پی ٹی آئی کے لیے مزید دشواریاں / محمد اسد شاہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ اتوار کو خیبرپختونخوا میں گورنر رول کے نفاذ کے حکم نامے پر دست خط کر دیئے – اس سے قبل انھوں نے 25 فروری 2009 کو پنجاب میں گورنر رول نافذ کیا جب عدلیہ بحالی تحریک کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز شریف نے لاہور سے جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا ، اور شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے – اسی طرح 14 جنوری 2013 کو آصف زرداری نے بلوچستان میں بھی گورنر رول نافذ کیا – یوں اتوار 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں گورنر رول کے نفاذ کے ساتھ بڑے زرداری صاحب نے اس معاملے میں اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی ہے – قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پہلے فروری 1973 میں بلوچستان ، اور پھر فروری 1975 میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) میں گورنر رول نافذ کیا – پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے 1994 میں اسی صوبے میں گورنر رول نافذ کیا اور پاکستان مسلم لیگ نواز شریف سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سرحد پیر سید صابر شاہ کی حکومت کو معطل کیا – یوں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 2 بار ، ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے 1 بار ، اور ان کے داماد آصف علی زرداری نے 3 بار گورنر رول نافذ کیا – اور ہر بار صوبائی حکومت کے اختیارات جن گورنرز کو دیئے گئے ، ان سب گورنرز کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی رہا –
راقم الحروف نے اپنے کالمز میں جس طرح عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کوششوں کی مخالفت کی تھی ، اسی طرح خیبرپختونخوا میں گورنر رول کے نفاذ کے خلاف بھی پیشگی لکھا – اس کی وجوہات صرف سیاسی تھیں – ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد اور گورنر رول ، دونو کا جواز آئین اور جمہوریت میں موجود ہے- جو لوگ گورنر رول کو غیر قانونی یا غیر آئینی کہتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں – جس چیز کا آئین میں باقاعدہ ذکر اور اجازت موجود ہے ، اسے غیر آئینی کیوں کہا جائے؟ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ بعض حالات میں یہ ناپسندیدہ ہے ، لیکن ضروری نہیں کہ ہر ناپسندیدہ چیز حرام یا غیر آئینی ہو –
خیبرپختونخوا میں گورنر رول کا حالیہ نفاذ جن حالات میں ہؤا ، ان میں یہی واحد راستہ بچا تھا – 2024 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں ارکان کی بھاری اکثریت آزاد حیثیت میں جیت کر آئی اور سنی اتحاد کونسل نامی جماعت تشکیل دی – لیکن ساتھ میں وہ خود کو پی ٹی آئی بھی کہتے ہیں – جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جس آئین کی وہ دہائیاں دیتے ہیں ، اسی آئین کے مطابق وہ سنی اتحاد کونسل ہیں – اب وہ خود پی ٹی آئی ہیں اور نہ ہی ان کا سربراہ عمران – قانون کے مطابق عمران 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا یافتہ اور نااہل ہے – لیکن اس کی رہائی کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا – یہ بجائے خود گورنر رول کا سب سے بڑا جواز تھا – کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا راستہ عدالت ہوتا ہے ، اور اس سے ملاقات کا مطالبہ صرف اس کے والدین ، بیوی بچے اور قریبی خاندانی عزیز ہی کر سکتے ہیں – لیکن خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی عمران کے اہل خانہ میں سے نہ ہونے کے باوجود اس سے ملاقاتوں کا مطالبہ کرتے، اور رہائی کے لیے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل استعمال کرتے، اور بار بار وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کے لیے لشکر لاتے رہے- اس قدر غیر سنجیدہ رویئے کی، وزیرِ اعلیٰ جیسے معزز منصب پر موجود شخص سے تو توقع ہی نہیں کی جا سکتی تھی- پھر موصوف نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ ان کی نسلیں پاکستان کے قومی ترانے کا احترام نہیں کریں گی اور پاکستان کا قومی پرچم بھی نہیں لہرایا کریں گی- اس سے قبل گزشتہ سال موصوف نے افواجِ پاکستان کے خلاف مساجد میں کتے باندھنے اور عوام کو کتا کہنے کا خطرناک الزام لگایا- لیکن جب تحقیقاتی ادارے نے اس الزام کا ثبوت مانگا تو موصوف نے سٹے آرڈر حاصل کر لیا- سب سے خطرناک الزام یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی مذمت کبھی نہیں کی- پی ٹی آئی کے قائدین دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے جنازوں میں بھی کبھی نہیں جاتے- قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس حوالے سے شدید تحفظات ہیں-
دوسری جانب گورنر رول نافذ ہونے کے بعد حکومت اب پی ٹی آئی کے خلاف قانونی معاملات تیز کرتی نظر آتی ہے- 9 مئی 2023 کے بہت سے اشتہاری ملزمان خیبرپختونخوا میں آزادانہ گھومتے پھرتے تھے- قانون نافذ کرنے والے ادارے انھیں گرفتار کرنے سے گریزاں رہے- لیکن سہیل آفریدی نے سیاسی معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی بجائے، اس حد تک بے لگام کر دیا کہ گورنر رول کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا- اب ان اشتہاریوں کے خلاف بھی جلد ہی کارروائیوں کا آغاز ہو سکتا ہے- خصوصاً عمران کے قریبی ترین ساتھی مراد سعید کو گرفتار کرنے پر شاید پہلی بار سنجیدگی کے ساتھ سوچا جا رہا ہے- مراد سعید کے مزاج میں بہت جذباتیت اور اشتعال ہے، اور اس پر نہ صرف 9 مئی 2023 کے حوالے سے مقدمات ہیں ، بل کہ وہ مرحوم صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے بھی تفتیشی اداروں کو مطلوب ہے – اسی طرح ٹی ٹی پی، افغان طالبان اور پی ٹی آئی کے مابین روابط کا الزام بھی مراد سعید پر لگایا جاتا ہے- ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے ، ہمیں معلوم نہیں – لیکن اب سرکاری ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مراد سعید خیبرپختونخوا میں گورنر رول کے نفاذ سے قبل افغانستان منتقل ہو گیا اور اس کی موجودہ لوکیشن افغانستان کا شہر پکتیکا بتائی جا رہی ہے – بہر حال پی ٹی آئی کے سخت مزاج لیڈرز کے لیے مستقبل کے حالات آسان نظر نہیں آ رہے – عمران 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا یافتہ ہے اور اداروں نے بہت مواقع فراہم کیے کہ پی ٹی آئی عمران کے مقدمات کو آئین و قانون کے مطابق ہی چلائے اور سڑکوں کی بجائے عدالت میں اسے بے گناہ ثابت کرے – لیکن پی ٹی آئی کا مزاج اس کے برعکس ہے – عدالتی و سیاسی مسائل کو سڑکوں پر لانگ مارچ، ڈی چوک پر دھرنے، اسلام آباد پر چڑھائی، اور افواجِ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں –

اپنا تبصرہ لکھیں