پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ دراصل عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کے درمیان توازن تلاش کرنے کی طویل داستان پہ محیط ہے۔ 1947ء سے 1990ء تک، بالخصوص افغان پالیسی کے میدان میں، پاکستان کے تزویراتی فیصلوں پر سرد جنگ اور امریکی مفادات کے گہرے اثرات حاوی رہے۔ تاہم، سوویت یونین کے انہدام، یک قطبی عالمی نظام کے قیام اور بعد ازاں افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت نے اس پورے منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت بدلی بلکہ سرد جنگ کے دوران تشکیل پانے والے مذہبی مزاحمتی نیٹ ورکس اور مسلح جہادی تحریکوں کی حیثیت بھی نئے عالمی سیاسی بیانیے میں متعین ہونے لگی۔
قیامِ پاکستان کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی کو ابتدا ہی سے خطے کی سلامتی، بھارت کے ساتھ تراشیدہ تنازعات اور عالمی طاقتوں کی پیکار جیسے چیلنجز کا سامنا رہا۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور فوجی تعاون نے پاکستان کو مغربی اتحادوں کے قریب کر دیا۔ اگرچہ پاکستان نے مختلف ادوار میں چین اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرکے اپنی سفارتی گنجائش بڑھانے کی کوشش بھی جاری رکھی، تاہم دفاعی ڈھانچے اور سلامتی کی حکمت عملی میں امریکی ” تعاون” کو نمایاں مقام حاصل رہا۔
1979ء میں سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت نے اس شراکت داری کو نئی تزویراتی اہمیت دے دی۔ پاکستان افغان مجاہدین کی معاونت کے لیے ایک اہم راستہ اور مرکز بن گیا جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں نے مختلف ذرائع سے اس مزاحمت کی مالی اور عسکری مدد فراہم کی۔ اس دور میں مذہبی نظریاتی تحریکوں اور جہاد کے تصور کو سوویت اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت میں متحرک کیا گیا اور متعدد مذہبی و مسلح نیٹ ورکس سرد جنگ کی تزویراتی ضروریات کے تحت مضبوط بنائے گئے۔
یوں افغانستان محض ایک ہمسایہ ملک نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان کار زار بن گیا، جہاں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت نے اسے امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت دلا دی۔
سرد جنگ کے خاتمے کے قریب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں آنے والی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے پریسلر ترمیم کا نفاذ ایک اہم تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ۔
1985ء میں امریکی قانون میں شامل کی گئی پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کو امریکی امداد جاری رکھنے کے لیے امریکی صدر کی جانب سے یہ تصدیق ضروری تھی کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں۔ سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی دباؤ مزید بڑھ گیا۔ اکتوبر 1990ء میں نواز شریف کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے مطلوبہ تصدیق جاری نہ کی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بیشتر اقتصادی اور تمام فوجی امداد معطل ہوگئی۔ اس پابندی کے اثرات میں پاکستان کے لیے خریدے گئے ایف سولہ طیاروں کی ترسیل رک جانا بھی شامل تھا۔
پاکستانی تزویراتی نقطۂ نظر سے اس فیصلے کی علامتی اہمیت محض امداد کی بندش تک محدود نہیں تھی۔ اس نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ جب تک افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان کا کردار امریکی مفادات کے لیے ناگزیر تھا، دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون جاری رہا؛ لیکن سوویت خطرے کے خاتمے کے بعد جوہری پالیسی اور دیگر اختلافات نے اس شراکت داری کی نئی صورتوں کو نمایاں کر دیا۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ پریسلر ترمیم فقط افغانستان میں امریکی مفادات پورے ہونے کی وجہ سے نافذ نہیں ہوئی، بلکہ اس کا اصل ہدف پاکستان کا جوہری پروگرام تھا۔ چنانچہ اس کا نفاذ ایسا ہمہ جہت تاثر چھوڑ گیا ، جس نے سرد جنگ کے بنیادی تزویراتی مفادات کی پیچیدگیوں کو واضح کیا۔ اسی لیے اسے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ترجیحات کی تبدیلی اور اعتماد کے بحران کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔
1990ء کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد افغانستان میں مسلح گروہوں، مذہبی تحریکوں اور سابقہ مزاحمتی نیٹ ورکس کو مستقبل کا پیچیدہ مسئلہ قرار دیکر سرد جنگ کے دوران جن عناصر کو سوویت اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، بعد کے برسوں میں انہیں مختلف علاقائی تنازعات، خانہ جنگیوں اور بین الاقوامی مسلح نیٹ ورکس کے ساتھ جوڑ کر نئی صورتیں فراہم کر دی گئیں ۔
یہیں سے سرد جنگ کے نام نہاد تزویراتی اثاثوں کے بارے میں ایک بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے جن تحریکوں اور نیٹ ورکس کو تقویت دی تھی، ان کے مستقبل اور ممکنہ منفی اثرات کا مناسب اندازہ لگایا تھا؟
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کی اور افغانستان میں فوجی کارروائی کو اس سوال کے جواب کے طور پر منقش کیا اور اسی کے ساتھ ہی عالمی سیاسی اور قانونی بیانیے میں مسلح گروہوں کی درجہ بندی تبدیل ہونے لگی۔ القاعدہ اور طالبان سمیت مختلف تنظیموں کے حوالے سے امریکی پالیسی، قانونی حیثیت اور عملی اقدامات یکساں ہوتے گئے، یوں سابقہ افغان جہاد سے وابستہ عناصر اور نیٹ ورکس کو اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے خلاف مزاحمت میں استعمال ہونے والے مذہبی اور مسلح نیٹ ورکس بعد ازاں امریکی اور مغربی سلامتی کے نظام کے لیے خطرہ قرار پائے۔ چنانچہ جن تحریکوں یا عناصر کو ایک زمانے میں تزویراتی مقاصد کے لیے معاونت حاصل رہی، ان کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئی، ان پر پابندیاں عائد کی گئیں اور انہیں ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
تاہم، اس تاریخی عمل کو تمام مذہبی تحریکوں کے خلاف یکساں مہم کے طور پر ظاہر سے گریز کیا گیا اور دنیا کو بتایا گیا کہ مذہبی سیاسی جماعتیں، غیر مسلح سماجی تحریکیں، افغان مزاحمتی تنظیمیں اور بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس الگ الگ نوعیت رکھتے ہیں اور ہمیں بتایا گیا کہ اصل سوال ان مخصوص مسلح نیٹ ورکس پالیسیوں کا ہے جنہوں نے عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت تقویت پائی اور بعد میں علاقائی و عالمی سلامتی کے تنازعات کا حصہ بن گئے۔ حالانکہ اصلیت اس کے برعکس تھی۔
اس تناظر میں اگرچہ دہشت گردی کے لیبل کو محض سیاسی اصطلاح سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں کیونکہ بعض تنظیمیں حقیقی طور پر شہریوں کے خلاف حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ عالمی طاقتیں مختلف مسلح گروہوں کے بارے میں اپنے مؤقف کا تعین کن اصولوں پر کرتی ہیں اور کیا یہ اصول ہر خطے اور ہر دور میں یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں؟
نائن الیون کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر امریکی حکمتِ عملی کو اہم شراکت داری کو سنانے پہ مجبور ہونا پڑا ، جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے دفاعی اور سفارتی تعلقات دوبارہ فعال ہوئے۔ اس تبدیلی کے ذریعے ایک مرتبہ پھر ہمیں بتایا گیا کہ واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں علاقائی سلامتی اور امریکی تزویراتی ترجیحات بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
لیکن اس شراکت داری کی قیمت بھی بھاری تھی۔ پاکستان کو دہشت گرد حملوں، عسکری کارروائیوں، داخلی بدامنی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی ، معاشی نقصانات اور سماجی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان میں جاری جنگ کے اثرات سرحدی علاقوں سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں تک پھیل گئے، جبکہ پاکستان کی داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے درمیان تعلق مزید پیچیدہ ہوگیا۔
یوں پاکستان کے لیے افغان جنگ بیک وقت امریکی تعاون، تزویراتی دباؤ اور داخلی سلامتی کے بحران کا سبب بنی۔ اس تجربے نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا کہ کسی ایک عالمی طاقت کے مفادات سے گہری وابستگی کس حد تک قومی خودمختاری اور طویل مدتی استحکام کے لیے موزوں ہو سکتی ہے۔
اگست 2021ء میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی نے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ پاکستان کے لیے یہ تبدیلی اپنی افغان پالیسی، علاقائی تعلقات اور دفاعی ترجیحات پر نظرثانی کا ایک اہم موقع ثابت ہوئی اور ایک نیا امتحان بھی۔
چین کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعاون، روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور ترکی کے ساتھ مختلف شعبوں میں شراکت داری نے پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کو متنوع بنانے کے امکانات پیدا کیے۔ تاہم، ان پیش رفتوں کو امریکہ سے مکمل علیحدگی یا کسی نئے عالمی اتحاد میں قطعی شمولیت قرار دینے کے بجائے تزویراتی تنوع کی کوشش کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک ایسی پالیسی درکار ہے جو محض کسی ایک گروہ یا بیرونی طاقت سے تعلقات کے تابع نہ ہو، بلکہ اس میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کی روک تھام، مہاجرین کے مسائل، علاقائی تجارت اور سیاسی استحکام کو بنیادی اہمیت حاصل ہو ۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا معاملہ صرف سفارتی اور عسکری اداروں تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات داخلی سیاست، معیشت، ذرائع ابلاغ اور ریاستی اداروں کی ترجیحات میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
مغرب کے ساتھ دو سو سالوں پر محیط طویل وابستگی کے باعث یہاں پاکستان کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں ایسے حلقے موجود ہیں جو امریکہ اور یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی روابط میں اپنی اپنی و نفسیاتی آسودگی تلاش کرتے ہیں جبکہ دوسرے حلقے چین، روس، ترکی اور علاقائی قوتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور تزویراتی خودمختاری کو فطری آزادی اور اجتماعی بقاء کا زینہ بنانے پر زور دیتے ہیں۔
اس اختلاف کو محض امریکی حامی اور مخالف گروہوں کی کشمکش تک محدود کرنا صورتِ حال کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔ تاہم، یہ سوال ضرور اہم ہے کہ پاکستان کے داخلی سیاسی، انتظامی، معاشی اور صحافتی ڈھانچے میں موجود متضاد مفادات خارجہ پالیسی کی سمت کا از سر نو تعین کرنے پر کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کا جواب قیاس آرائی کے بجائے پالیسی فیصلوں، ادارہ جاتی رویوں اور قابل تصدیق شواہد کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔
تاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے، عالمی طاقتوں کے ساتھ قریبی شراکت داری قومی مفادات کے حصول میں کتنی مددگار ہو سکتی ہے ،اس کا جواب ہماری 88 سالہ تاریخ میں موجود ہے،یعنی ماضی کی طرح آج بھی شراکت داری اگر کسی ایک بیرونی طاقت کی ترجیحات سے حد سے زیادہ وابستہ ہو جائے تو حالات بدلنے پر پہلے کی مانند اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
سرد جنگ کے دوران افغان مزاحمت کی معاونت، سوویت یونین کے انہدام کے بعد پریسلر ترمیم کا نفاذ، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اگست 2021ء کے بعد افغانستان میں آنے والی تبدیلیاں اسی تاریخی تسلسل کے مختلف مراحل ہیں۔ ان واقعات سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا پاکستان نے ماضی کے تجربات سے اتنا سبق سیکھ لیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی ایک عالمی طاقت کے تزویراتی مقاصد پر غیر ضروری انحصار سے بچ سکے؟
حقیقی تزویراتی خودمختاری کا مطلب امریکہ یا مغرب سے تعلقات منقطع کرنا نہیں بلکہ یہ صلاحیت حاصل کرنا ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے مطابق عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرے، اختلاف کی صورت میں اپنے مؤقف پر قائم رہ سکے اور اپنی سلامتی کو کسی بیرونی طاقت کی وقتی ترجیحات سے مشروط نہ ہونے دے۔


