پیرس کے در و دیوار ایک بار پھر تاریخ کے سب سے بڑے سچ کی گواہی دے رہے ہیں کہ جب تک محنت کش اور نوجوان طبقہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نہیں آتا، تب تک حکمران طبقے کی عیاشیاں برقرار رہتی ہیں۔ فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام کے چہرے پر پڑا ہوا ’جمہوریت‘ اور ’قانون کی بالادستی‘ کا نقاب ایک بار پھر تار تار ہو چکا ہے۔ میکرون انتظامیہ اور فرانسیسی ریاست کا یہ اعتراف کہ “پولیس کنٹرول کھو چکی ہے”، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ جب مظلوم طبقے کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو ریاست کے جبر کے تمام مروجہ اوزار ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
آج جو سرمایہ دارانہ میڈیا ان مظاہروں کو محض “ہنگامہ آرائی”، “لوٹ مار” اور “لا قانونیت” کا نام دے کر بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ درحقیقیت بورژوازی پر منڈلانے والا محنت کش طبقے کی بیداری کا خطرہ ہے۔ یہ کوئی اچانک پھٹنے والا ہنگامہ نہیں ہے۔ یہ اس سرمایہ دارانہ بربریت، ہوشربا مہنگائی، نجکاری اور تعلیمی نظام کی تباہی کے خلاف جمع ہونے والا وہ لاوا ہے جو اب پیرس، لیون اور مارسیل کی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔
مئی 1968ء اور آج کا فرانس: تاریخ کا تسلسل
بہت سے تاریخ دان اور لبرل دانشور آج کے حالات کا موازنہ مئی 1968ء کی عظیم انقلابی تحریک سے کر رہے ہیں۔ یقیناً ان دونوں تحریکوں میں گہری مماثلت ہے۔ مئی 1968ء میں بھی چنگاری نانتیغ (Nanterre) کے طلبہ نے لگائی تھی اور آج بھی یہ تحریک اسکولوں اور کالجوں کے ان نوجوانوں نے شروع کی ہے جن کا مستقبل اس گلے سڑے نظام نے تاریک کر دیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تاریخ خود کو دہراتی ضرور ہے، مگر ایک نئے اور زیادہ بلند پیمانے پر۔ 1968ء کا فرانس معاشی طور پر مستحکم تھا، وہ سرمایہ داری کے “سنہری دور” کا وقت تھا۔ جہاں بظاہر لڑائی آزادی اور آمرانہ رویوں کے خلاف تھی۔ لیکن آج کا بحران سرمایہ داری کے تاریخی زوال کا عکاس ہے۔ آج کا نوجوان محض نظریاتی بحثوں کے لیے سڑکوں پر نہیں ہے، وہ روٹی، روزگار، سستے ایندھن اور جینے کے بنیادی حق کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔
جب لبرل میڈیا 1968ء کے طلبہ کو “دانشور” اور آج کے مضافاتی نوجوانوں کو “لوٹ مار کرنے والے” کہہ کر تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ ان نوجوانوں کے طبقاتی غصے کو چھپانا چاہتا ہے۔ جب ایک نوجوانوں دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کارپوریشنز اربوں کا منافع کما رہی ہیں اور اس کے اسکول کی چھت گر رہی ہے، اس کے والدین ایندھن اور راشن کے پیسے پورے نہیں کر پا رہے۔ تو اس کا غصہ ان کارپوریشنوں کے چمکتے ہوئے شو رومز پر ہی نکلے گا۔ یہ لوٹ مار نہیں، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی کی واپسی کا ایک غیر منظم اور شعور سے عاری ردعمل ہے۔ جسے لینن محنت کشوں کا خام شعور کہتا تھا،
تحریک کی کمزوری اور انقلابی متبادل کی ضرورت
فرانسیسی وزیر اعظم نے کرفیو لگا دیے، فوج اور پولیس کی بھاری نفری سڑکوں پر اتار دی، انٹرنیٹ پر سنسرشپ قائم کر دی۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران طبقہ اندر سے کانپ رہا ہے۔ لیکن ایک مارکسسٹ ہونے کے ناطے ہمیں حقیقت پسندی سے حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ آج کی اس عظیم تحریک میں مئی 1968ء کی طرح لاکھوں محنت کش، اساتذہ اور Yellow Vest کے کارکنان شامل ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس تحریک کو ایک بہت بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے: ایک انقلابی قیادت اور واضح پروگرام کی کمی۔
مئی 1968ء میں بھی ٹریڈ یونین کی موقع پرست قیادت اور سٹالنسٹ پارٹیوں نے تحریک کو پسپائی کی طرف دھکیلا اور چارلس ڈیگال کی گرتی ہوئی حکومت کو لائف لائن فراہم کی۔ آج بھی اگر اس عوامی غصے کو ایک منظم سیاسی طاقت میں تبدیل نہ کیا گیا، اگر اس تحریک کو فیکٹریوں، اسکولوں اور محلوں میں “عوامی کمیٹیوں” کی شکل نہ دی گئی، تو حکمران طبقہ کچھ عارضی مراعات یا شدید جبر کے ذریعے اس ابھار کو کچلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ آنے والے صدارتی انتخابات اس بحران کا حل نہیں ہیں، کیونکہ بیلٹ بکس کے ذریعے اس نظام کی جڑوں کو نہیں کاٹا جا سکتا۔
راستہ صرف ایک ہے: سوشلسٹ انقلاب!
فرانس کے نوجوانوں اور محنت کشوں نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ سڑکوں پر موجود عوام ہیں۔ پولیس کا کنٹرول کھونا دراصل سرمایہ داری کے اقتدار کا کھوکھلا پن ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ سرمایے کا یہ بھیڑیے نما نظام خود بخود نہیں مرے گا۔ اسے محنت کش طبقے کی منظم اور شعوری ہڑتالوں کے ذریعے آخری دھکا دینا ہوگا۔ فرانس کی سڑکوں سے اٹھنے والی یہ چنگاری صرف فرانس تک محدود نہیں رہے گی، یہ پورے یورپ اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ مستقبل انتخابات یا پارلیمنٹ کے بند کمروں میں نہیں، بلکہ سڑکوں پر جاری طبقاتی جنگ سے طے ہوگا۔ پیرس کمِیون اور مئی 1968ء کی روح آج پھر پکار رہی ہے:
محنت کشو! آگے بڑھو، سرمایہ داری کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو اور ایک سرخ، سوشلسٹ مستقبل کی بنیاد رکھو!
#france


