ناصر باغ تاریخ کے اوراق میں زندہ لاہور کا ایک باغ/ ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

لاہور کے تاریخی مقامات میں ناصر باغ ایک ایسی جگہ ہے جس کے درختوں کی جڑوں میں سیاسی جدوجہد، طلبہ کی آوازیں اور شہر کی تہذیبی زندگی کی داستانیں محفوظ ہیں۔ یہ ایک باغ سے زیادہ لاہور کی اجتماعی تاریخ کی کھلی کتاب ہے جسے آپ کو لازمی پڑھنا چاہیئے۔

یہ باغ لاہور کی مال روڈ و کچہری روڈ کے بیچ، پاکستان پوسٹ کے دفتر کے سامنے واقع ہے۔
برطانوی دورِ حکومت میں ناصر باغ بینڈ اسٹینڈ گارڈن (Band Stand Garden) کہلاتا تھا، کیونکہ یہاں فوجی بینڈ کی دھنیں بجائی جاتی تھیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد اس کا نام گول باغ مشہور ہوا۔ بعدازاں مصر کے معروف صدر جمال عبدالناصر کے نام پر اسے ناصر باغ کہا جانے لگا۔ یوں اس باغ کے نام بھی برصغیر کی تاریخ اور بدلتے زمانوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

کسی بوڑھے بابے کی طرح ناصر باغ نے برطانوی عہد سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد کے کئی اہم ادوار دیکھے ہیں۔

اسد سلیم شیخ صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ،
1849 میں یہاں ”الحاق پنجاب“ کا ایک تاریخی اجتماع ہوا جس میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور ان کی اہلیہ، رنجیت سنگھ کے بیٹے مہاراجا دلیپ سنگھ، پنجاب کے نوابین، اور یاستوں کے حکم رانوں نے شرکت کی۔ اس روز لارڈ ڈلہوزی نے ’’الحاق پنجاب‘‘ اور سکھوں کے پنجاب پر اقتدار کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر راجے مہاراجے اپنے ہتھیاروں اور پوری زیبایش و آرایش کے ساتھ یہاں آئے تھے۔

لیکن
یہ تقریب لاہور کے شاہی قلعے میں ہوئی تھی جہاں دیوان عام میں اس کی یادگاری تختی بھی لگائی گئی تھی جو اب موجود نہیں۔
اسی باغ میں 1912 میں لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر ایل ڈبلیو ڈین نے بٹن دبا کر لاہور میں بجلی کا افتتاح بھی کیا تھا۔

قیام پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کی تحریک سول نافرمانی کے دوران جنوری 1947 کو تقریباً دس ہزار خواتین کا اجتماع اسی باغ میں ہوا۔ یہی اجتماع جلوس کی شکل میں سول سیکرٹریٹ پہنچا اور صغرا فاطمہ نے سیکرٹریٹ پر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا۔
بعد کے زمانوں میں یہ باغ عوامی اجتماعات، سیاسی جلسوں اور احتجاجی تحریکوں کے لیے ایک نمایاں جگہ بن گیا جہاں سردار عبدالرب نشتر، ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف جیسے سیاستدانوں نے تقاریر کیں۔
آج یہاں مختلف اداروں کے تھیسز اور فائن آرٹس کے شاہکار بھی نمائش کے لیئے پیش کیئے جاتے ہیں۔ ہم نے بھی ”لاہور بینالے“ یہاں دیکھ رکھا ہے۔

ناصر باغ کی پہچان صرف اس کی ہریالی نہیں، بلکہ اس کی سیاسی اور سماجی تاریخ بھی ہے۔
یہاں مختلف ادوار میں سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیے، کارکنوں نے اپنے مطالبات پیش کیے اور طلبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ باغ لاہور کی اس روایت کا حصہ رہا ہے جس میں عوامی مقامات نے اجتماعی شعور اور اظہارِ رائے کے لیے جگہ فراہم کی۔
ایک وقت وہ بھی آیا جب اسے ختم کر کے یہاں پارکنگ پلازہ بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کی لاہور کے تمام حلقوں نے بھرپور مخالفت کی۔

گورنمنٹ کالج لاہور، پنجاب یونیورسٹی کے تاریخی علاقے، اردو بازار اور پرانے انارکلی بازار کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ناصر باغ کے گرد ہمیشہ علمی، ادبی اور شہری زندگی کی رونق رہی ہے۔ اس کے قرب و جوار نے اسے لاہور کے ثقافتی منظرنامے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں