معلومات، شعور اور سوال کی طاقت(2)- وحید مراد

عام طور پر لوگ معلومات جمع کرنے، صورتِ حال کو سمجھنے، اس کا تجزیہ کرنے اور سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنے کے بجائے کسی دوسرے کی رہنمائی پر چلنا آسان سمجھتے ہیں۔ پھر مشکل پیش آئے تو ذمہ داری بھی دوسروں پرہی ڈال دیتے ہیں۔ آج ہر شعبے کے ماہرین اپنے کام میں مصروف ہیں اور ہر مریض کی تمام جزئیات یاد رکھنا ان کے لیے بھی ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان چھوٹے سے چھوٹے فیصلے میں بھی غفلت نہ برتے، سوال جواب کے ذریعے صورتِ حال کو سمجھے اور ماہرین کے فیصلوں میں خود بھی شریک ہو۔

بچپن سے معلومات جمع کرنے، صورتِ حال کو سمجھنے، تجزیہ کرنے اور سوال اٹھانے کی عادت رہی ہے۔ بعض دوست احباب اس عادت سے چڑ بھی جاتے ہیں۔ صحت اور علاج کے معاملے میں اسی عادت نے کئی بار ڈاکٹروں اور ماہرین سے بحث پر آمادہ کیا۔ چند سال پہلے گردے کی پتھری کے سلسلے میں ڈاکٹر عیسیٰ لیب، نارتھ ناظم آباد سے CT Scan کروایا۔ ریڈیالوجسٹ کی رپورٹ ہاتھ میں آتے ہی وہیں کھڑے کھڑے پڑھنے لگا تو محسوس ہوا کہ اس میں واضح غلطیاں ہیں۔ ٹیکنیشن کو نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں بائیں کے بجائے دائیں گردے کے مسائل درج ہیں، حالانکہ درد بائیں جانب تھا اور الٹراساؤنڈ بھی اس کی تصدیق کرچکا تھا۔ ٹیکنیشن نے حیرت سے پوچھا، کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟ جواب دیا،نہیں، متن کا تجزیہ کرتا ہوں۔ پیراگراف کے الفاظ سے صاف ظاہر تھا کہ ڈاکٹر نے کسی دوسری رپورٹ کا متن کاپی پیسٹ کرکے درست طور پر Edit نہیں کیا تھا۔

لیب نے رپورٹ کا ریویو کروایا مگر جواب ملا کہ اس میں کوئی غلطی نہیں۔ یہ رپورٹ فیملی ڈاکٹر کو دکھائی تو وہ بھی پہلے غلطی نہ پکڑ سکے، لیکن میری نشان دہی پر قائل ہوگئے۔ انہوں نے رپورٹ کی نقل لے کر اپنے ایک دوست کے ذریعے لیب کے متعلقہ انسپکٹر کے دفتر سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر نے فوراً درست رپورٹ تیار کرکے انسپکٹر کے آفس بھجوا دی۔ جب یہ مجھ تک پہنچی تودرست اور غلط، دونوں رپورٹس لے کر لیب کے منیجر سے ملا تو اس نےدو دن بعد بلایا۔ پہنچا تو کہنے لگے، آئیں، کسی اچھے سے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور آپ کے مسئلے پر بات کرتے ہیں۔ صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ ہوٹل میں نہیں، عدالت میں ڈاکٹر کے روبرو زیرِ بحث آنا چاہیے۔ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گئے۔ معافیاں مانگنے لگے کہ ہماری نوکریاں چلی جائیں گی ۔اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت تک پتھری خود ہی نکل چکی تھی اور سرجری کی ضرورت پیش نہیں آئی، اس لیے معاف کردیا۔ لیکن ذرا سوچیئے، اگر رپورٹ کی غلطی پر خاموشی اختیار کرلی جاتی اور اسی بنیاد پر سرجری کا فیصلہ ہوجاتا تو ممکن تھا کہ بائیں کے بجائے دائیں گردے کا بلاوجہ آپریشن ہوجاتا۔

موجودہ فیملی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے مجھے پندرہ سال ہوچکے ہیں۔ ان کی تمام Prescription پرچیاں ایک فائل میں محفوظ ہیں اور ہر بار وہ فائل ساتھ لے کر جاتا ہوں۔ انہیں معلوم ہے کہ سوال جواب اور بحث مباحثہ میری عادت ہے اس لیے مجھے دیکھتے ہی فائل کا پوچھتے ہیں اور دوا تجویز کرنے سے پہلے مشورہ کرتے ہیں، اس کے ممکنہ Side Effects بھی بتاتے ہیں۔ دوسرے مریضوں کے ساتھ وہ عموماً اس طرح تفصیلات زیرِ بحث نہیں لاتے اور ابتدا میں میرے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ سوال جواب اور گفتگو کے ذریعے انہیں اس بات کا عادی بنایا کہ مریض کو علاج کی تفصیلات سے آگاہ کرنا اور فیصلوں میں شریک کرنا بھی ضروری ہے۔

آغا خان میں جب ڈاکٹر انور سہیل سے ملا تو انہیں ڈاکٹر نعیم خان کے بارے میں تین سال پہلے سے موجود اپنے تمام تحفظات بتا دیے تھے۔ شاید اسی لیے انہوں نے فوراً ڈاکٹر ہمدان پاشا کے پاس ریفر کردیا۔ غالباً وہ سمجھ گئے تھے کہ میری سرجری ان کے دائرۂ کار میں نہیں آتی اور میرے سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح سرجری کے بعد جب ریکوری روم میں غیر معمولی انتظار کروایا گیا تو دوبارہ پروسیجر ہونے کی وجہ سے مجھے بستر سے اٹھنے کی اجازت نہیں تھی اور اٹینڈنٹ کو بھی اندر رکنے نہیں دیا جارہا تھا۔ اس کے باوجود ریکوری روم کی انچارج کو اپنی آواز اور اردگرد موجود لوگوں کے ذریعے بار بار بلایا اور پوچھا کہ مجھے وارڈ منتقل کیوں نہیں کیا جارہا۔ بالآخر اسے بتانا پڑا کہ میری فائل کھو گئی ہے اور مل نہیں رہی۔ پھر اٹینڈنٹ کو اندر آنے کی اجازت بھی دینا پڑی۔ فائل ملنے پر اس نے معذرت کی۔ اگر خاموش رہتا تو شاید یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اتنی تاخیر کی اصل وجہ کیا تھی۔

ڈاکٹر ہمدان پاشا سے Follow-up ملاقاتوں میں جب انہوں نے بڑی پٹی لگانے کی ضرورت بتائی تو فوراً سوال کیا کہ سرجری کے دن ہی ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ پھر جب انہوں نے سمجھایا کہ اوپر کی جلد کو نیچے کی جلد کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے دباؤ ضروری ہے تو پوچھا کہ یہ دباؤ کون اور کیسے ڈالے گا؟ وہ مسکرانے کے سوا کوئی واضح جواب نہ دے سکے، پھر پٹی کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی بات کی۔ یہی وہ پٹی تھی جو سرجری کے دن لگائی جاسکتی تھی، مگر اب مجھے روزانہ لگانی پڑ رہی تھی۔ اگر اس وقت طبیعت اتنی خراب نہ ہوتی تو شاید اس موضوع پر ڈاکٹر ہمدان پاشا سے ایسی بحث ہوتی کہ وہ ہمیشہ یاد رکھتے۔

وارڈ میں جب نرس نے میرے جسم سے پوائنٹس اور تاریں اتاریں تو فوراً پوچھا کہ انہیں اتارنے کی اصل جگہ کون سی تھی؟ اس نے گھبرا کر جواب دیا کہ ریکوری روم۔ اگلا سوال تھا کہ پھر وہاں انہیں کیوں نہیں اتارا گیا؟ اس پر وہ خاموش ہوگئی۔ اسی طرح جب ڈاکٹر ہمدان خود وارڈ میں نہیں آئے اور اپنی جگہ ایک انتہائی جونیئر ڈاکٹر کو بھیجا تو اس سے پہلا سوال یہی کیا کہ کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گئے اور ڈریسنگ بھی اعتماد کے ساتھ نہ کرسکے۔ مقصد محض انہیں پریشان کرنا نہیں تھا بلکہ یہ احساس دلانا تھا کہ مریض کو Face کرنے، اس کے سوالات کے جواب دینے اور اس کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھی تجربہ اور پیشہ ورانہ تیاری درکار ہوتی ہے۔

جب پہلے کیمو سائیکل کے دوران مجھے G-CSF کے انجکشن کے لیے تاخیر سے بلایا گیا اور بتایا گیا کہ Neutropenia ہوگیا ہے تو سوال اٹھایا کہ اس دوا کے لیے صحیح وقت پر کیوں نہیں بلایا گیا؟ ڈاکٹرز نے جواب دیا کہ اگلے سائیکل میں کیمو کے فوراً بعد انجکشن لگا دیا جائے گا۔ دوسرے سائیکل کا کیمو سیشن ختم ہوتے ہی یہ بات یاد دلائی تو کہا گیا کہ دسویں روز CBC کے بعد انجکشن لگایا جائے گا۔ چنانچہ دسویں روز CBC کی رپورٹ انہیں بھیج دی، لیکن انجکشن بارہویں روز لگایا گیا۔ دو روز بعد خود دوبارہ ٹیسٹ کروایا اور انہیں بتایا کہ ایک انجکشن سے مطلوبہ اثر نہیں ہوا، اس لیے کیا مزید انجکشن لگوانے چاہییں؟ بالآخر انہیں ہاں کہنا پڑا اور دو مزید انجکشن لگوائے۔ تیسرے اور چوتھے سائیکل کے دوران G-CSF کے لیے ہسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ اب اس معاملے میں معلومات حاصل کرچکا تھا۔ خود ٹیسٹ کروائے، باہر سے انجکشن لگوائے اور ڈاکٹرز کو مطلع کردیا۔ اگر اس معاملے میں مکمل طور پر ڈاکٹرز پر انحصار کیا جاتا تو دوبارہ بھی Neutropenia کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

اسی طرح پہلے سائیکل میں جب Vancomycin سے ری ایکشن ہوا تو اسی وقت ڈاکٹرز کو بتا دیا تھا۔ بعد میں جب بھوک ختم ہوگئی تو اس کی اطلاع بھی دے دی۔ لیکن جب ہائیڈریشن کے لیے بلایا گیا تو ڈاکٹرز ابتدا میں یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ اس کیفیت کا تعلق دوا کے ری ایکشن سے ہوسکتا ہے۔ بالآخر ڈسچارج سرٹیفیکیٹ پر درج کیا گیا کہ دوا سے ری ایکشن ہوا تھا، جس کے گردوں پر بھی عارضی اثرات مرتب ہوئے اور بھوک میں کمی واقع ہوئی۔

تیسرے سائیکل کے بعد ڈاکٹرز نے چودھویں روز PET Scan کروانے کا کہا۔ لیکن جب ٹیسٹ کی بکنگ کے لیے گیا تو وہاں سے ایک پمفلٹ ملا، جس پر کیمو سیشن کے اکیسویں روز ٹیسٹ کروانے کی ہدایت درج تھی۔ اس کے بعد مزید تحقیق کی اور ڈاکٹرز سے سوال کیا کہ اگر PET Scan بہت جلد کروا لیا جائے تو کیمو کی وجہ سے جسم کے میٹابولزم میں تبدیلیاں اور بعض اعضا میں سوزش نظر آسکتی ہے۔ ایسی صورت میں ریڈیالوجسٹ کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ نظر آنے والی تبدیلیاں لیمفوما کی وجہ سے ہیں یا کیمو تھراپی کے بعد جلد ٹیسٹ کروانے کا نتیجہ ہیں۔ کیا اس طرح ٹیسٹ کے نتائج کی تشریح میں الجھن پیدا ہونے یا ٹیسٹ کی افادیت متاثر ہونے کا خطرہ نہیں ہوگا؟ یہ بات سننے کے بعد ڈاکٹرز نے بغیر کسی بحث کے ٹیسٹ اکیسویں روز تک ملتوی کردیا۔

پیرا میڈیکل اسٹاف اور دوسرے عملے سے بھی مختلف مواقع پر سوال جواب ہوتے رہے۔ بیڈ پر پہنچتے ہی پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سسٹم میں دوا درج کردی گئی ہے یا نہیں اور وہ کب تک آئے گی؟ اسی طرح ہر رپورٹ کے نتیجے اور بعض اوقات سیمپل لینے میں ہونے والی تاخیر کے بارے میں بھی پوچھتا تھا۔ ایک مرتبہ لیبارٹری کا عملہ سیمپل لینے دیر سے پہنچا تو سوال کیا کہ اتنی دیر کیوں ہوئی؟ جواب ملا کہ ڈاکٹر نے سسٹم میں اسے Urgent نہیں لکھا تھا، اس لیے عملے کے لیے یہ طے کرنا ضروری نہیں تھا کہ سیمپل کب لیا جائے۔

جب محسوس ہوتا کہ کوئی اسٹاف ممبر کینولا لگانے میں دشواری محسوس کررہا ہے تو کہتا کہ کسی ایسے شخص کو بلا لیا جائے جسے اس کام کا زیادہ تجربہ ہو۔ بعض اسٹاف ممبران کو دوا کی رفتار مقرر کرنے میں مشکل پیش آتی تو ان کی مدد کے لیے خود کیلکولیشن کرکے دیتا۔ اگر کوئی ڈرپ میں سوئی سے چھید کرتا تو پوچھتا کہ کیا اس طرح آلودہ ہوا اندر جانے کا خطرہ نہیں ہوگا؟

ایک مرتبہ کیمو کی دواؤں کے ساتھ کسی دوسرے مریض کے نام کا پروٹوکول آگیا تو فوراً شکایت کی۔ دوا روک کر ڈاکٹر کو بلایا گیا، جس نے وضاحت کی کہ نام ٹائپ کرنے میں غلطی ہوئی ہے اور دوا میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ایک بار پروٹوکول کے بغیر ادویات آگئیں اور اسٹاف نے ایک دوا غلط ترتیب سے لگانا شروع کردی۔ فوراً فون سے سابقہ پروٹوکول نکال کر دکھایا کہ درست ترتیب کیا تھی۔ اسٹاف نے دوا روک کر ڈاکٹر کو بلایا، جس نے تصدیق کی کہ ترتیب واقعی غلط تھی۔ اس کے بعد باقی ادویات درست ترتیب سے لگائی گئیں۔

اس ساری روداد کا مقصد اپنے منہ میاں مٹھو بننا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ بیمار آپ ہیں، ڈاکٹر نہیں؛ علاج آپ کا ہورہا ہے، اسٹاف کا نہیں۔ اس لیے اپنے علاج کے بارے میں فکرمند بھی آپ کو ہونا چاہیے۔ اپنے مرض اور علاج کے بارے میں معلومات جمع کریں، تحقیق کریں، مشورے لیں اور دوسرے مریضوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ علاج کے مختلف مراحل پر نظر رکھیں اور جہاں محسوس ہو کہ کچھ غلط ہونے جارہا ہے، وہاں الزام لگانے کے بجائے سوال اٹھائیں۔ ایسا سوال جو سامنے والے کو معاملے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کردے، کسی فیصلے کو درست سمت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔

تیسرے کیمو سائیکل کے اختتام پر تو ایک ڈاکٹر نے ہنستے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا: بھائی، آپ کیمو لگوا لگوا کر اس کے ایکسپرٹ بنتے دکھائی دیتے ہو! اس جملے کا حوالہ دینے کا مقصد یہاں صرف یہ باور کرانا ہے کہ علاج محض ڈاکٹر کی ذمہ داری نہیں، مریض کی شرکت بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ ڈاکٹر کی مہارت اور تجربے کا احترام اپنی جگہ لیکن علاج کے بارے میں سوال کرنا ڈاکٹر پربے اعتمادی نہیں، اپنی صحت کے معاملے میں ذمہ داری کا اظہار ہے۔ معلومات، مشاہدہ اور بروقت سوال معمولی غلطیوں کو بڑے نقصان میں بدلنے سے روک سکتے ہیں۔ (جاری)

اپنا تبصرہ لکھیں