کچھ یاد رہا کچھ بھول گئے / اظہر سجاد

میر تقی مؔیر کے دور میں دُور کے عزیر و اقارب سے رابطے کا واحد ذریعہ خط تھے۔ خط لکھنے کے لیے جتنی محنت کی جاتی تھی اُس سے کہیں زیادہ خط کے جواب کا بےچینی سے انتظار کیا جاتا تھا۔ اِسی بے تابی کو مؔیر نے کچھ یوں بیان کیا:
نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں
خط و کتابت کا یہ خوبصورت سلسلہ گزشتہ تین چار دہائیوں میں دیگر بہت ساری دلنشین یادوں کے ساتھ کم ہوتے ہوتے لگ بھگ ختم ہوچکا ہے۔بچپن میں جب بھی ہم کسی شادی کی تقریب یا کسی عزیز کی وفات پر گاؤں جاتے تو راتیں بڑی سحر انگیز لگتی تھیں۔ لالٹین یا لیمپ کی روشنی میں آدھے آدھے چہرے، دن میں دکھائی دینے والے چہروں سے بالکل مختلف نظر آتےتھے۔ پھر کوئی سٹیل کے بڑے سے مینٹل لیمپ میں مٹی کا تیل ڈالتااور ہوا کا پریشر بنا کر آگ لگاتا تو لیمپ کےشیشے کے عمودی ٹکڑوں میں قید جالی دار گول کپڑے سے پھوٹتی روشنی سارے ماحول کو ایک نئی زندگی عطا کر دیتی۔وہ تیز سفید روشنی ہمیں بہت بھلی لگتی تھی۔ مگر آج وہ روشنیاں کہیں نظر نہیں آتیں۔ نئی نسل تو تیل کے چراغ، لالٹین، مٹی کے تیل کے لیمپ اور مینٹل لیمپ سے بالکل اُسی طرح ناواقف ہے جس طرح آج لوگ مٹی کے تیل سے چلنے والے پیڈسٹل فین،ٹائم پیس, ریڈیو، فلم والےکیمرے، ٹیپ ریکارڈر، آڈیو کیسٹ اور واک مین سے نابلد ہیں۔
جب ہم نے سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور گھر سے کافی دور مظفر آباد آزاد کشمیر گےو تووہاںمختلف ٹیلی فون اور ایکسچینجز سے واسطہ پڑا۔ اِن میں سی۔بی، میگنیٹو، ایس۔ٹی۔ڈی اور نان ایس۔ٹی۔ڈی ٹیلی فون اور ایکسچینجز سے استعمال کرنے کا موقع ملا۔ اِسی طرح دفتر میں ٹائپ رائٹر، انٹر کام، شارٹ ہینڈ اور بریفننگ کے لیے سلائیڈ پروجیکٹر وغیرہ پر بھی کام کیا۔اُس وقت اِن آلات کو استعمال کرنے میں مہارت رکھنا بڑا اہم تھا۔ مگر پھر زمانے نے کروٹ بدلی۔کمپیوٹر نے فائلز ، ریکس اور ٹائپ رائٹر کی جگہ لے لی۔ جب کہ پرنٹر نے کاربن پیپراور سٹینسل مشین کی جان لے لی ۔ بازار اور مارکیٹیں وی سی آر ، وی سی پی، مووی کیرنوں اور وڈیو کیسٹس سے سج گںیٹ اور دیکھتے ہی دیکھتے ملکی و غیر ملکی فلموں کے قانونی اور غیر قانونی کاروبار نے باقاعدہ انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی۔ اِسی دوران ڈش انٹینا گھروں کی چھتوں پر جا بجا نظر آنے لگے۔تھوڑا وقت ہی گزرا ہو گا کہ کیبل نیٹ ورک کے چرچے ہونے لگے۔دلچسپ بات یہ تھی کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ایک طبقہ اُس کے خلاف کمر کس لیتا، احتجاج ہوتا، بُرا بھلا کہا جاتا، پھر دھیرے دھیرے وہ بُرائی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی۔ 2000ء کے آتے آتے انٹر نیٹ، کمپیوٹر اور موبائل کا استعمال بہت بڑھ چکا تھااور کاغذات کی فوری ترسیل کے لیے فیکس مشین پر مختلف دفاتر ، ڈاکخانوں اور پبلک کال آفسز پر نظر آنے لگیں۔اِسی دوران وی سی آر اور وڈیو کیسٹس کی جگہ سی ڈی اور سی ڈی پلیرلز نے لے لی۔
1964ء میں متعارف ہونے والا بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن 1976ء میں رنگین ہو گیا۔ اِس کا سائز اور وزن تو بہت زیادہ تھا مگر سکرین 14 انچ سے 29 انچ کے درمیان ہی رہی۔ 2007ء کے بعد بڑے سائز کے چھوٹے ٹیلی ویژن اور مانیٹر کی جگہ پہلے ایل سی ڈی اور پھر ایل ای ڈی نے لے لی جو وزن میں انتہائی کم اور سائز میں 9 فٹ تک کی ہیں ۔ اگرچہ اُن اشیا کا ذکر جو دم توڑ چکی ہیں یا انسان کو اُن کی ضرورت اب نہیں رہی، بظاہر فضول لگتا ہے۔ خط،ٹائپ رائٹر،سلائیڈ پروجیکٹر، ڈائل/بٹن/فیلڈ/میگنیٹو ٹیلی فون، پیجر ، ٹیپ ریکارڈر، واک مین ، ڑیڈیو سیٹ، ٹیلی ویژن ، وی سی آر/وی سی پی، فلاپی ڈسک،مٹی کے تیل سے چلنے والا چولہا/پنکھے/مینٹل لیمپ وغیرہ اب ناپید ہو چکے ہیں۔ بہت ساری اہم ایجادات، آلات اور سہولیات جن سے ہماری ثقافتی و جذباتی وابستگی رہی ہے اور عہدِ رفتہ کی یادیں جڑی ہیں، رفتہ رفتہ ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ مگر ہم نہیں بھولے ، کیوں کہ یہ تمام اشیا ہماری زندگی کا اہم حصہ رہی ہیں۔ گھر میں ریڈیو کی گونج، فریج کی ٹھنڈک، لالٹین کی جگہ پہلی دفعہ پھیلنے والی بلب کی روشنی، رنگین ٹیلی وژن کو پہلی نشریات،ٹیلی فون کی گھنٹی تاحیات ہمارے اذہان میں زندہ رہیں گی۔اُن سے ہماری یادیں وابستہ ہیں اور سب سے بڑھ کر انسانی تاریخ اُن اشیا کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔
آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہر دن کا آغاز ایک نئی دنیا کے در وا کرتا ہے۔ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کل نجانے کیا کیا تبدیلیاں لائے۔ کتاب اور اُستاد سے ہمارا تعلق بھی ڈگمکاتا محسوس ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انسان جلد ہی ایک نمبر بن جائے گا،آلات سے جذبات اور احساسات کی جانچ پڑتال کی جائے گی، کتابوں کی جگہ سکرینین لے لیں گی اور ربوٹ اُستاد بن کر پڑھائیں گے۔ خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کیا پتہ جذبات و احساسات اور رویوں میں کیسا بدلاؤ آئے؟ کیا خبر کہ انسان مکمل بدل جائے یا چیزیں، ماحول اور منظر بدل جائیں مگر انسانی رویے ویسے ہی رہیں، جیسے صدیوں پہلے تھے؟

اپنا تبصرہ لکھیں