پی ٹی آئی اب بھی اسٹبلشمنٹ کی پراکسی ہے؟- اسلم اعوان

ماضی کی طرح ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کا بنیادی المیہ یہی ہے کہ سیاسی قوتیں باہمی مفاہمت، مکالمے اور جمہوری انداز میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کھڑی ہیں۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت سے مسلسل گریز اور مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، مجموعی طور پر پارلیمانی سیاست اور سویلین بالادستی کے امکانات کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ اس سیاسی انتشار کا سب سے بڑا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ اس جمہوری نظام کو پہنچ رہا ہے جس کی بنیاد سیاسی اداروں کی خودمختاری، آئین کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر استوار ہونی چاہیے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تحریکِ انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشمکش کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد روایتی سیاسی قوتوں کو بتدریج غیر مؤثر کرکے ایک زیادہ آمرانہ طرز حکمرانی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم، سیاسی عمل کے عملی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا مسلسل محاذ آرائی، سیاسی جماعتوں کی باہمی بداعتمادی اور جمہوری قوتوں کی تقسیم بالآخر ایسے نظام کو تقویت نہیں دے رہی جس میں منتخب نمائندوں اور پارلیمان کی فیصلہ سازی کی گنجائش سکڑتی چلی جائے۔ بلاشبہ سیاسی حکمت عملی کا جائزہ محض نعروں یا دعوؤں سے نہیں، بلکہ اس کے ادارہ جاتی نتائج سے لیا جاتا یے۔

اس تناظر میں کہنہ مشق سیاستدان کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن پر اہم سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ اختلافات کو مزید گہرا کرنے کے بجائے وسیع تر جمہوری مکالمے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت ملک کی اہم سیاسی قیادت سے رابطہ کرکے ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کی کوشش کر سکتے ہیں، جہاں سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری، شفاف انتخابات اور جمہوری اداروں کے استحکام جیسے بنیادی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ یہ عمل کسی جماعت کی سیاسی برتری قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ جمہوری سیاست کے لیے یکساں اور آئینی اصولوں پر مبنی میدان فراہم کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔

تحریکِ انصاف کے لیے بھی یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ آیا وہ سیاسی بحران کا حل دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں تلاش کرنا چاہتی ہے یا اس کی ترجیح اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کرنا ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کا سیاسی مستقبل دیگر منتخب جماعتوں کے بجائے غیر منتخب طاقت کے ساتھ مفاہمت سے مشروط ہو جائے تو اس کی جمہوری سیاست اور سیاسی خودمختاری کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرکے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش پراکسی ہونے کا قطعی ثبوت تو نہیں مگر مشتبہ ضرور ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی اجتماعی بقاء کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات کا حل آئینی اور پارلیمانی طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کرنے پر آمادہ ہیں یا نہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی قیادت کے مابین بڑھتی ہوئی دوریاں بھی محض شخصی اختلافات کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں اعتماد کے بحران کی عکاس ہیں۔ 2024 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی بداعتمادی، انتخابی نتائج پر اعتراضات اور مختلف سیاسی فیصلوں نے جماعتوں کے باہمی تعلقات کو متاثر کیا۔ اگر ان اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مستقل سیاسی دشمنی میں تبدیل کردیا جائے تو اس کا فائدہ ان قوتوں کو پہنچ سکتا ہے جو سیاسی جماعتوں کی تقسیم کے ماحول میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم، اس امکان کو کسی منظم سازش کا ثابت شدہ نتیجہ قرار دینے کے بجائے سیاسی حالات اور ادارہ جاتی رویوں کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔

اسی طرح مذہبی اور نظریاتی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم بھی توجہ طلب ہے۔ فرقہ واریت، مذہبی شناخت، قومیت، لسانی اختلافات اور سیکولرزم سے متعلق مباحث اگر سیاسی مکالمے کے بجائے باہمی نفرت اور گروہی تصادم کا ذریعہ بن جائیں تو مذہبی و سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔ نظریاتی اختلاف جمہوری سیاست کا فطری حصہ ہیں لیکن اختلاف کو مستقل دشمنی میں بدل دینا جمہوری ارتقا کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نظریاتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی آئین، شہری آزادیوں، مذہبی رواداری اور جمہوری اصولوں پر مشترکہ جدوجہد ممکن ہے۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں آئے گی یا کون سا رہنما سیاسی طور پر غالب ہوگا بلکہ یہ ہے کہ ملک میں اقتدار کے استعمال، منتقلی اور نگرانی کے قواعد کس حد تک آئین کے تابع ہوں گے۔ اگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے غیر جمہوری راستوں پر انحصار کرتی رہیں تو بالآخر سب کی سیاسی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ تاریخ کا اہم سبق یہ ہے کہ جب سیاسی قوتیں اپنے فوری مفادات کو مشترکہ جمہوری مفاد پر ترجیح دیتی ہیں تو ان کے درمیان پیدا ہونے والا خلا اکثر غیر منتخب اداروں کے اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس لیے نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن،حافظ نعیم الرحمن، مفتی تقی عثمانی، محمود خان اچکزئی اور عمران خان سمیت ملک کی اہم سیاسی قیادت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ محض اقتدار کی سیاست سے آگے بڑھ کر وسیع تر آئینی و جمہوری اتفاق رائے کی کوشش کریں۔ اس اتفاق رائے کا مطلب سیاسی اختلافات کا خاتمہ یا تمام جماعتوں کا ایک ہی مؤقف اختیار کرنا نہیں بلکہ اختلافات کے باوجود چند بنیادی اصولوں پر متحد ہونا ہے، جس میں پارلیمان کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، شفاف انتخابات، سیاسی انتقام کی مخالفت، شہری حقوق کا تحفظ، سماجی و سیاسی آزادیاں اور ریاستی اداروں کا آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا شامل ہو۔

بالآخر، جمہوریت کا تحفظ کسی ایک جماعت کی کامیابی یا کسی ایک رہنما کی سیاسی بقا سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے سیاسی قوتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی باہمی دشمنی کسی ایک فریق کو وقتی فائدہ تو پہنچا سکتی ہے لیکن اس کی قیمت پورا جمہوری نظام ادا کرسکتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت نے اب بھی مفاہمت، مکالمے اور آئینی بالادستی کو ترجیح نہ دی تو سیاسی تقسیم کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، سویلین ادارے مزید کمزور ہوسکتے ہیں اور عوامی مینڈیٹ کی مؤثر نمائندگی کا امکان محدود تر ہوتا جائے گا۔ عوام حق حکمرانی اور جمہوری بقا کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے سے پہلے اس نظام کو مضبوط بنانے پر متفق ہوں جس کے اندر ان سب کی سیاسی بقا اور عوامی نمائندگی کا مستقبل پنہاں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں