شہباز مخلوط حکومت میں جمہوری پسپائی کے قدم رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ جمہوری پسپائی کا ایک اور بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ 2018 سے شروع ہونے والے موجودہ جمہوری زوال کا سفر غیر جمہوری حکمرانی کا دورانیہ طویل کرتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہوئی پی ٹی آئی حکومت میں غیر جمہوری قوتوں کا عمل دخل روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ اس دور میں غیر جمہوری قوتوں کے لئے ماوراء آئین اختیارات استعمال کرنے میں آسانیاں پیداکی جاتی رہیں۔اس وقت ایک پیج کی دہائی دے کر جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑائیں جاتی تھیں۔
مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے عمران خان کی انتقامی کاروائیوں کا بدلہ چکا نے کے لئے غیر جمہوری قوتوں سے ہاتھ ملانے میں ذرا دیر نہ لگائی۔دونوں جماعتوں نے اپنے منظور کردہ میثاق جمہوریت کو اپنے ہی پاوں تلے روند ڈالا۔ اس طرح 2024 کی انتخابی دھاندلی کے بطن سے موجودہ شہباز مخلوط حکومت کا جنم ہوا۔ اس حکومت میں پی ٹی آئی کو جمہوری عمل سے عملاـــََ بیدخل کر دیا گیا ہے اور پی ٹی آئی کے لئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے مواقعے بہت محدود کر دیئے گئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور انکی پارٹی پی ٹی آئی کے متعد رہنماوں کی طویل اسیری آئین و قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے دعوں کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔ جبکہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر سنسر شدہ یکطرفہ رپورٹنگ اس سیاسی بندوبست کے کھوکھلے پن کاواضع ثبوت ہے۔ اب صوبہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ نے ن لیگ اور پی پی پی کے سروں پر ایک نئی غیر جمہوری کلغی کا اضافہ کر گیا ہے۔
بے نظیر بھٹو شہید اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں جمہوری عمل آگے بڑھنے کے روشن امکان پیدا ہوئے تھے۔ صدر آصف علی زرداری کے پہلے دور صدارت اور بعد ازاں میاں نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں جمہوری قوتوں کے لئے بہتر سیاسی سپیس بننا شروع ہو گئی تھی۔ ماضی کی غیر جمہوری روایات کے برعکس مذکورہ دونوں ادوار میں بہتر جمہوری و سیاسی ماحول، آزاد عدلیہ اور اظہار رائے کی آزادی کے آثار ملتے ہیں۔ ان ادوار میں سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور انکے خلاف سیاسی مقدمات قائم کرنے سے بھی اجتناب کیا گیا تھا۔
مگر یہ جمہوری سلسلہ 2018 کے انتخابات کے بعد ماضی کی طرف مراجعت کر گیا اور ایک بار پھر غیر جمہوری قوتوں کی بالادستی کا دور دورہ ہو گیا۔ تینوں بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان محاذ آرائی اور جمہوری اصولوں پر عدم اتفاق نے ریاستی نظام پر غیر جمہوری قوتوں کی گرفت کو مزید مستحکم کیا۔ان جماعتوں کی موقعہ پرستی اور اقتدار کی ہوس نے انہیں مقتدرہ کے متعین کردہ سیاسی دائروں میں مقید کر دیا۔
پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ اور مفاہمت انکے لئے جمہوری سیاست میں سپیس پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ فریق مخالف کو دیوار سے لگا کر مذاکرات کی دعوت دینے کو مناسب سیاسی ماحول قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر بلاول بھٹو حقیقاََ ملک میں سیاسی محاذ آرائی کا خاتمہ اور جمہوری عمل کا تسلسل چاہتے ہیں تو انہیں پی ٹی آئی کو سیاسی میدان میں مناسب جمہوری سپیس فراہم کرنے کے لئے آواز بلند کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ چھبیسویں اور ستائسویں آئینی ترامیم اور شہباز مخلوط حکومت کی ہمنوائی نے پی پی پی کے جمہوری چہرے کو داغدار کر دیا ہے۔


