محبت اور خودداری کے درمیان ایک مکالمہ/حسین خالد مرزا

انسانی رشتوں کی دنیا میں محبت جتنی اہم ہے، خودداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ محبت انسان کو کسی کے قریب لے آتی ہے، مگر اعتماد کی کمی، مسلسل وضاحتوں کا مطالبہ اور بار بار آزمائے جانے کا احساس اسی قربت کو بوجھ بنا سکتا ہے۔ ایسے میں انسان کے اندر ایک خاموش مکالمہ جنم لیتا ہے:

کیا محبت کا مطلب ہر بار خود کو ثابت کرنا ہے؟

کیا کسی رشتے کو بچانے کے لیے اپنی ذات کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا رکھنا ضروری ہے؟

مصنف کے زیرِ انتخاب شعری خیالات میں یہی سوال بار بار سامنے آتا ہے۔ ان مصرعوں میں محبت سے انکار نہیں، بلکہ ایسے تعلق کی خواہش ہے جہاں قربت کے ساتھ اعتماد، گفتگو کے ساتھ سماعت، اور وابستگی کے ساتھ عزتِ نفس بھی موجود ہو۔

یہ کلام کسی ایک جذبے تک محدود نہیں۔ اس میں شکوہ بھی ہے، انتظار بھی، ادھورے خوابوں کی کسک بھی، اور اپنی ذات کو سمجھنے کی کوشش بھی۔

منتخب شاعری
۱۔ تجلّی، قربت اور بے یقینی
اب تیری حالتِ اجاری کا جواز نہیں،

اب کہاں کہاں تیری تجلّی کو رُونما دیکھوں؟

کبھی تیری عجلت، کبھی تیرا تقاضا،

ان مصرعوں میں محبوب کی موجودگی اور اس کی طلب کے درمیان ایک کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ تجلّی کا تصور کسی ایک جگہ یا لمحے تک محدود نہیں رہتا؛ متکلم گویا اس سوال سے دوچار ہے کہ ایک ہی محبوب کے جلوے کو کہاں کہاں تلاش کرے اور اس کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو کس طرح سمجھے۔

۲۔ محبت میں اعتماد اور خودداری
ہم تیری صحبت کے اترائے ہوئے ہیں،

کچھ آزمائے جانے کی عادت ہمیں بھی نہیں ہے۔

جب زندگی ہماری ہیں، تقاضے بھی ہمارے ہیں،

ہمیں تمہارا نظریں چرانا نہیں پسند۔

یہاں خودداری، محبت کے مقابل نہیں بلکہ اس کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ متکلم تعلق چاہتا ہے، مگر ایسا تعلق جس میں ہر بار اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ نظریں چرانے کا شکوہ دراصل گفتگو اور وضاحت کی خواہش بھی ہو سکتا ہے۔

۳۔ خاموشی کے پیچھے چھپی بات
تو قید میں ہے تو بتا مجھ کو،

تو بے زباں ہے تو بتا مجھ کو۔

ہم اہل ہیں سننے کے،

سنائے جانے کے۔

یہ مصرعے اس مجموعے کا ایک اہم پہلو سامنے لاتے ہیں: رشتے صرف اپنے جذبات بیان کرنے سے نہیں چلتے، بلکہ دوسرے کی بات سننے اور اسے سمجھنے سے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ خاموشی ہمیشہ بے رخی نہیں ہوتی؛ کبھی اس کے پیچھے خوف، مجبوری یا اظہار کی دشواری بھی ہوتی ہے۔

یہاں متکلم محض جواب نہیں مانگتا، بلکہ مکالمے کی گنجائش پیدا کرتا ہے۔

۴۔ الزام تراشی اور صفائیوں کی تھکن
کچھ الزام تراشی ہم کو نہیں پسند،

کچھ پرکھے جانے کی عادت ہم کو نہیں ہے۔

کوئی کس نظر سے سوچے،

میں کیوں صفائیاں کروں؟

ان مصرعوں میں بار بار اپنی نیت اور کردار ثابت کرنے کی تھکن نمایاں ہے۔ جب کسی تعلق میں اعتماد کمزور ہو جائے تو وضاحتیں بڑھنے لگتی ہیں اور گفتگو اکثر دفاعی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔

تاہم خودداری اور جواب دہی میں فرق ہے۔ ہر الزام کو قبول کرنا ضروری نہیں، مگر اپنی حقیقی غلطی کو تسلیم کرنا بھی کردار کی مضبوطی ہے۔ اس طرح یہ اشعار ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں: اعتماد کے بغیر کسی تعلق کو کتنی دیر تک صرف وضاحتوں کے سہارے چلایا جا سکتا ہے؟

۵۔ کھوئی ہوئی چیزیں اور ادھورے خواب
کچھ کھو جائے تو دوبارہ ڈھونڈا کہاں جاتا ہے؟

اپنی زندگی کا ستم خود پہ کہاں ڈھایا جاتا ہے؟

میں تو تیری ضد بنوں، یہ خواب رہا،

مگر ادھورے خوابوں سے غبار کہاں اُڑایا جاتا ہے؟

یہاں کلام کا لہجہ شکوے سے نکل کر محرومی اور یاد کی طرف بڑھتا ہے۔ کھو جانے کا سوال صرف کسی شخص یا رشتے تک محدود نہیں؛ اس میں وہ وقت، امیدیں اور احساسات بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہیں دوبارہ اسی صورت میں حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا۔

کسی کی زندگی میں خاص مقام پانے کی خواہش، جب حقیقت نہ بن سکے، تو خواب اپنی جگہ چھوڑنے کے بجائے یاد بن جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ادھورے خوابوں کی گرد صاف کرنا آسان نہیں ہوتا۔

۶۔ شکوہ، رسوائی اور اپنی ذات کا دفاع
الزام اب تیری سوچ کا کچھ تو چلے۔

میں وہ ہوتا جو مجذوبِ طالب تھا،

تیرا شکوہ بجا، مگر۔

مجھے رسوائی میں جینے کی عادت نہیں ہے۔

پر تمنا یہ بھی نہیں کہ مقابلہ کروں۔

ان مصرعوں میں ایک پیچیدہ کیفیت ہے۔ ایک طرف متکلم کو دوسرے کی شکایت کا احساس ہے، دوسری طرف وہ اپنے اوپر لگائے گئے ہر الزام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ مقابلہ نہیں چاہتا، لیکن اپنی عزتِ نفس کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہتا۔

یہی کشمکش محبت کو انسانی بناتی ہے: کبھی انسان تعلق بچانے کے لیے خاموش رہتا ہے، اور کبھی اپنی خاموشی توڑنا اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔

۷۔ اپنے مزاج کا محاسبہ
خیالِ نظر سے سوچا ہے تو سمجھ بھی اپنی۔

میں غلط سے صحیح ہوں، صحیح سے غلط،

اپنے مزاج کا خود ہی ازالہ کرو۔

یہاں توجہ دوسرے شخص سے ہٹ کر اپنی ذات کی طرف آتی ہے۔ انسان ہمیشہ درست نہیں ہوتا؛ اس کے رویّے، فیصلے اور احساسات بھی غلطی کا امکان رکھتے ہیں۔ اپنی ذات کا محاسبہ اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ انسان صرف دوسروں کی سوچ پر سوال نہ اٹھائے، بلکہ اپنے ردِعمل اور اپنے مزاج کو بھی دیکھے۔

یہ خودداری کی ایک زیادہ پختہ صورت ہے: اپنی عزت کا دفاع کرنا، مگر اپنی اصلاح کے دروازے بند نہ کرنا۔

۸۔ ایک ہی کو نمایاں کرنے کی خواہش
ہر رنگت میں کیوں جیوں میں،

جب ایک ہی کو نمایاں کروں؟

یہ سوال انتخاب، وابستگی اور یکسوئی کے گرد گھومتا ہے۔ اگر دل نے کسی ایک شخص یا مقصد کو خاص مقام دے دیا ہو تو باقی رنگوں میں خود کو کیوں تقسیم کیا جائے؟ اس خیال میں یکسوئی بھی ہے اور اس وابستگی کی شدت بھی جو انسان کی توجہ کو ایک سمت میں مرکوز کر دیتی ہے۔

تاہم کسی ایک کو اہمیت دینا اور اپنی پوری شناخت اسی میں گم کر دینا دو الگ باتیں ہیں۔ ایک صحت مند تعلق وہ ہے جس میں محبت بھی باقی رہے اور اپنی ذات کی پہچان بھی۔

حاصلِ کلام
اس کے باوجود یہ محض شکایت کا کلام نہیں۔ ادھورے خوابوں، کھوئی ہوئی چیزوں اور اپنے مزاج کی اصلاح کے حوالے سے یہ اپنی ذات پر نظر ڈالنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

شاید اس مجموعے کا سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا ہم کسی سے محبت کرتے ہوئے اپنی عزتِ نفس برقرار رکھ سکتے ہیں، اور کیا ہم اپنی خودداری کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے انسان کو سمجھنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں؟

محبت کا مطلب نہ ہر حال میں جھک جانا ہے اور نہ ہر اختلاف پر رشتہ توڑ دینا۔ کبھی تعلق کو بچانے کے لیے بات سننا ضروری ہوتا ہے، کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنا، اور کبھی ایک ایسی حد قائم کرنا جس کے بعد انسان اپنی ذات کو مسلسل اذیت نہ دے۔

ان اشعار میں موجود شکوہ اسی انسانی تجربے کی ترجمانی کرتا ہے۔ دل اب بھی کسی کی قربت چاہتا ہے، لیکن اپنی قدر کو بھی پہچاننا چاہتا ہے۔ خواب اب بھی اہم ہیں، لیکن ان کی تکمیل کے ساتھ اپنی ذات کی حفاظت بھی ضروری ہے۔

آخرکار، شاید محبت کی پختگی اسی میں ہے کہ انسان کسی کو چاہے، اس کی بات سنے، اپنی بات کہے، اور اس سارے عمل میں اپنی شناخت سے محروم نہ ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں