ریزیلنس ۔۔۔ایک گیت۔۔۔ ہے ۔۔
تم مجھے بے شک نہ سنو۔
صرف مجھے کوئی گیت سنتے ہوئے سنو۔
اور یہ بھی سنو کہ، کتنی بار میں نے کوئی گیت سنا ؛
اتنی ہی بار مجھے سنو جتنی بار میں نے ایک ہی گیت سنا۔
تمہیں تب معلوم ہوگا کہ،
ایک گیت کے بہت سے لفظوں کو نہ جانے کتنی بار میں نے سنا۔
اس گنتی میں
ہر بار
اپنی تقسیم شدہ ذات کے ہمراہ ان گیتوں میں
منظم نظم ہوں۔
تم اس ملٹی پل نظم کو سنو گے تو؛
تب بھی تمہیں شاید
میرا کئی شاخہ
احساس سمجھ نہ آئے۔
مگر میں
ہر احساس میں منظم اور ترتیب سے ہوں۔
یہ ترتیب ہی میری ریزیلینس ہے ۔
جو گیت ہے زندگی کا
اس کی ہر تان میرے دائرہ نظم میں ہے ۔
جب تک ریزیلینس کے گیت میں صحرا کی تپتی ریت کی جفا کشی کی کھنک گھلتی رہے گی۔
یہ گیت سنتے رہو
جیسے جیسے ریت پھسلتی رہے ۔
اور پھسل کر ختم نہ ہوجائے
تم ریزیلینس سے سنتے رہنا۔۔
میری ریزیلینس کے قاتل نہ بننا ۔۔
ریزیلنس کے رقص کا ایک بھومر
بھرا گیت بھی
بہت مہلک ہوتا ہے
کہیں تم اس بگولے کی زد میں نہ آجانا ۔
یہ کسی نامعلوم بدخواہ کے لئے کارما بھی ہو سکتا ہے ۔
بھومر ایک گھومتا رقص ہے ۔
بھومر کا بگولہ گھوم کر واپس وہیں آتا ہے۔
۔۔
صادقہ نصیر رانا۔۔۔


