نیوز فیڈ میں ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں صاحبِ پوسٹ نے جی سی یونیورسٹی کی سابقہ وائس چانسلر (پی ایچ ڈی فزکس) کی سائنسی قابلیت اور ان کی بظاہر سخت گیر مذہبی سوچ کے تضاد کو ایک بڑا المیہ بنا کر پیش کیا۔ ان کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ ایک مذہبی یا روایتی سوچ رکھنے والا شخص سائنسی تعلیم کی روح اور جامعہ کے انتظامی منصب کے شایانِ شان نہیں ہو سکتا۔ مگر سقراطی زاویے سے جب میں اس مفروضے کا معائنہ کرتا ہوں، تو خود انہی کے منطقی دائرے سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ: کیا کسی ادارے کے زوال کا سبب محض مذہبی رجحان ہے، اور کیا نام نہاد روشن خیالی بذاتِ خود علمی فضیلت کی ضامن ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پنجاب یونیورسٹی کے موجودہ وی سی ڈاکٹر محمد علی شاہ (پی ایچ ڈی زولوجی) جیسے نامور، ترقی پسند اور روشن خیال کہلوانے والے منتظمین جو بی زیڈ یو ملتان سے لے کر قائد اعظم یونیورسٹی تک وائس چانسلر رہے اور ان جیسے درجنوں سیکولر ماہرین تعلیم ہمارے اداروں کو کیمبرج یا آکسفورڈ کے ہم پلہ کیوں نہ بنا سکے؟
حقیقت یہ ہے کہ انسانی شعور میں سائنسی مہارت، انتظامی قابلیت اور نظریاتی شدت پسندی الگ الگ خانوں (Compartments) میں بیک وقت رہ سکتی ہیں۔ سائنسی علوم میں پی ایچ ڈی ہونا اور ساتھ ہی سخت گیر مذہبی خیالات کے تحت انتظامیہ چلانا کوئی انہونی بات نہیں۔ ہماری پچھلی نسل کے نامور سائنس دانوں اور وی سیز کی ایک بڑی تعداد نسیم حجازی کے تاریخی ناولوں اور ابن صفی کی ‘عمران سیریز’ کی سحر انگیزی میں پلی بڑھی، جن کے ہیروز محمد بن قاسم، غوری، غزنوی اور سلطان ٹیپو تھے، اور جن کی تائید نجی نشستوں میں اسامہ بن لادن یا تاشفین ملک جیسے کرداروں کے لیے بھی نکل آتی تھی؛ لیکن اس فکری تضاد کے باوجود انہوں نے لیبارٹریاں بھی آباد کیں اور دفتری نظم و ضبط بھی سنبھالا۔ کسی ادارے کا کیمبرج نہ بن پانا نظام تعلیم میں فکری آزادی کی نفی، مکالمے پر قدغن اور تحقیقی کلچر کے فقدان کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض کسی منتظم کے ذاتی یا روایتی عقائد کا۔
انتہا پسندی کا یہ مرض صرف مذہبی رجحان تک محدود نہیں۔ یہی فکری عصبیت اور کج بحثی ہمیں ان نام نہاد عقلیت پسند ملحدین اور خرد افروز حلقوں میں بھی نظر آتی ہے جن کی مذہب سے بیزاری آگے بڑھ کر ایک اندھے فوبیا میں ڈھل جاتی ہے۔ وہ خود کو تو تنقیدی عقل کے علمبردار سمجھتے ہیں، مگر عملا ہر اس شخص کی سائنسی اہلیت اور حقِ رائے کے منکر ہو جاتے ہیں جو ان کے سیکولر سانچے میں فٹ نہ بیٹھتا ہو۔
اسی تضاد کو سادہ انداز میں ، میں نے اس پوسٹ کے نیچے کمنٹ میں بیان کردیا۔
اس پر محترم شرافت رانا نے مجھ سے نیچے کمنٹ میں پوچھا کہ:
“مذہبی فوبیا کا شکار لوگ آج تک کتنے مذہبی لوگوں پر خود کش حملہ یا بم دھماکے کرنے کے مجرم پائے گئے ؟ معلومات میں اضافہ کیلئے سوال کیا ہے ؟”
ان کی مذہبی فوبیا سے مراد مغربی خرد افروز، عقلیت پسندانہ الحاد پر یقین رکھنے والے ایسے لوگ ہیں جو نفسِ مذہب سے شدید نفرت کرتے ہیں۔
میرے نزدیک بظاہر یہ سادہ نظر آنے والا سوال محض ایک سطحی استفسار نہیں بلکہ گہرے فلسفیانہ اور عمرانی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
میں پہلے اپنے پسندیدہ فلسفی سقراط کے طرزِ فکر کی روشنی میں اس سوال کا جائزہ لوں گا، کیونکہ سقراطی طریقہ کار کا حسن یہ ہے کہ وہ مد مقابل کو غیر متعلقہ مباحث میں الجھانے کے بجائے خود اس کے اپنے ہی طے کردہ مقدمات، مفروضات اور تعریفات کے فکری تضاد کو اس کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
اس حوالے سے میرے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ آتا ہے :
کیا کسی فکر یا نظریے کے پرتشدد ہونے کی سند مقتول کا بے رحمانہ خاتمہ ہوتا ہے یا قاتل کی اپنی ہلاکت؟
اگر تشدد کا جوہر اور اس کی اخلاقی و قانونی قباحت یہ ہے کہ ایک انسان کو محض اس کے عقیدے، نظریے یا مذہبی تشخص کی بنیاد پر اس کے زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جائے، تو پھر مارنے کے حربے یا تکنیک کو اپنی اخلاقی برتری کی دلیل بنا لینا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟
یہاں ہمارا سامنا ایک گہرے زمرہ جاتی مغالطے
Category Mistake/ fallacy
سے ہوتا ہے:
جو انسان خالص مادیت پسندی، سائنسی لادینیت اور ماورائیت سے عاری خرد افروزی کے فریم ورک میں سانس لے رہا ہے، اس کے نزدیک مادی دنیا اور اس کی اپنی حیاتیاتی بقا ہی کل حقیقت ہے۔
اس کے مادیاتی نظامِ فکر میں کسی بعد از مرگ انعام، جنت کے حصول، حیاتِ جاودانی یا ابدی نجات کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں۔
ایسے مادہ پرست انسان سے یہ توقع باندھنا کہ وہ اپنے نظریے کی ترویج کے لیے خودکش جیکٹ پہن کر خود کو ریزہ ریزہ کر لے گا، بذاتِ خود ایک مضحکہ خیز اور فکری تناقض ہے۔
وہ اپنے افادی، مادی اور معاشی شعور کے تحت تشدد کے ہمیشہ وہ حربے اختیار کرے گا جن میں اس کی اپنی جان محفوظ رہے اور سامنے والے کا خاتمہ ہو جائے۔
لہٰذا خودکش حملہ نہ کرنا الحاد، سیکولرازم یا روشن خیالی کی اخلاقی برتری کا ثبوت نہیں ہوگا ، بلکہ ان کی مادی بقا اور خود پسندی کے فلسفے کا ایک ناگزیر اور منطقی تقاضا بنتا ہے۔ لیکن ہم جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ملحد ، سیکولر ، خرد افروز ہونے کے دعوے دار افراد اور گروہوں نے اپنے خودپسندی کے فلسفے اور اس کے ناگزیر و منطقی تقاضے کے برعکس خودکش حملے یا قتل و غارت گری جیسے افعال سرانجام دے کر خود کو مضحکہ خیز بنایا ۔
ایسا کیوں ہوا؟
جیسا کہ فرینکفرٹ اسکول کے نامور فلسفیوں میکس ہورک ہائیمر اور تھیوڈور ایڈورنو نے اپنی شاہکار کتاب
Dialectic of Enlightenment
ڈائلیکٹک آف اینلائٹنمنٹ
خردافروزی کی جدلیات
میں سقراطی و تنقیدی انداز میں ثابت کیا کہ خرد افروزی جب اپنے نقائص سے آنکھیں چرا کر عقلِ محض کو مطلق بنا لیتی ہے، تو وہ خود ایک تاریک اور سفاک اسطورہ
(Myth)
بن کر ہر “دوسرے” کی نفی اور تشدد پر اتر آتی ہے۔
اس فکری و سقراطی محاکمے کے بعد اگر ہم سرمایہ دارانہ یورپ اور امریکہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں، تو عسکریت پسند الحاد، اینٹی تھیئزم (نفس مذہب سے دشمنی) اور انتہا پسندانہ سیکولر خرد افروزی کے ہاتھوں مذہبی انسانوں اور ان کے مقدس مقامات پر بم دھماکوں اور خونریزی کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آتے ہیں۔
اس کی کلاسیکی ابتدا خود سرمایہ دارانہ اور لبرل یورپ کی فکری ماں یعنی انقلابِ فرانس کے اس دور سے ہوتی ہے جب روشن خیالی کے انتہا پسند دھڑوں، بالخصوص ژاک ہیبرٹ اور پیئر شومیٹ کے پیروکاروں نے “عقل کی پرستش”
(Cult of Reason)
کو ریاستی مذہب کا درجہ دیا۔
1793 اور 1794 کے دہشت کے دور میں پیرس کے نوٹرڈیم کیتھڈرل سے لے کر فرانس بھر کے گرجا گھروں کو تاراج کیا گیا، پادریوں کے مقابر کو بارود سے اڑایا گیا اور “نانت کی غرقابیوں”
(Noyades de Nantes)
میں ہزاروں پادریوں، راہباؤں اور عام مذہبی معتقدین کو بارودی سزاؤں اور کشتیوں میں سوراخ کر کے دریائے لوئر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بربریت کسی ماورائی عقیدے کے تحت نہیں، بلکہ “مذہبی توہم پرستی کے مکمل خاتمے
اور خالص سائنسی عقل کے غلبے” کے نام پر کی گئی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں سرمایہ دارانہ مغربی یورپ کا ایک اور المناک باب 1909 میں بارسلونا کی “سیمانا تراخیکا” (Tragic Week)
کی صورت میں رقم ہوا۔ وہاں الیژینڈرو لیرو کی قیادت میں پروان چڑھنے والی عسکریت پسند مذہب مخالف روشن خیال تحریک نے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولا کہ مذہبی ادارے انسانی آزادی کے اصل مجرم ہیں۔
اس انتہا پسند لادین جنون کے زیرِ اثر سیکولر مظاہرین نے دستی ساختہ بارودی بموں اور مٹی کے تیل کے کنستروں سے 80 سے زائد گرجا گھروں اور کانونٹس کو نذرِ آتش اور تباہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف عبادت گاہوں کو اڑایا بلکہ قبرستانوں سے راہباؤں کی لاشیں نکال کر سڑکوں پر محض اس غرض سے رکھیں تاکہ تضحیک آمیز انداز میں یہ ثابت کیا جا سکے کہ ان میں کوئی مقدس کرامت موجود نہیں تھی۔
جدید جمہوری امریکہ میں بھی مذہب دشمن الحاد کا متشدد چہرہ نہایت سفاک صورت میں سامنے آیا۔
2015 میں شمالی کیرولائنا کے شہر چیپل ہل میں رچرڈ ڈاکنز اور کرسٹوفر ہچنز کی تحریروں اور “نیو ایتھی ازم” کے جارحانہ مذہب مخالف منشور کا متحرک حامی کریگ اسٹیفن ہکس اپنے پڑوس میں رہنے والے تین نوجوان مسلم طلبہ (شادی شدہ جوڑے ضیاء برکات، یسر ابو صالحه اور ان کی بہن رزان ابو صالحه) کے فلیٹ میں داخل ہوا اور انتہائی سرد مہری کے ساتھ ان تینوں کے سروں میں پوائنٹ بلینک رینج سے گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔
قاتل سوشل میڈیا پر خود کو کھلم کھلا “اینٹی تھیئسٹ” اور تمام مذاہب کا پرجوش دشمن لکھتا تھا اور اس قتل کی بنیادی وجہ ان مظلوموں کا مسلم اور باحجاب تشخص تھی۔ اس نے خود کو اڑانے کے بجائے بندوق کے محفوظ فاصلے سے شکار کرنے کی وہی مادی و افادی منطق آزمائی جو الحادی فلسفے کا خاصہ ہے۔
اسی طرح امریکہ کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) کے عدالتی ریکارڈز میں ایسے درجنوں مقدمات محفوظ ہیں جہاں مذہب مخالف اور سفید فام سیکولر نظریات رکھنے والے شدت پسندوں نے مساجد اور مذہبی مراکز پر باقاعدہ دیسی ساختہ بارودی بم
(Pipe Bombs)
اور دھماکہ خیز مواد کے ذریعے حملے کیے۔
مثال کے طور پر 2017 میں ریاست منیسوٹا کے دارالفاروق اسلامک سینٹر پر صبح کی نماز کے دوران کھڑکی توڑ کر پائپ بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں امام مسجد کے دفتر میں زبردست دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ گرفتار ہونے والے ملزمان نے بعد ازاں عدالت میں اعتراف کیا کہ ان کا واحد مقصد مذہبی انسانوں کو خوفزدہ کر کے ان کے مذہبی تشخص کو ختم کرنا تھا۔
تامل ٹائیگرز نامی تنظیم سے کون واقف نہیں ہے ۔ یہ تنظیم اپنے تئیں بائیں بازو کی مارکس وادی تنظیم تھی اس نے اپنے اندر خودکش بمبار عورتوں اور مردوں کا ایک باقاعدہ ونگ قائم کیا ۔ اسی بمبار ونگ کی ایک تامل عورت نے راجیو گاندھی کو خودکش جیکٹ پہن کر خود کو اڑا کر قتل کر ڈالا تھا ۔
تیسری دنیا کو مہذب بنانے ، انھیں روشن خیال ، عقلیت پسند ، جدید سائنسی تعلیم سے آراستہ کرنے کے نام پر مغرب کے نام نہاد روشن دماغ نوآبادیاتی آقاؤں نے جو ظلم و بربریت بپا کی اس کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
میں یہاں مغرب کی جامعات کی ترقی کے پیچھے پوری دنیا سے سرمایہ داری کی لوٹ کھسوٹ کرکے ان جامعات پر تین صدیوں کے دوران ہونے والی اس سرمایہ کاری کی تاریخ کے پیچھے نہیں جانا چاہتا جسے صرف ان جامعات میں فکری آزادی کے چلن سے ہونے والی ترقی کہہ کر چھپا لیا جاتا ہے ۔
یہ تمام فلسفیانہ اور تاریخی شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب تشدد سرمایہ دارانہ مغرب کے لادین، عقلیت پسند اور مذہب دشمن ذہن سے پھوٹتا ہے، تو وہ اپنی جسمانی خودکشی کے بجائے بارود، ریموٹ کنٹرول دھماکوں، پائپ بموں اور جدید خودکار اسلحے کے ذریعے دوسرے کا وجود مٹاتا ہے۔
لہٰذا دہشت گردی کے جائزے کے لیے “خودکش جیکٹ” کی شرط لگانا محض ایک علمیاتی فریب ہے تاکہ مقتولین کے بہتے ہوئے خون پر خاموشی کی چادر ڈالی جا سکے۔
یہ پوسٹ پڑھنے والے یہ زور خیال رکھیں کہ یہ تحریر الحاد ، لادینیت( سیکولر اس کا مترادف نہیں ہے اینٹی رلیجن یا ایتھئسٹ ہے ) ، عقلیت پسندی اور مذھب دشمن زہن سے پھوٹنے والے تشدد کو بے نقاب کرکے مذھب پرست ، دینی ، انتہاپسند ذہن سے پھوٹنے والے تشدد اور خون ریزی کرنے والوں کے لیے کوئی عذر پیش کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے، بلکہ یہ دونوں اطراف کے مقدمات میں پائے جانے والے فکری تضاد اور تناقض کو ظاہر کرنے کے لیے تحریر کی گئی ہے ۔


