آپ کو شادی کرنی ہے یا AI روبوٹ چاہیے؟- نادیہ زید

ہمارے ہاں شادی کے بعد شریکِ حیات کی اصلاح کا شوق خاصا عام ہے۔ بعض لوگ اس کارِ خیر میں ایسی جانفشانی دکھاتے ہیں کہ رفتہ رفتہ انسان میں سے انسان ہی نکال دیتے ہیں۔ پھر شکایت بھی کرتے ہیں کہ اب اس میں پہلے والی بات نہیں رہی۔

کچھ برس پہلے بلیک مرر کی ایک قسط Be Right Back دیکھی تھی۔ اس میں مارتھا نام کی ایک لڑکی کا محبوب ایش ایک حادثے میں مر جاتا ہے۔ مارتھا حاملہ ہوتی ہے اور اس کی ناگہانی موت کا صدمہ وبرداشت نہیں کرپاتی۔ انہی دنوں اسے ایک ایسی ٹیکنالوجی کا پتا چلتا ہے جو مرنے والوں کی تصویروں، پیغامات اور انٹرنیٹ پر موجود معلومات کی مدد سے ان کی شخصیت کی نقل تیار کرسکتی ہے۔ پہلے ایش کے نام سے پیغامات آنے لگتے ہیں، پھر مارتھا اس کی آواز میں باتیں کرنے لگتی ہے، یہاں تک کہ ایک روز ایش کی ہوبہو شکل کا ایک مصنوعی انسان بھی اس کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ وہی صورت، وہی آواز، وہی ہنسی، حتیٰ کہ بات کرنے کا انداز بھی وہی۔

یوں مارتھا کو اپنا کھویا ہوا محبوب واپس مل جاتا ہے، مگر اس ایش میں ایک عجیب بات ہے۔ وہ نہ کبھی ناراض ہوتا ہے، نہ کسی بات پر اڑتا ہے، نہ اپنی مرضی ظاہر کرتا ہے۔ مارتھا جو کہتی ہے، بلا چون و چرا مان لیتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کی یہی فرماں برداری مارتھا کو کھلنے لگتی ہے۔ ایک روز زچ ہوکر اسے گھر سے نکل جانے کو کہتی ہے تو وہ خاموشی سے چلا جاتا ہے۔ پھر اسے ایک چٹان پر لے جاکر نیچے کودنے کا حکم دیتی ہے تو اس پر بھی آمادہ ہوجاتا ہے۔ مارتھا جھنجھلا اٹھتی ہے کہ اصل ایش ہوتا تو ڈرتا، احتجاج کرتا، اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا۔ مصنوعی ایش فوراً اسی کے مطابق برتاؤ کرنے لگتا ہے۔ یہ دیکھ کر مارتھا مزید بددل ہوجاتی ہے۔ اب نہ اسے اپنے پاس رکھنا گوارا ہے، نہ ہمیشہ کے لیے اس سے چھٹکارا پانے پر دل آمادہ ہوتا ہے۔ آخرکار اسے گھر کے بالاخانے میں رکھ چھوڑتی ہے۔

مصنوعی ایش کی جن عادتوں سے مارتھا بیزار ہوگئی تھی، ہمارے ہاں انہی کو ایک مثالی بیوی کے اوصاف سمجھا جاتا ہے۔ اپنی پسند ناپسند بھول کر شوہر کی مرضی پر چلنے والی عورت بڑی سگھڑ اور سمجھ دار سمجھی جاتی ہے۔ لباس، بناؤ سنگھار، میل جول، حتیٰ کہ روزمرہ کے معمولات میں بھی بعض شوہر اپنی رائے کو حتمی سمجھتے ہیں۔ خواتین کے لباس اور بناؤ سنگھار میں اصلاح کا شوق تو بعض حضرات کو اس قدر ہوتا ہے کہ خواتین کے فیشن اور اس کے رجحانات سے اپنی ناواقفیت بھی ان کے اعتماد میں خلل نہیں ڈالتی۔ خیر، علم کی کمی سے اختیار میں کمی تو نہیں آتی، خصوصاً جب معاشرے نے یہ اختیار مرد کو اتنی فراخ دلی سے بخش رکھا ہو۔

برسوں بیوی کی پسند ناپسند پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بعد انہی حضرات کو اس کی فرماں برداری سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ شکایت ہوتی ہے کہ اس میں اب وہ پہلی سی بات کہاں۔ کسی خوداعتماد، خوش ذوق اور صاحبِ رائے عورت کی طرف دل مائل ہوتا ہے، مگر قربت بڑھتے ہی اس کی آزاد خیالی کھٹکنے لگتی ہے اور اصلاح کی مہم پھر شروع ہوجاتی ہے۔ گویا عورت کی انفرادیت سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور اسے برداشت بھی نہیں کرپاتے۔ اس سارے معاملے میں بعض عورتیں اپنی خواہشات بھلا دیتی ہیں اور بعض اپنی مرضی پر اڑ جائیں تو نافرمان ٹھہرتی ہیں۔ مارتھا کو مصنوعی ایش سے شکایت تھی کہ اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں، ہمارے ہاں بہت سے شوہروں کو بیوی سے شکایت ہوتی ہے کہ اس کی اپنی مرضی کیوں ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ مصنوعی ایش بنانے کے لیے مارتھا کو نہایت جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑا، جبکہ ہمارے ہاں بعض میاں بیوی یہ کارنامہ محض باہمی بے اعتنائی سے انجام دے لیتے ہیں، وہ بھی بلا معاوضہ۔ کیسے؟ اصل ایش تو مرچکا تھا، سو اس کی شخصیت میں اب کوئی نئی تبدیلی نہیں آسکتی تھی۔ مگر زندہ انسان بھلا کب ایک سا رہتا ہے؟ وقت کے ساتھ اس کے خیالات، شوق اور ترجیحات بدلتے رہتے ہیں۔ شادی کے آغاز میں میاں بیوی ایک دوسرے کو جاننے اور گھنٹوں باتیں کرنے میں بڑی دل چسپی لیتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ اس رفاقت کے عادی ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی قدر کرنا کم کر دیتے ہیں۔ نفسیات میں اس رجحان کو Hedonic Adaptation کہا ہے۔ پھر دوسرے کی بدلتی ہوئی دلچسپیوں اور خیالات سے واقف رہنے کا اہتمام بھی کم ہوتا جاتا ہے۔

لطف یہ ہے کہ اپنی اس بے اعتنائی کا جواز اختلافِ مزاج میں ڈھونڈتے ہیں۔ گویا ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے بھی ہم ذوق ہونا شرط ٹھہرا۔ حالانکہ محبت میں دوسرے کا ہر شوق اپنا لینا ضروری نہیں، اس کے شوق سے دل چسپی رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً مجھے لکھنے پڑھنے اور معاشرتی مسائل پر گفتگو کا شوق ہے، جبکہ میرے شوہر کی علمی دلچسپیاں مختلف ہیں۔ وہ میری تحریریں پڑھتے ہیں، میرے خیالات سنتے ہیں اور ان پر اپنی رائے دیتے ہیں۔ میں بھی ان کے کام اور مشاغل میں دل چسپی لیتی ہوں۔ یوں ایک دوسرے کی زندگی میں کیا نیا ہورہا ہے، اس کی خبر بھی رہتی ہے اور گفتگو کے نئے موضوعات بھی ملتے رہتے ہیں۔

سو ضروری ہے کہ اپنے ہم سفر کے خیالات، خواہشات اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے واقفیت رکھی جائے۔ یہ نہیں کہ وہ بات کرتا رہے اور آپ بے دھیانی میں ’’ہوں، ہاں‘‘ کرکے ایک طرف ہوجائیں۔ اسی سلسلے میں سیما آنند کی ایک پوڈکاسٹ میں بڑی اچھی بات سنی۔ ان کا مشورہ تھا کہ میاں بیوی روزانہ پندرہ منٹ ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹیں اور دن بھر کی باتیں کریں۔ ابتدا میں ٹائمر لگالیں، پھر رفتہ رفتہ یہ وقت بڑھاتے جائیں۔ اور ضروری نہیں کہ ہر بار گلے لگنے کے بعدجنسی عمل ہی ہو۔ ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے یونہی باتیں کرنے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ اس معمولی سے مشورے کی نفسیاتی اہمیت بھی کم نہ سمجھیے۔ لارنسو اور ان کے ساتھیوں نے 1998 میں انسانی قربت پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ دل کی بات کہنے کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ سننے والا اسے کس توجہ اور دل چسپی سے سنتا ہے۔ ورنہ باتیں تو دیواروں سے بھی کی جاسکتی ہیں۔ شیلی گیبل اور ان کے رفقا کی 2004 کی تحقیق میں بھی شریکِ حیات کی خوشیوں اور کامیابیوں پر گرم جوشی سے پیش آنے کا تعلق ازدواجی اطمینان سے پایا گیا۔ دکھ درد میں شریک ہونا تو محبت کا تقاضا ہے ہی، مگر کبھی اپنے ہم سفر کی چھوٹی سی خوشی پر خوش ہوکر بھی دیکھیے۔

مصنوعی ایش کے پاس اصل ایش کا ماضی تھا، مگر اس کے ساتھ کوئی نیا مستقبل نہیں بن سکتا تھا۔ حقیقی رشتوں میں بھلا یہ محرومی کیوں ہو؟ اپنے پارٹنر کے بدلتے خیالات اور نئی دلچسپیوں سے واقف رہیے، مگر اسے اپنی پسند کے سانچے میں ڈھالنے کی ضد نہ کیجیے۔ کیونکہ محبت کا مزہ بھی تو اسی میں ہے ناں کہ دو انسان اپنی اپنی شخصیت برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاریں۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں