کی ترجیحات سے باہر ہو جاتی ہیں؟ کیا پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا شہری کے مقدر میں صرف قرض، ذلت اور بے بسی رہ گئی ہے؟ اگر صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے تو پھر علاج کی سہولت بیماری کی نوعیت اور مریض کی مالی حیثیت کے مطابق کیوں بدل جاتی ہے؟

صحت کے شعبے پر نظر ڈالی جائے تو مختلف سیاسی حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں کئی اقدامات کیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ’’وسیلہ صحت‘‘ کے نام سے مائیکرو ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کرائی گئی۔ اس کے بعد 2015 میں نواز شریف کی حکومت نے وزیراعظم کا نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کیا، جبکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی (PHIMC) قائم کی تاکہ طبی سہولتوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔

بعد ازاں عمران خان کی حکومت نے صحت کارڈ اسکیم کو وسعت دیتے ہوئے اسے زیادہ وسیع آبادی تک پہنچانے کی کوشش کی۔ فروری 2021 میں فی خاندان سالانہ دس لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت کا اعلان اس پروگرام کا نمایاں مرحلہ تھا۔ اس منصوبے نے ان خاندانوں میں امید پیدا کی جن کے لیے کسی بڑے آپریشن یا سنگین بیماری کا خرچ برداشت کرنا ممکن نہیں تھا۔ تاہم، کسی بھی صحت بیمہ پروگرام کی پائیداری کے لیے مالی منصوبہ بندی، اخراجات کا درست تخمینہ اور باقاعدہ جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ اپریل 2019 میں جرمن ادارے جی آئی زیڈ (GIZ) اور بین الاقوامی ادارۂ محنت (ILO) سے منسوب مشترکہ ایکچوریل مطالعے میں بھی اس نوعیت کے پروگراموں کے اخراجات، مریضوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور علاج کی مہنگائی سے پیدا ہونے والے دباؤ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ہر دو سال بعد اس نوعیت کا جائزہ لینے کی تجویز پر عمل نہ ہونا بھی ایک اہم سوال ہے۔

یہاں بنیادی سوال کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبے سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ کیوں غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ اگر صحت کارڈ ایک مؤثر سہولت تھا تو اس کی مالی پائیداری کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کیوں نہ کی گئی؟ اور اگر اس میں خامیاں تھیں تو ان کی اصلاح کے بجائے عام شہری کے علاج کا دائرہ محدود کرنا ہی کیوں آسان سمجھا گیا؟ عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود ان کے علاج کی ضمانت دے سکے۔

میں نے ایک ہفتے کے دوران مختلف تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں (THQs) اور بڑے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کیا۔ مختلف مراکز میں طبی سہولتوں اور مریضوں کو درپیش مسائل کا جو مجموعی منظر سامنے آیا، وہ نہایت افسوس ناک تھا۔ ہسپتالوں کے بارے میں سرکاری دعووں اور عام شہری کی عملی مشکلات کے درمیان موجود خلیج کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ کسی بھی ہسپتال کی کامیابی کا معیار اس کی عمارت، بیرونی رنگ و روغن یا افتتاحی تقریب نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں پہنچنے والے مریض کو بروقت معائنہ، ضروری ادویات، مناسب بستر، تشخیصی سہولت اور باعزت رویہ میسر آتا ہے یا نہیں۔ میرے ان دوروں کا حاصل یہی احساس تھا کہ صحت کے نظام کا جائزہ اشتہارات اور اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر مریض کے تجربے کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔

لاہور کا سروسز ہسپتال ہو یا تاریخی میو ہسپتال، وہاں روزانہ آنے والے ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین کا ہجوم اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر غیر معمولی دباؤ ہے۔ ان اداروں کی عمارتوں کی تزئین و آرائش اپنی جگہ، مگر مریض کو اصل ضرورت علاج، ادویات، مناسب بستر اور انسانی ہمدردی کی ہوتی ہے۔ اگر ایک مریض کو ضروری سہولت میسر نہ ہو اور اس کے لواحقین کو بنیادی ضروریات کے لیے بھی دربدر ہونا پڑے تو عمارت کے رنگ اور راہداریوں کی آرائش اس کی تکلیف کم نہیں کر سکتے۔ ہسپتال کو خوب صورت بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے اندرونی نظام کو بھی مؤثر بنانا ضروری ہے۔

جناح ہسپتال لاہور سمیت بڑے تدریسی ہسپتالوں کی صورتِ حال کا جائزہ بھی اسی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ ان اداروں پر مریضوں کے علاج کے ساتھ طبی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، مگر مریضوں کی بڑی تعداد، محدود وسائل، انتظامی مسائل اور سہولتوں کی دستیابی سے متعلق شکایات ان کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ستمبر 2026 میں جناح ہسپتال کے آئی وارڈ میں آگ لگنے کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس کے بعد مریضوں اور تیمارداروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایسے واقعات ہسپتالوں میں برقی نظام، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردِعمل کی مسلسل نگرانی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ اسی ماہ جناح ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی کی خبر بھی سامنے آئی۔ انتظامی تبدیلیاں اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ان سے مریضوں کی سہولت، نظم و ضبط اور علاج کے معیار میں حقیقی بہتری آتی ہے یا نہیں۔

صحت کے شعبے کی نگرانی کا مطلب صرف اچانک دورے، افسران کو ہدایات اور بعد ازاں پریس ریلیز جاری کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی، بستروں کی تعداد، انتظار کے دورانیے، مشینری کی فعالیت، عملے کی حاضری اور مریضوں کی شکایات کے بارے میں شفاف معلومات سامنے لائی جائیں۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہسپتال میں کون سی سہولت دستیاب ہے، کون سی مشین خراب ہے، آپریشن کے لیے کتنے مریض انتظار کر رہے ہیں اور کسی کمی کو دور کرنے کی ذمہ داری کس افسر پر عائد ہوتی ہے۔

بدانتظامی اور وسائل کی کمی کا ایک اہم پہلو سرجریوں کے لیے طویل انتظار بھی ہے۔ سروسز ہسپتال کے بارے میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس کی سرکاری گنجائش 1600 بستروں پر مشتمل ہے، جبکہ مختلف آپریشنوں کے منتظر مریضوں کی تعداد 8,800 سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض معمول کی سرجریوں کے لیے مریضوں کو ڈیڑھ سال بعد کی تاریخیں دی جاتی ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال برقرار ہے تو یہ محض انتظامی تاخیر نہیں، بلکہ ایسے مریضوں کے لیے ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے جن کی بیماری انتظار کے دوران مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اسی طرح پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) لاہور میں اوپن ہارٹ سرجری کے منتظر مریضوں کے لیے طویل انتظار کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ دل کے مریض کے لیے مہینوں کی تاخیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ اگر کسی مریض کو سرکاری نظام میں بروقت آپریشن کی تاریخ نہ ملے تو اسے متبادل علاج کی تلاش میں شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سرکاری ڈاکٹروں کے نجی کلینکس میں فیس دے کر نسبتاً جلد سہولت ملنے سے متعلق شکایات بھی شفاف تحقیقات کی متقاضی ہیں۔ اگر سرکاری وسائل اور نجی علاج کے درمیان کسی قسم کا غیر منصفانہ تعلق موجود ہے تو اس کی جانچ ہونی چاہیے، کیونکہ سرکاری ہسپتالوں کی سہولتیں عوام کے ٹیکس سے چلتی ہیں اور ان تک رسائی میں مالی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔

پنجاب میں صحت کارڈ کی پالیسی بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ 2025 کے وسط میں سامنے آنے والی اطلاعات اور نوٹیفکیشن کے مطابق، سرکاری ہسپتالوں میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی سہولت کے دائرے میں تبدیلی کی گئی، جبکہ پروگرام کی کوریج مخصوص نجی ہسپتالوں تک محدود رہ گئی۔ بعض علاج کی اقسام اور شرائط کے حوالے سے مریضوں کو اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنے کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔ وزیرِ صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے 2024 میں صحت کارڈ کی حد دس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ روپے کرنے کا عندیہ دیا تھا، مگر اس کے بعد پروگرام کی عملی صورت اور دستیاب سہولتوں کے حوالے سے سوالات برقرار رہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحت کارڈ کے تحت کون سا علاج، کن ہسپتالوں میں اور کن شرائط پر دستیاب ہے۔ ایسی پالیسی میں تبدیلی ہو تو اس کی واضح وضاحت اور مریضوں کے لیے متبادل انتظام لازمی ہونا چاہیے۔

پنجاب کے وزیرِ صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے اگست 2026 میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بھوانہ کے اچانک دورے کے دوران طبی خدمات، ایمرجنسی اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو ضابطوں پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی۔ سرکاری ہسپتالوں کے معائنے اور ہدایات یقیناً انتظامی نگرانی کا حصہ ہیں، مگر ایسے دوروں کی کامیابی کا اصل معیار ان کے بعد آنے والی تبدیلی ہے۔ اگر کسی ہسپتال میں ادویات کی کمی، عملے کی عدم دستیابی، مشینری کی خرابی یا مریضوں کے لیے مشکلات سامنے آئیں تو ان کے حل کی مدت اور پیش رفت بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ ہدایات اس وقت نتیجہ خیز بنتی ہیں جب ان پر عمل درآمد کی نگرانی اور جواب دہی کا نظام بھی موجود ہو۔

حکومت کی جانب سے موبائل ہسپتالوں اور چلتے پھرتے طبی مراکز جیسے منصوبے متعارف کرائے جاتے ہیں۔ بنیادی معائنے اور ابتدائی طبی امداد کے لیے یہ سہولتیں مفید ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی افادیت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب مریض کو پیچیدہ بیماری کی صورت میں بڑے ہسپتال تک بروقت رسائی بھی حاصل ہو۔ بڑی سرجری، سرطان، دل کے پیچیدہ امراض یا گردوں کے سنگین مسائل میں مبتلا مریض کو بالآخر میو ہسپتال، جناح ہسپتال یا کسی دوسرے بڑے طبی ادارے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہاں ضروری ادویات، بستر، تشخیصی سہولت یا آپریشن کی بروقت تاریخ دستیاب نہ ہو تو ابتدائی طبی امداد مریض کے مکمل علاج کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اب ذرا صحت کے شعبے کے لیے مختص رقوم اور عوام کو ملنے والی سہولتوں کے درمیان تعلق پر غور کیجیے۔ پنجاب کے بجٹ میں صحت کے لیے 500.62 ارب روپے مختص کیے جانے کا عدد سامنے آیا، جبکہ چاروں صوبوں اور وفاق کے مجموعی صحت بجٹ کے بارے میں تقریباً 1.3 ٹریلین روپے کا تخمینہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں امراضِ قلب کے یونٹس اور سی ٹی اسکین مشینوں کے لیے 9.30 ارب روپے مختص کیے گئے۔ اس کے علاوہ مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت ہسپتالوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے لیے رقوم مختص کی گئیں۔ نگران حکومت کے دور میں محسن نقوی کی انتظامیہ کے ہسپتالوں کی بہتری اور اپ گریڈیشن سے متعلق منصوبوں پر ساٹھ ارب روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔ خیبر پختونخوا کے لیے 334 ارب روپے کے صحت بجٹ کا عدد بھی پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن بجٹ کے حجم کے باوجود بنیادی سہولتوں کی دستیابی اور معیار کے بارے میں سوالات ختم نہیں ہوئے۔

یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کتنی رقم مختص کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ اس رقم سے مریض کو کیا ملا؟ کیا ہسپتالوں میں ضروری ادویات دستیاب ہیں؟ کیا تشخیصی مشینیں فعال ہیں؟ کیا آپریشن کے منتظر مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے؟ کیا دیہی علاقوں میں ڈاکٹر اور طبی عملہ دستیاب ہیں؟ اور کیا سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے غریب شہری کو علاج کے لیے اپنی جیب سے ادویات، انجیکشن، آکسیجن یا بنیادی ٹیسٹ خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے؟ بجٹ کی رقم اسی وقت عوامی فلاح میں تبدیل ہوتی ہے جب اس کے نتائج عام شہری کی زندگی میں دکھائی دیں۔

اگر صحت کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر ایک عام شہری کو ہسپتال کی ایمرجنسی میں زندگی بچانے والا انجیکشن، آکسیجن کا سلنڈر یا خون کے بنیادی ٹیسٹ کے لیے نجی لیبارٹری کا رخ کیوں کرنا پڑے؟ کیا عالیشان عمارتیں، ماربل کے چمکتے ہوئے فرش اور شیشے کے دروازے کسی مریض کے جگر کا انفیکشن یا گردے کا درد ٹھیک کر سکتے ہیں؟ عمارتوں کی بہتری ضروری ہے، لیکن اس سے زیادہ ضروری علاج کی دستیابی، طبی عملے کی تربیت، ادویات کی مسلسل فراہمی اور مریضوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہے۔ ہسپتال کا معیار اس کی دیواروں سے نہیں، وہاں آنے والے مریض کو ملنے والی سہولت سے جانچا جانا چاہیے۔

اس صورتِ حال پر طبی شعبے سے وابستہ ماہرین کی یہ رائے قابلِ غور ہے کہ صرف ڈاکٹروں کو معطل کرنے، ان کے موبائل فون بند کرنے یا انتظامی کارروائیوں سے ہسپتالوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جب تک بجٹ کی ضروریات پوری نہیں کی جاتیں، ڈاکٹر اور دیگر عملہ بھرتی نہیں ہوتا، مشینری کی مرمت نہیں کی جاتی اور ادویات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، مریضوں کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ ہسپتال کا ماحول صرف سخت احکامات سے نہیں، بلکہ وسائل، نگرانی، جواب دہی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بہتر ہوتا ہے۔

یہ تاثر بھی قابلِ غور ہے کہ صحت کارڈ جیسے پروگرام خزانے پر بوجھ ہیں۔ ہر سرکاری منصوبے کی مالی پائیداری کا جائزہ لینا ضروری ہے، لیکن اس کا حل غریب مریض کو علاج سے محروم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی پروگرام میں مالی بے ضابطگیاں، غلط ادائیگیاں یا انتظامی خامیاں موجود ہیں تو ان کی نشاندہی اور اصلاح کی جائے۔ صحت کارڈ کی کوریج، اخراجات اور نتائج کا باقاعدہ آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ عوامی رقم درست جگہ خرچ ہو اور مستحق مریض کو فائدہ پہنچے۔ ایک فلاحی ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ شہری کو بیماری کے وقت تنہا نہ چھوڑے۔

خیبر پختونخوا سے پنجاب تک صحت کا شعبہ سیاسی کشمکش سے محفوظ نہیں رہا۔ مختلف حکومتیں ایک دوسرے کے منصوبوں کو سیاسی نعرہ، ناکام تجربہ یا بدعنوانی کا ذریعہ قرار دیتی رہی ہیں۔ اگر کسی منصوبے میں بے ضابطگیاں ہیں تو ثبوت کے ساتھ کارروائی کی جائے، مگر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر علاج کی سہولتیں محدود کرنا عام شہری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک دہاڑی دار مزدور، کم آمدنی والا کلرک یا بے روزگار شہری مہنگائی کے اس دور میں بڑے علاج کے اخراجات کہاں سے برداشت کرے؟ صحت کا نظام سیاسی فٹ بال نہیں بننا چاہیے۔ بنیادی مراکزِ صحت سے لے کر بڑے تدریسی ہسپتالوں تک ہر ادارے کی کارکردگی کا معیار مریض کو ملنے والی سہولت ہونا چاہیے، نہ کہ افسر شاہی کے دعوے اور سیاسی تشہیر۔

اس تمام صورتِ حال میں سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن، انڈس ہیلتھ نیٹ ورک اور ایدھی فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں مختلف شعبوں میں طبی امداد، ایمبولینس سروسز اور کمیونٹی سطح پر سہولتوں کی فراہمی میں حصہ لیتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO)، یونیسیف (UNICEF)، گلوبل فنڈ اور یو ایس ایڈ (USAID) جیسے ادارے بھی ویکسینیشن، زچگی کی صحت اور دیگر طبی پروگراموں میں معاونت کرتے رہے ہیں۔ تاہم، غیر سرکاری تنظیموں کی کوششیں ریاست کی بنیادی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کی سرپرستی کرتے ہوئے اپنے سرکاری نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ علاج کسی عطیے یا اتفاق پر منحصر نہ رہے۔

پاکستان میں صحت کے حقیقی انصاف کے لیے ضروری ہے کہ نجی شعبے میں علاج کے اخراجات اور خدمات کو مؤثر طور پر منظم کیا جائے، بنیادی طبی مراکز کو جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے سے آراستہ کیا جائے، دیہی علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں تک رسائی بہتر بنائی جائے اور ٹیلی میڈیسن و ڈیجیٹل صحت کے نظام کو عملی طور پر مؤثر بنایا جائے۔ بڑے ہسپتالوں میں ادویات اور مشینری کی دستیابی، سرجریوں کی انتظار فہرستوں اور مریضوں کی شکایات کا باقاعدہ ریکارڈ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ صحت کے شعبے میں مختص بجٹ اور منصوبوں کے نتائج کا آزادانہ جائزہ بھی ضروری ہے۔ جب تک صحت کے نظام کو سیاسی مصلحتوں سے نکال کر انسانی ہمدردی، شفافیت اور جواب دہی کی بنیاد پر استوار نہیں کیا جاتا، عام آدمی کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

یہ کیسا فلاحی ریاست کا خواب ہے جہاں علاج غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے؟

بیماری غریب کی دائمی تقدیر بنا دی گئی ہے اور ایوانِ اقتدار کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے حکمران اور بیوروکریٹس اعداد و شمار کے دلکش غباروں کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ آج اگر ریاست اور اس کے حکمران عوامی بے چینی کو کم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اشتہاری مہموں، میڈیا کیمروں کی چمک اور دیواروں کے رنگ بدلنے کے مشغلوں سے آگے بڑھ کر زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ صحت کی سہولت کو منافع بخش کاروبار یا سیاسی نعرے کے بجائے ہر شہری کا بنیادی آئینی اور انسانی حق تسلیم کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر عام آدمی اسی فرسودہ نظامِ طبابت میں علاج کے لیے دربدر رہے گا، جبکہ ایوانوں میں بیٹھے تماشائی محض تالیاں بجاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں