مذہبی جماعتوں کا مستقبل مخدوش ہے؟- اسلم اعوان

مولانا فضل الرحمن قومی سیاست اور ملکی امور میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو برقرار رکھنے کی شاید آخری کوشش کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں اس بات کا ادراک ہو کہ مستقبل کی سیاست میں علما کرام اور مذہبی اداروں کے لیے اپنی موجودہ حیثیت اور اثرورسوخ برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

امرِ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران مذہب کے نام پر ہونے والی جنگوں، مسلح جہادی تحریکوں اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں نے مسلم دنیا کو داخلی انتشار اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عالمی طاقتوں نے بھی مختلف ادوار میں اپنے تزویراتی مفادات کے لیے مذہبی جذبات اور مسلح گروہوں کو استعمال کیا، خاص کر سرد جنگ کے دوران مذہبی تحریکوں نے عالمی تنازعات میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ، جس کے اثرات آج بھی مسلم معاشروں کو وقف اضطراب رکھے ہوئے ہیں۔

اسی تناظر میں پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد نے ہزاروں انسانوں کی جانیں لیں، معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا اور ہمارے باہم مربوط روایتی سماج کو گہری تقسیم سے دوچار کیا۔ اسی طرح توہین مذہب کے الزامات کے تحت ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ یا بے بس افراد کا ہولناک قتل، طویل قید و بند اور مسلسل خوف و ہراس نے انسانی وقار، قانون کی بالادستی اور معاشرتی رواداری جیسے بنیادی اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

ان حالات میں مذہب کے نام پر سیاسی اور سماجی غلبہ قائم کرنے والی تحریکوں کے بارے میں عوامی سطح پر بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ فطری ہے۔ تاہم، یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مذہبی تحریکوں سے وابستہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف ردعمل بڑھ رہا ہے، نہ صرف پوری نوع انسانی بلکہ تمام مسلم معاشرے بھی یکساں طور پر مذہبی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔

ایران کی طویل مذہبی آمریت نے ایک پر شکوہ تہذیب اور وہاں کے معاشرتی ارتقاء کو منجمد کرکے انہیں کبھی نہ تھمنے والی جنگووں کا مزہ چکھایا۔ اسی طرح افغانستان میں طالبان کی حکمرانی بھی اسی طرح کی بحث کا ایک اہم پہلو بنی ہوئی ہے۔ ان کے طرز حکومت نے خواتین پر عائد پابندیوں، شہری آزادیوں کی تحدید اور مذہبی تعبیرات کے ریاستی نفاذ کے ذریعے نہ صرف عالمی سطح پر تشویش پیدا کی بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی ایک بنیادی سوال کو جنم دیا کہ کیا مذہب کی بنیاد پر قائم سیاسی نظام معاشرتی انصاف، انسانی آزادی اور اجتماعی ترقی کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے؟ طالبان کا طرز حکمرانی مذہبی سیاست کے لیے ایک ایسا چیلنج بن چکا ہے جس کے اثرات پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے سیاسی بیانیے کا دیر تک تعاقب کرتے رہیں گے ۔

اسی پس منظر میں یہ امکان بھی قابل غور ہے کہ مستقبل میں مذہبی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے مطالبات زور پکڑیں گے۔ تاہم، کسی بھی مذہبی جماعت کو محض اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاسی عمل سے بزور قوت باہر کرنا جمہوری اصولوں اور شہری آزادیوں کے منافی ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں جمہوریت، آئین، قانون کی بالادستی، مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کے بارے میں اپنا عملی مؤقف کس طرح واضح کرتی ہیں اور اسے اپنے طرز سیاست میں کس حد تک قابل عمل بناتی ہیں۔

شاید یہی وہ ممکنہ سیاسی تبدیلی ہے جس کا ادراک کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف مذہبی اداروں وجود ، دینی مدارس کے دوام اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں بلکہ قومی سیاست میں علما کے کردار کے لیے بھی نئی گنجائش تلاش کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں ان کے لئے ہندوستان کے علماے دیوبند کی سیاسی روایت ایک قابل غور مثال فراہم کرتی ہے، جہاں مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے نسبتاً سیکولر اور جمہوری سیاسی نظام کے اندر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس روایت سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا مذہبی قیادت اپنی فکری و مذہبی شناخت سے دست بردار ہوئے بغیر ایک ایسے سیاسی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے جس میں ریاستی اقتدار کی بنیاد کسی مذہبی تعبیر کے بجائے چار ہزار سالوں پر محیط انسانی تجربات، آئین، شہری مساوات اور جمہوری اصولوں پر قائم ہو؟

مولانا فضل الرحمٰن کے لیے اصل چیلنج شاید یہی ہے، وہ مذہبی اداروں کے تحفظ اور قومی سیاست میں علما کے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو اس سیاسی و فکری تاثر سے کس طرح الگ کرتے ہیں جو مذہبی سیاست کو انتہا پسندی، جبر اور طالبان طرزِ حکمرانی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ جب تک یہ فاصلہ واضح نہیں ہوتا، افغانستان کا طالبان ماڈل مذہبی جماعتوں کے لیے محض ایک نظریاتی مثال نہیں رہے گا بلکہ ان کی سیاسی ساکھ اور مستقبل کے امکانات کے راستے میں ایک مستقل سوالیہ نشان بھی بنا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں