خاموشی/ علی عبداللہ

خاموشی آواز کی عدم موجودگی کا نام نہیں ہے- یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں باہر کی دنیا اپنی گرفت ڈھیلی کرنے لگتی ہے اور اندر کی دنیا آہستہ آہستہ اپنے در وا کرتی ہے۔ آدمی جب بولتے بولتے تھک جاتا ہے، جب لفظ اپنے مفہوم سے خالی ہونے لگتے ہیں اور گفتگو محض شور بن جاتی ہے، تب کہیں جا کر اسے خاموشی کی اصل معنویت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض راز گفتگو کے ذریعے نہیں، سکوت کی رفاقت میں ہی منکشف ہوتے ہیں۔

انسان کی ایک دنیا وہ ہے جسے وہ دوسروں کے سامنے آباد کرتا ہے؛ ایک دنیا وہ ہے جس میں وہ خود بھی کم کم داخل ہوتا ہے۔ پہلی دنیا میں تعارف، تعلق، مصلحت اور اظہار کی گہما گہمی ہے- دوسری میں یادوں کے دھندلکے، خواہشوں کی نامکمل صورتیں، پچھتاوے کی پرچھائیاں اور ایسے سوالات ہیں جن کا جواب کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ خاموشی اسی دوسری دنیا کا راستہ ہے۔ مگر اس راستے پر چلنے کے لیے آدمی کو اپنے ہی وجود کی اجنبیت قبول کرنا پڑتی ہے۔ اپنے اندر اترنا آسان نہیں؛ وہاں بعض اوقات وہ چہرے بھی ملتے ہیں جنہیں ہم مدتوں دوسروں سے نہیں، خود اپنی نگاہ سے چھپاتے آئے ہیں۔

خاموشی کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی ظاہری شناخت سے آزاد کر دیتی ہے۔ شور میں درخت محض درخت رہتا ہے، خاموشی میں اس کی شاخوں پر وقت کی گردش سنائی دینے لگتی ہے۔ پانی محض بہتا ہوا پانی نہیں رہتا، اس میں گزر جانے والے زمانوں کی کوئی نامعلوم کہانی کروٹ لینے لگتی ہے۔ رات کا آسمان، جو دن کے ہنگاموں میں ہماری نگاہ سے اوجھل رہتا ہے، سکوت کے عالم میں ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس کے حروف روشنی سے لکھے گئے ہوں، مگر اسے پڑھنے کے لیے آنکھوں سے زیادہ باطن کی ضرورت ہے۔

فطرت شاید اسی لیے کم گو ہے کہ اسے اپنی موجودگی ثابت کرنے کی حاجت نہیں۔ دریا اپنے بہنے کی توجیہ پیش نہیں کرتا، درخت اپنی چھاؤں کا اشتہار نہیں دیتا، پھول اپنی خوشبو کی گواہی کے لیے کسی سامع کا محتاج نہیں۔ کائنات کا بڑا حصہ ہماری سماعت سے باہر اور ہماری زبان سے ماورا ہے۔ ہم نے اپنی تہذیب کو آوازوں، اعلانات اور اظہار کے انبار سے بھر دیا ہے، مگر زندگی کے بنیادی اسرار اب بھی وہاں موجود ہیں جہاں لفظ کی رسائی ختم ہو جاتی ہے۔ بیج کا مٹی میں پھوٹنا، بچے کا نیند میں مسکرانا، شام کا آہستہ آہستہ زمین پر اترنا، یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کے سامنے تشریح سے زیادہ تامل کی ضرورت ہے۔

تاہم، ہر خاموشی معرفت نہیں ہوتی۔ کچھ خاموشیاں خوف سے جنم لیتی ہیں، کچھ مصلحت کے بطن سے نکلتی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو انسان کو اپنے ہی اندر قید کر دیتی ہیں۔ وہ خاموشی جس میں آدمی اپنی آواز کھو بیٹھے، اور وہ خاموشی جس میں اسے اپنی آواز پہلی بار سنائی دے، دونوں میں فرق ہے۔ اصل سکوت وہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے فرار نہیں، اپنی ذات سے ملاقات کا حوصلہ عطا کرے۔ ایسا سکوت جو دل پر جمی ہوئی گرد کو ہٹائے، نہ کہ اسے اندھیروں کے حوالے کر دے۔

انسان کی عافیت شاید اسی ملاقات میں پوشیدہ ہے۔ ہم دوسروں کو سمجھنے کی کوشش میں عمر گزار دیتے ہیں، مگر اپنے باطن کے دریچوں پر دستک دینے کی فرصت نہیں نکالتے۔ دوسروں کی نیتوں کے تجزیے کرتے ہیں، ان کے لفظوں کے پوشیدہ معنی تلاش کرتے ہیں، ان کی خاموشیوں سے مفہوم اخذ کرتے ہیں؛ مگر کبھی اپنے دل سے نہیں پوچھتے کہ وہ کس دکھ کو چھپائے بیٹھا ہے؟ وہ کس خواہش سے دست بردار نہیں ہو سکا، اور کس سچائی کو جانتے ہوئے بھی قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ خاموشی ان سوالوں کو ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ وہ جواب نہیں دیتی، صرف اتنا کرتی ہے کہ سوال سے نظریں چرانے نہیں دیتی۔

باطن کا سفر کسی نئی منزل کی تلاش نہیں، اپنی ہی ذات میں موجود ان راستوں کی بازیافت ہے جن پر چلنے سے ہم عمر بھر کتراتے رہے۔ اس سفر میں کوئی رہنما ضروری نہیں، البتہ اپنے آپ سے بے رحمانہ دیانت داری ضروری ہے۔ یہاں آدمی کو اپنی کامیابیوں کے شور سے نکل کر اپنی ناکامیوں کی آواز سننی پڑتی ہے؛ اپنی نیکیوں کے تذکروں سے الگ ہو کر ان گوشوں میں جھانکنا پڑتا ہے جہاں اس کی خود غرضی، حسد، خوف اور کمزوری خاموشی سے بیٹھی ہوتی ہے۔ یہیں کہیں خود شناسی کا آغاز ہوتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں دوسروں کے لیے دل میں گنجائش پیدا ہونے لگتی ہے۔

یہاں یہ سمجھنا اہم ہے کہ خاموشی کسی غار میں پناہ لینے کا نام نہیں ہے- یہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے شور سے اپنی روح کو محفوظ رکھنے کا ہنر ہے۔ بولنا زندگی کی ضرورت ہے، مگر ہر ضرورت کو عادت بنا لینا دانائی نہیں۔ کچھ باتیں کہہ دینے سے چھوٹی ہو جاتی ہیں، کچھ احساسات اظہار کے بعد اپنی لطافت کھو دیتے ہیں، اور کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں زبان پر لانے سے پہلے اپنے اندر پوری طرح اترنے دینا چاہیے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ خاموشی کائنات کی وہ قدیم زبان ہے جسے ہم نے بولنا تو نہیں، سننا بھلا دیا ہے۔

بعض اوقات حقیقت تک پہنچنے کے لیے ایک لفظ کا اضافہ نہیں، ہزار لفظوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ اور جب اندر کا شور تھمتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی خالی نہیں تھی؛ ہم ہی اس کے اندر موجود آوازوں کو سننے کے لیے کبھی خاموش نہیں ہوئے تھے۔ خاموشی کسی راز کو دریافت کرنے کا نام نہیں، ہر راز کو فوراً دریافت کر لینے کی خواہش سے نجات پانے کا نام ہے۔ اپنے اندر اترنا ضروری ہے، مگر وہاں سے کوئی خزانہ لے کر لوٹنا ضروری نہیں۔ کبھی آدمی اپنے ہی باطن سے خالی ہاتھ واپس آتا ہے، لیکن اس کی نگاہ بدل چکی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی بات سنتے ہوئے کم مداخلت کرتا ہے، کسی کے دکھ پر فوراً نصیحت نہیں کرتا، اور ہر اختلاف کو اپنی ذات کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں سمجھتا۔

یہی خاموشی کا سب سے معتبر ثمر ہے- آدمی کم گو ہو جائے، یہ ضروری نہیں؛ مگر اس کے لفظوں میں کچھ گنجائش پیدا ہو جائے۔ دوسروں کے لیے، اپنے لیے، اور ان باتوں کے لیے بھی جنہیں ابھی کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں