چار اعشاریہ سات دہائیاں اور عدالتیں/ شہناز احد

یہ کل کی بات ہے، ایک مدت بعد اس احاطے میں داخل ہوتے ہوئے مجھے عجیب سا لگ رہا تھا۔ بہت کچھ بدلا بدلا سا تھا۔ اس مدت کا دورانیہ چار اعشاریہ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔

اس احاطے میں داخلے سے قبل جس مقام پر گاڑی سے یہ کہہ کے کہ کیمرے لگے ہیں، صرف اسٹیکر والی گاڑی اندر جا سکتی ہے، اترنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اس گیٹ کے ساتھ ایک میلی سی چادر میں آدھا بندھا، آدھا کھلا دیگچہ اور کچھ جھانکتی ہوئی میلی پلیٹیں گزرے دن اور موجودہ دن کی کہانی کہہ رہی تھیں۔

اندر داخلے کی سڑک شہر کی دیگر سڑکوں کی طرح زخمی اور ادھڑی ہوئی تھی، جس پر ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھنا پڑتا ہے۔ چلتے ہوئے مختلف اشیا پر مشتمل کوڑے کے ڈھیر ملتے رہے۔ یہ شاید اس بات کی نشاندہی تھی کہ ہم خود کو آؤٹ آف پلیس نہ سمجھیں۔

ادھر سے اُدھر لوگ دھیمے، تیز قدموں سے مسلسل چل رہے تھے۔ احاطے میں مختلف النسل درجنوں، درجنوں گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ادھر سے اُدھر چلتے لوگ بھی مختلف النسل ہی تھے۔

اس احاطے میں ایک دوسرے کے آگے پیچھے چلتے ہوئے، ایک پرانے، بوڑھے برگد کے نیچے سے گزرتے ہوئے مجھے چار اعشاریہ سات دہائیاں قبل کا وہ وقت بے اختیار یاد آگیا، جب اس احاطے کی راہیں پختہ اور چٹ صاف ہوتی تھیں۔ پیوند زدہ قمیض، گھٹنوں سے اونچی لنگی پہنے ایک بوڑھا جھاڑو اور ٹوکری پکڑے یوں کھڑا ہوتا تھا جیسے پتا گرنے کے انتظار میں کھڑا ہو۔

مجھے اس احاطے میں کھڑی ہونے والی وہ باعزت گاڑیاں بھی بے اختیار یاد آئیں، جن سے برآمد ہونے والی ان قدآور شخصیات کو وہاں کھڑا ہر شخص نام سے جانتا تھا۔ وہ سب اتنے دھیمے سروں میں ایک دوسرے سے بات کرتے تھے کہ صرف برابر کھڑا فرد ہی سن سکتا تھا، جن کے قدم بھی بے آواز ہوتے تھے۔

آج اس راستے پر چلتے ہوئے مجھے کسی بازار سے گزرنے کا احساس ہو رہا تھا، کیونکہ بار بار برابر سے گزرنے والے فرد سے خود کو بچانے کی کوشش کرنی پڑ رہی تھی۔

جس احاطے میں چلتے ہوئے میں من ہی من میں چار اعشاریہ سات دہائیوں پرانی یادوں کو دہرا رہی تھی، وہ احاطہ سندھ ہائی کورٹ کا تھا۔ 54,407 اسکوائر میل کے قطعۂ زمین پر، جہاں چار اعشاریہ سات دہائیاں قبل ہم بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے مقدمات کی سماعت سننے کے لیے ان کے وکیلوں کی گاڑیوں میں اسمگل ہو کر اندر پہنچنے کی سعادت حاصل کرتے تھے۔

اس ہائی کورٹ کے برآمدوں میں وقار چلتا تھا اور خاموشی سانس لیتی تھی۔ اونچی چھتوں، قد آدم ہوادار کھڑکیوں اور دروازوں والے روشن کمروں میں ٹیک کی لکڑی سے بنی بینچوں پر بیٹھ کر بندہ خود کو معتبر سمجھنے لگتا تھا۔ ان کمروں میں چھت سے وابستہ لمبی راڈ والے پنکھے بھی بے آواز چلتے تھے۔

کمرۂ عدالت میں موجود وکیل اگلی صفوں میں جج کا انتظار کرتے تھے۔ جج ہو نہ ہو، کمرے میں صرف کاغذوں کے الٹنے پلٹنے اور سانس کی آواز ہوتی تھی۔ کسی جج کی عدالت میں کوئی غیر متعلقہ وکیل نہیں ہوتا تھا۔

ایک سو سولہ سال، یعنی 1866 میں، بمبئی ایکٹ کی شق بارہ کے تحت 1906 میں اس عمارت کے لیے شہر کے بیچوں بیچ کا یہ علاقہ یقیناً بہت سوچ سمجھ کر ہی چنا گیا تھا، جس کا اظہار عمارت کے ہر ہر انگ سے ہوتا بھی ہے۔

پانچ سو اڑسٹھ فٹ (568) اونچی یہ عمارت چار دہائیاں قبل دور دور سے نظر بھی آتی تھی۔ ایک مغرورانہ انداز سے کھڑی یہ عمارت صبح آٹھ بجے جاگتی ہے اور شام ساڑھے چار بجے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔

گزرے سالوں کے دوران جہاں اور بہت کچھ بدلا ہے، وہیں اس عمارت کے احاطے میں عام عمارتوں جیسی دو اور عمارتوں نے بھی جنم لیا ہے۔ یہ سندھ ہائی کورٹ کی انیکسیوں کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ ان میں سولہ عدالتیں ہیں۔ انیکسی نمبر دو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے۔

برصغیر ہندو پاکستان میں سب سے پرانا ہائی کورٹ کولکتہ میں مئی 1862 میں تعمیر ہوا۔ اس خطے میں دنیا کا سب سے بڑا ہائی کورٹ 1866 میں الہ آباد میں قائم ہوا۔ اس ہائی کورٹ میں 160 عدالتیں ہیں۔

عدالتوں کی بات کچھ زیادہ ہی دور نکل گئی، حالانکہ بات گزرے کل سے شروع ہوئی تھی۔

لوگوں سے بچتے بچاتے آخرکار ہم ہائی کورٹ کی انیکسی تک پہنچ ہی گئے۔ عدالت کی پہلی منزل تک پہنچنے کے لیے بذریعہ لفٹ اوپر پہنچے تو لفٹ سے نکلتے ہی دروازے سے چپکی کھڑی جھاڑو، کچرے کے تھیلوں، تھیلیوں اور ایسی ہی دیگر چیزوں نے استقبال کیا۔

ہمیں کورٹ نمبر ایک میں جانا تھا۔ کمرۂ عدالت کالے کوٹ والوں اور کچھ ہمارے جیسے بغیر کوٹ والوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہمارے کیس کا وقت گیارہ بجے تھا اور ہم سب وقت پر موجود تھے۔ گھڑی کی سوئیاں گھومے جا رہی تھیں، لیکن تھا جس کا انتظار، وہ نہیں آ پا رہے تھے۔

یہ کورٹ دو ججوں پر مشتمل تھی۔ متعلقہ، غیر متعلقہ لوگوں کی آمد و رفت مستقل جاری تھی۔ بیٹھنے والوں سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ کھڑے تھے۔ کمرے میں اتنی آوازیں تھیں کہ وہ عدالت کا کمرہ کم، اسٹیشن، ہسپتال، پکچر ہاؤس کی انتظار گاہ زیادہ لگ رہا تھا۔

کھڑے، بیٹھے افراد کے درمیان ایک بلی بھی انصاف کے لیے گھوم رہی تھی۔

اس دس بینچوں والے کمرے میں ساٹھ سے زیادہ انسان بھرے تھے۔ ان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دو ٹن والے چھ ایئر کنڈیشنر، بارہ فل اسپیڈ پنکھے اور کمرے میں بیس عدد روشنیاں آویزاں تھیں۔ پھر بھی کمرۂ عدالت ججوں کی راہ تک رہا تھا۔

ان کی آمد کی اطلاع دینے والا ہرکارہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایسے اشارے کرتا کہ بس، جج آئے کہ آئے۔ سب کے ساتھ کمرے میں بیٹھی مستقل یہ سوچتی رہی کہ ہم ٹیکس دینے والوں کا پیسہ کہاں کہاں اور کس بے دردی سے خرچ ہوتا ہے۔ اس ملک کی قسمت کبھی نہیں بدلے گی۔ ہم غربت کی لکیر سے نیچے اور نیچے جاتے رہیں گے۔

بارہ بج کر بیس منٹ پر میری سوچوں کو جھٹکا لگا کہ کچھ اونچائی پر رکھی دو کرسیوں کے پیچھے دو افراد نمودار ہو چکے تھے۔ یہ عدالت نمبر ایک کے جج تھے۔

وکیل کیا کہہ رہے تھے، وہ کیا سن رہے تھے، صاحبِ معاملہ کے بعد صرف خدا کو معلوم ہے۔ کمرے میں گفتگو اور فون بجنے کا سلسلہ جاری تھا۔ عدالتی ہرکارے نے باآواز بلند لوگوں کو خاموش رہنے کی آواز بھی لگائی۔

آوازوں کے اسی شور میں ہمارے کیس کا نام پکارا گیا۔ سابقہ روایات کے عین مطابق سرکاری وکیل نے وقت کے حصول کے لیے ایڑیاں رگڑنی شروع کر دیں۔

ہماری وکیل سارہ ملکانی نے جج صاحبان کو سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ گزشتہ سماعت مکمل نہ ہونے کے سبب اس دوران ’’بند گٹروں کی صفائی کرنے والے خاندانوں میں سے ایک جیتا جاگتا انسان اور کم ہو گیا ہے۔‘‘

عدالتوں کے پیچ و خم میں گھومتا یہ مقدمہ نعیم صادق اور سول سوسائٹی کی جانب سے گٹروں اور نالوں کی صفائی کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ ہر سال صفائی کا یہ انتہائی غیر انسانی اور غیر مہذب طریقہ درجنوں گھروں کے چراغ گل کر دیتا ہے۔

نئی تاریخ کی گرہ لگاتے، اسی ہجوم میں سے جگہ بناتے، اسی راستے پر چلتے، امید کی ڈور پکڑے، روشن صبح کے انتظار میں واپس آ گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں