کچھ خبریں چیخ کر آتی ہیں اور کچھ خاموشی سے۔ جو خبر چیخ کر آتی ہے، اسے ہم سنتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ جو خاموشی سے آتی ہے، اسے ہم سنتے ہی نہیں۔ کم عمری کی شادی ایسی ہی خاموش خبر ہے۔ وہ کسی ٹی وی ٹِکر پر نہیں چلتی اور کسی پرائم ٹائم ٹاک شو کا موضوع نہیں بنتی۔ وہ بس کسی دن ہسپتال کے بستر پر آ کر لیٹ جاتی ہے۔
پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں اس وقت یہی خبر دو بستروں پر لیٹی ہے۔ ایک بستر پر سترہ برس کی ایک بچی ہے۔ سماج نے اسے ماں کا درجہ تو دے دیا، مگر اس سے اس کا بچپن چھین لیا۔ دوسرے بستر پر نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ (NICU) میں اس کا قبل از وقت پیدا ہونے والا نومولود ہے، جس کی سانسیں انکیوبیٹر مشینوں کے سہارے زندگی سے ہاتھ ملانے کی کشمکش میں ہیں۔ کمزور بچی ایکلیمپسیا، شدید انفیکشن اور خون کی کمی جیسی جان لیوا پیچیدگیوں میں گھری ہے، جبکہ ڈاکٹر اور نرسیں اپنی تمام تر پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دونوں کی نبضیں بحال رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ مگر طب وہ زخم کیسے بھرے جو سماج اور فرسودہ روایات نے لگائے ہیں؟ اور یہ المیہ صرف اس ایک بچی کا نہیں؛ یہ ہمارے صوبے کے ہر اس آنگن کی داستان ہے جہاں بیٹی کی عمر کا حساب اس کی تعلیم، بلوغت یا شناختی کارڈ سے نہیں، بلکہ رشتے کی پہلی پیشکش سے لگایا جاتا ہے۔
میں نے برسوں صحافت پڑھائی ہے اور خود صحافت کی ہے، اس لیے خوب جانتا ہوں کہ اعداد و شمار خبر کا سب سے ٹھنڈا حصہ ہوتے ہیں اور سب سے سچا بھی۔ تو سنیے کہ تازہ ترین حقائق اور اعداد کیا بتاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ملٹیپل انڈیکیٹر کلسٹر سروے (MICS) کے مستند اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں 20 سے 24 برس کی خواتین میں سے 26 فیصد سے زیادہ کی شادی 18 برس کی عمر سے پہلے ہو چکی تھی، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں یہ شرح 35 فیصد سے بھی زیادہ خطرناک سطح پر جا پہنچتی ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب کے ایم آئی سی ایس سروے 2024 میں یہی شرح تقریباً 14 فیصد ریکارڈ ہوئی، یعنی ہمارے صوبے کی شرح اس سے تقریباً دوگنی ہے۔ ملک گیر پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (PDHS) کے نتائج بھی اس تلخ حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ صوبے میں 27 فیصد اور قبائلی اضلاع میں 35 فیصد کم عمری کی شادیاں ہوئیں، جبکہ قومی اوسط 18 فیصد ہے۔ صوبائی سروے یہ اندوہناک سچ بھی آشکار کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 12 فیصد لڑکیاں 18 سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی ماں بن چکی تھیں۔
ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری (Census 2023) نے اس سماجی ناسور کو ایک اور زاویے سے بے نقاب کیا ہے۔ مردم شماری کے مطابق، خیبر پختونخوا میں 15 سے 19 برس کی عمر کے 42 لاکھ سے زیادہ نو عمروں میں سے 5 لاکھ 61 ہزار سے زیادہ شادی شدہ درج ہوئے—یعنی اس نازک عمر کا ہر آٹھواں نوعمر ازدواجی بندھن میں جھونکا جا چکا ہے۔ اگرچہ ملکی سطح پر 1993 میں کم عمری کی شادیوں کی شرح 41 فیصد تھی جو وقت کے ساتھ کم ہو کر 18 فیصد تک آئی ہے، مگر جہاں آگہی اور قانون کے ذریعے تبدیلی ممکن ہو اور ریاست و سماج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، وہاں خاموشی غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ جرم بن جاتی ہے۔
اور اس لاپرواہی کا سب سے کٹھن اور ناقابلِ تلافی بوجھ اس لڑکی کے نازک وجود پر پڑتا ہے جس کی اپنی جسمانی نشوونما ابھی ادھوری ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی فیکٹ شیٹس اور زچگی کے طبی شواہد واضح کرتے ہیں کہ 20 سے 24 سال کی خواتین کے مقابلے میں نوعمر ماؤں میں ایکلیمپسیا (حمل کے دوران دورے پڑنا)، قبل از وقت زچگی، خون کا زہریلا ہونا (Sepsis) اور شدید پیوک انفیکشنز کا خطرہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہوتا ہے۔ جسم ابھی خود غذائیت اور کیلشیم کا متقاضی ہو اور اس سے ایک اور جان کی تخلیق کا بوجھ مانگ لیا جائے، تو شدید انیمیا، دورانِ زچگی ہڈیوں کی رکاوٹ (Obstructed Labour) اور پوسٹ پارٹم ہیمرج (شدید خون بہنا) روز کا معمول بن جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ معصوم لڑکیاں تو زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں اور کچھ ‘آبسٹیٹرک فسٹیولا’ (Obstetric Fistula) جیسے اذیت ناک اور طویل المیعاد عارضے کا شکار ہو کر زندہ درگور ہو جاتی ہیں—ایسی بیماری جس کا علاج تو ممکن ہے، لیکن سماجی شرم، پردے اور بے حسی کے باعث مریضہ ہسپتال کی دہلیز تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ مختلف طبی تحقیقات کے مطابق، 18 برس سے کم عمر بیاہی جانے والی تقریباً 90 فیصد لڑکیاں نوعمری ہی میں حاملہ ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نہیں، بلکہ بیک وقت دو نسلوں کی صحت اور بقا کا سودا ہے۔ پشاور کے تدریسی ہسپتالوں بالخصوص ایچ ایم سی کے گائنی اور لیبر رومز میں مضافاتی اور قبائلی اضلاع سے رات گئے ریفر ہو کر آنے والی کئی نوعمر مائیں اس تلخ حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں کہ جب تک مریضہ بڑے ہسپتال پہنچتی ہے، اس وقت تک طبی سائنس کے پاس معجزے کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔
یہاں ایک سوال بار بار روح کو جھنجھوڑتا ہے کہ جب سب اس کے طبی و سماجی نقصانات سے واقف ہیں، تو یہ سلسلہ رکتا کیوں نہیں؟ پہلا سبب غربت ہے، جہاں سفید پوشی کے بھرم میں بیٹی کو جلد رخصت کر دینا خاندان کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کی تدبیر سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا سبب دقیانوسی روایات اور کم عمری کی منگنیاں (سوارہ یا ولور جیسی برائیوں کے باقیات) ہیں، جہاں لڑکی کی مرضی کا کہیں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ تیسرا اور سب سے کارگر عامل تعلیم کا فقدان ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسکول نہ جانے والی ناخواندہ لڑکیوں میں کم عمری کی شادی کی شرح 34 فیصد تک بلند ہے، جبکہ ثانوی یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے والی بااختیار لڑکیوں میں یہ شرح گھٹ کر محض 8 فیصد رہ جاتی ہے۔ قلم، کتاب اور بیٹی کی صحت کے درمیان وہی تعلق ہے جو روشنی اور اندھیرے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دور دراز اور ضم شدہ اضلاع میں دیہی بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز پر لیڈی ڈاکٹرز اور تربیت یافتہ مڈوائفوں کی کمی اس المیے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
پھر ایک اور تضاد ہے جو سب سے زیادہ چونکا دینے والا ہے۔ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ‘ساحل’ کی سالانہ رپورٹ Cruel Numbers کے مطابق 2024 میں ملک بھر کے اخبارات میں کم عمری کی شادی کے محض 46 کیسز رپورٹ ہوئے اور 2025 میں 53 واقعات۔ اب ذرا موازنہ کیجیے: سروے بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ہر چوتھی لڑکی کم عمری میں بیاہی جا رہی ہے، اور قومی میڈیا پر سال بھر میں بمشکل 50 واقعات سامنے آتے ہیں! یعنی جو گنا گیا وہ سمندر میں سے ایک قطرہ بھی نہیں، اور جو چھپایا گیا وہ لاکھوں بچیوں کی خاموش چیخیں ہیں۔ خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی بچوں کے حقوق کی پامالی کے 402 واقعات درج کیے گئے، جو سال 2024 کے کل 392 کیسز سے بھی زائد ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل واقعات کی تعداد سرکاری فائلوں اور میڈیا رپورٹنگ سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔
مگر اس المیے کا سب سے تلخ اور شرمناک پہلو قانون سازی کا فقدان ہے۔ خیبر پختونخوا میں 2026 تک بھی انگریز دور کا 1929 کا متروک ‘چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ’ رائج ہے، جس میں لڑکی کی شادی کی کم از کم عمر صرف 16 سال ہے اور اس کی خلاف ورزی کی سزا محض ایک ماہ قید یا صرف 1000 روپے جرمانہ ہے! ایک ہزار روپے۔۔۔ یعنی ایک معصوم بچی کے بچپن اور مستقبل کی قیمت شادی کی محفل میں ایک پلیٹ کھانے کے برابر رکھی گئی ہے۔
ملک کے دیگر حصوں پر نظر ڈالیں تو پیش رفت بالکل واضح ہے۔ سندھ نے 2013 ہی میں شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر کی تھی۔ وفاقی دارالحکومت نے مئی 2025 میں ‘اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025’ نافذ کر کے اس پر قدغن لگائی۔ اور اپریل 2026 میں پنجاب اسمبلی نے تاریخ ساز قانون پاس کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر بلا تفریق 18 سال مقرر کر دی، کم عمری کی شادی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا، نکاح خواں کے لیے ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید، سہولت کاروں کے لیے 5 لاکھ روپے جرمانہ اور 2 سے 3 سال قید، جبکہ اس جرم کے نتیجے میں ساتھ رہنے (cohabitation) پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 7 سال تک قید کی سخت سزائیں نافذ کر دیں۔
اس قانون سازی کے بعد اب خیبر پختونخوا پورے ملک کا واحد بدقسمت صوبہ بن کر رہ گیا ہے جہاں 18 برس کی قانونی حد نافذ نہیں ہو سکی۔ خیبر پختونخوا کا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل قانونی محکمے کی باقاعدہ توثیق کے باوجود برسوں سے صوبائی اسمبلی اور کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے اور اسے بار بار اسلامی نظریاتی کونسل (CII) کے مباحثوں اور سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا جاتا رہا ہے۔ مئی 2026 میں پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی صوبائی مشاورتی اجلاس میں چائلڈ پروٹیکشن کمیشن، صوبائی کمیشن برائے وقارِ نسواں (KPCSW)، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مزید وقت ضائع کیے بغیر اس بل کو صوبائی اسمبلی سے پاس کرایا جائے۔ ہم ایوانوں میں بحث بحث کھیل رہے ہیں اور ہسپتالوں کے لیبر رومز میں بچیوں کی لاشیں اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے گنتی گن رہے ہیں۔
ہمیں کسی ایک فرد یا ادارے پر انگلی اٹھانے کے بجائے یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اس خاموش جرم میں ہم سب کسی نہ کسی درجے میں شریک ہیں۔ ہم جو بیٹی کے کم عمری کے نکاح کو “فرض کی ادائیگی” کہہ کر خوش ہوتے ہیں، ہم جو سماجی رسوائی کے خوف کو حیا کا لبادہ اوڑھاتے ہیں، اور وہ قانون ساز جو ہر اجلاس میں اس بل کو “مغربی ایجنڈا” کہہ کر سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں۔
اصلاح کا راستہ قطعی مبہم نہیں، بس سیاسی اور اخلاقی جرات درکار ہے۔ صوبائی اسمبلی فی الفور شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کا بل منظور کرے، اور نکاح خواں اور یونین کونسل کے سیکرٹریوں کے لیے ب فارم یا نادرا کے شناختی کارڈ سے عمر کی تصدیق لازمی قرار دی جائے۔ علماء کرام اور مساجد کے منبر کو بیٹیوں کی بقا اور صحت کے تحفظ کی اس شرعی اور انسانی مہم میں صفِ اول پر لایا جائے، کیونکہ جو شعور جمعے کے خطبے سے اجاگر ہوگا وہ کسی اخباری اشتہار سے ممکن نہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، جو گھر گھر جا کر عورت اور علاج کے درمیان واحد پل کا کام کرتی ہیں، انہیں تحفظ اور معقول وسائل دیے جائیں، اور دور دراز علاقوں کے مراکزِ صحت میں جدید ہنگامی زچگی کی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ کسی بچی کو زندگی اور موت کے فیصلے کے لیے گھنٹوں کا سفر نہ کرنا پڑے۔ اور سب سے اہم یہ کہ ہر بیٹی کے لیے ثانوی تعلیم مفت اور لازمی بنائی جائے، کیونکہ جب بچی کے ہاتھ میں قلم اور ذہن میں شعور ہوتا ہے تو وہ نہ صرف دیر سے بیاہی جاتی ہے بلکہ ایک توانا قوم کی بنیاد بھی رکھتی ہے
اور سب سے اہم یہ کہ ہر بیٹی کے لیے ثانوی تعلیم مفت اور لازمی بنائی جائے؛ کیونکہ جب بچی کے ہاتھ میں قلم اور ذہن میں شعور ہوتا ہے، تو وہ نہ صرف دیر سے بیاہی جاتی ہے بلکہ ایک توانا قوم کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے اس بستر پر بے ہوش پڑی سترہ برس کی بچی شاید ادویات کے سہارے سنبھل جائے، اور شاید اس کے انکیوبیٹر میں بند بچے کی ڈوبتی سانسیں بھی سلامت رہ جائیں۔ لیکن اگر ہم نے قانون کے ترازو اور ضمیر کی آنکھ پر بندھی پٹی نہ کھولی، تو کل کسی اور ہسپتال کا بستر ہوگا، کسی اور پسماندہ گاؤں کی معصوم گڑیا ہوگی، اور وہی لاحاصل سوال۔ سوال یہ نہیں کہ وہ لڑکی کتنی بدقسمت تھی۔ سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ ریاست اور سماج کتنے بے حس ہیں


