اشرف شاد صحافی سے ناول نگار/ شہناز احد

اپنے دوست اشرف شاد کو مختلف پروگراموں اور تقریبات میں متعارف کرتے ہوۓ۔ یہ بات میں اتنی بار کہہ چکی ہوں کہ اب مجھے ازبر ہوگئ ہے۔ خاندانی نام اشرف علی بیگ، شاد ان کا تخلص ہے، دبلے پتلے ، درمیانہ قد ، دراز زلفیں جن کے اب صرف بقایا جات رہ گۓ ہیں ،پھلی پھولی مونچھیں اور سنہری عینک والے اشرف شاد کی جاۓ پیدائش مراد آباد،کراچی شہر میں ہوش سنبھالا،جوانی، دیوانی آئ تو قدم کراچی کے کوچہ صحافت میں تھے،شہر کے متعدد اخبارات میں چھوٹا بڑا کام کیا،درمیان ، درمیان شاعری پے بھی طبع آزمائ کرتے رہے۔ دوستوں کے دوست،بچپن سے انقلاب کے خواب دیکھنے والوں میں سے، وہی انقلاب جس کے لئے اب ہم سب ہنستے ہو ۓکہتے ہیں” ہماری جوانیوں کا الوژن جو یہاں کبھی نہیں آۓ گا”۔ اس ملک کی اردوصحافت میں ایک ایسے ہفت روزہ کے بانیوں میں سے کہ اس جیسا جریدہ صحافت میں دوبارہ نہ آسکا۔
ستر کی دہائ کے آخری سالوں میں ضیائ دور کی ستم ظریفیاں برداشت کرتے کرتے خاموشی سے ملک بدری کا فیصلہ کیا اور ایک صبح اس سر زمین کو جہاں ماں،بہنیں، بھائ، زندگی کی ساتھی،جان پدر اور سب کچھ تھا خدا حافظ کہہ دیا۔ اس وقت کورٹ کی پیشیاں،سیاسی اور معاشی دباؤ میں ان کا یہ فیصلہ ایک نوے ڈگری پے گھوم جانے والا فیصلہ تھا۔ ستر کی دہائ میں امریکہ کا ویزا ٹہلتے، ٹہلتے مل جاتاتھا اور see America کے ٹکٹ میں آٹھ شہروں میں ہوائی جہاز سے سفر کر سکتے تھے۔
اُن دنوں صحافیوں، سیاسیوں کی زندگیوں میں بہت اُلٹ پھیر چل رہا تھا۔ راتوں رات لوگ صحافت اور دیس چھوڑ کے جا رہے تھے۔ داؤد سبحانی، الطاف صدیقی، ظفر قریشی،جوہر میر ،حسن سنگرامی ، لطافت صدیقی ، شہریار جلیس ،انتظار زیدی ، کچھ وقفے سے مرزا اسماعیل ،یونس شرر وغیرہ اور بہت لوگ اس کشتی کے سوار بنے ۔ جہاز چڑھنے سے قبل ان میں سے کوئ نہیں جانتا تھاکہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
اشرف شاد کا ایک شعر یاد آرہا ہے۔

ایک شاد ہی نہیں جو وطن چھوڑ کر بکا
کتنے گھروں کا مال دکانوں تک آ گیا

ان سب نے وہاں جاکے زندگی کی گاڑی اور پیٹ کی آگ کے لئے وہ کچھ کیا جس کاجانے سے قبل انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔ داؤد سبحانی نے ٹیکسی چلائ، اشرف نے پکچر ہاؤس میں ٹکٹ سیل سے لے کے دیواروں پے رنگ پھیرنے تک کا کام کیا،لطافت صدیقی نےunder garment کے اسٹور پے کام کرنے کے بعد اپنی دکان بھی چلائ،ظفر قریشی نے بھی دکانوں پے اخبار بیچا، پھر اردو کے اخبار نکالے اس کے علاوہ بھی کچھ کام کئے جو ابھی مجھے یاد نہیں آرہے۔
اشرف کے ساتھ یہ اچھا ہوا کہ وہ جلد ہی امریکہ سے نکل کے بحرین پہنچ گۓ جہاں ان کی زندگی کی ساتھی یاسمین پہلے ہی پہنچ چکی تھیں۔ مزید اچھی بات یہ ہوئ کہ یہاں ان کا ناطہ دوبارہ صحافت سے جڑ گیا۔ یاسمین تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں جھنڈے گاڑتی رہیں اور اشرف صحافت میں، وہ باقاعدگی سے پاکستان آنے جانے لگے،اس دوران انھوں نے پاکستان کی حکومتی راہ داریوں کی خوب سیر کی اور متعدد سیاسی شخصیات سمیت حکمرانوں سے بھی گفت وشنید کی۔ اگر اور کچھ دن وہ بحرین ہی ٹکے رہتے تو ان کے اندر کا صحافی تو صحفیانہ کارنامے دکھاتا رہتا لیکن شاید ان کے اندر کا شاعر اور ناول نگار کہیں اندر ہی اندرانگڑائیاں لیتا رہ جاتا۔
اشرف کی شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگار ی والے جینز کے باہر آنے میں بہت بڑا کردار ان کی جلاوطنی یا وطن سے دوری ہی کا ہے۔ اگر وہ پاکستان میں رہ جاتے تو صحافی تو رہتے لیکن صحافت کی سیاست کے خاروگل ہی میں الجھے رہتے۔ وہ ایم اے آنرز کی ڈگری ساؤتھ ویلز یونیورسٹی آسٹریلیا سے حاصل نہ کر پاتے۔ نہ ہی وہ ایس بی ایس کی اردو سروس کے سر براہ اور آسٹریلیا میں ہندوستان کی خبر رساں ایجینسی UNI اور روزنامہ DAWN کے نمائندے بن پاتے۔ انھیں بحرین اور کویت کے اخباروں میں کام کرنے ، یواے ای یونیورسٹی کے انگریزی رسالے ریسرچ افیرز کے ایڈیٹر اور دوبئ کی ایک یونیورسٹی میں سکرپٹ راٹینگ اور میڈیا کے دیگر کورسز پڑھانے کا موقع بھی نہ ملتا۔
وطن سے دوری نے ان کے بہت سے جواہر کو آشکارا کیا ہے۔ ان کے ناول “بے وطن میں ہر اس شخص کا عکس نظر آتا ہے جو کسی بھی سبب سے وطن چھوڑنے پے مجبور ہوتا ہے۔ صدر محترم ، وزیراعظم ، جج صاحب،اینکر پرسن کو پڑھتے ہوۓ ، ایک لمحے کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم ان بڑے ،بڑے عنوانات پر مشتمل کو ئ ناول پڑھ رہے ہیں۔ قاری خود کو ان ایوانوں میں چلتا پھرتا ، سانس لیتا، سوتا جاگتا محسوس کرتا ہے،جو کہانیاں اس نے صرف سنی ہوتی ہیں، ناول پڑھتے وقت وہ خود کو وہاں کھڑا محسوس کرتا ہے۔ ان کی دیگر مطبوعات میں پیلی لکیر ، اللہ میاں کے گھر افسانوں کے مجموعے اورنصاب،آمیرےقریب آ،اخبار عشق اشرف کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی دیگر کتب میں under ground,صحافت کے خاروگل،کراچی پریس کلب شامل ہیں۔
ان کاناول بے وطن ہندی میں ترجمہ ہوکے دہلی سےبھی شائع ہوچکا ہے۔ ان کے ادبی کاموں پر ایک کتاب” اشرف شاد فن اور شخصیت 2013” میں شائع ہوچکی ہے۔ لاہور یونیوسٹی کے شعبہ اردو کی ایک طالبہ نے بعد ریسرچ ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ ایک اور یونیورسٹی میں اشرف کی ناول نگاری پر پی ایچ ڈی کی تھیسسس بھی لکھی جا رہی ہے”۔
۱۹۹۸ میں ان کے ناول بے وطن پے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کیجانب سے بہترین ناول کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
اشرف شاد کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا قاری ایک لمحے کو یہ محسوس نہیں کرتا کہ وہ کتاب پڑھ رہاہے۔ انھوں نے اپنی کتاب “ اینکر پرسن”میں آج کے میڈیا کے مشرومی ماحول کا نقشہ کس خوب صورتی سے کھینچا ہےاس کا مزا کتاب پڑھنے ہی میں ہے۔ انھوں نے لکھا ہے”ایک اچھا اینکر وہ ہے جس کا ہوم ورک بہت مکمل ہوتا ہے۔ جو مہمان کے قدموں تلے بچھے قالین کا کونہ ذرا سا ہلاتا ہے تو مہمان کے قدم اکھڑنے لگتے ہیں۔ ہوم ورک سے ان کی مراد وہ رپوٹنگ ہے جو صحافت کا حسن اور مان سمان ہوتی تھی۔ جس کی بنیاد پے صحافی کی گردن اکڑی رہتی تھی وہ حسن اب ماند پڑ چکا ہے۔ گردن لٹک گئ ہے۔ اپنی تحریر میں وہ صحافت کی آبروریزی کا مجرم سیاسی ، مذہبی جماعتوں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو قرار دیتے ہیں۔
اشرف شاد بنیادی طور پے تو صحافی ہی ہیں اسی سبب ان کی ناول نگاری، افسانہ نگاری اور شاعری میں ان کا آج اور حالات بولتے نظر آتے ہیں۔ جیسے

مرنے پہ جس کے موت کی آنکھ میں درد تھا
اس شہر میں سنا ہے اک ایسا بھی مرد تھا

شاد یوں تو زندگی درد سے بدحال تھی
نام کا میرے اثر پھر بھی میرے ساتھ ہے
بھٹکا ہوا ہوں پھر بھی ہمیشہ رہی ہے شاد
منزل کی مجھ کو آس میں جب بھی سفر میں تھا

اشرف شاد اور ہمارا تعلق پانچ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمارا ساتھ کام کرنے کا دورانیہ گو کے آدھی دہائ کا ہے۔ لیکن ہماری دوستی کا دورانیہ اور دامن بہت وسیع ہے۔ وہ ملکوں، ملکوں ،شہروں، شہروں گۓ ،آۓ لیکن ایک دوسرے سے ربط کا تار جڑا رہا۔ یاسمین اشرف کی شریک حیات نے ہمیں ایک دوسرے کی سہیلی کا خطاب بھی دیا ہے۔
اس دنیا میں پاۓ جانے والے رشتوں میں سے دوستی وہ واحد رشتہ ہے جو اگر قائم ہوجائے تو رنگ،نسل،زبان، ذات پات ہر چیز سے بالاتر ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ قائم ہوجاۓ۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان خود کو دیکھ ،دیکھ کے تھکتا نہیں۔
اشرف پہلے میرے باس بنے پھر دوست بن گۓ۔ ہمارے درمیان دوستی جیسا بے غرض ، بے ریا اور بے لوث رشتہ بنا کسی تعطل کے آج تک قائم ہے۔ میرے خیال میں دوستی کی اس راہ گزر کا مسافر بننے کے لئے پسند ناپسند، قدروں اور شخصیات کی مماثلت سے زیادہ اہم وہ احساسات ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ یا آگے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا کے سماجی پروگرام کے حساب سے اشرف اور ان کی شریک حیات کا شمار اب رئٹائیرڈ افراد میں ہوتا ہے۔ جب سے وہ اس پنشن زدہ کے عہدے پر فائییز ہوۓ ہیں۔ ان کی پاکستان آمدورفت کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ یہ اشرف کی ہمت اور جواں مردی ہے کہ وہ دنیا کے اُ س کونے سے اس کونے تقریبا ہرسال ہی آجاتے ہیں۔ یہاں ان کا دل بھی بہت لگتا ہے۔ پرانے دوست احباب، ان سے جڑی ہزار داستانیں، پریس کلب،کلب کا کارڈ روم،کارڈروم کی جگت بازیاں جو شام وہ کلب میں گزارتے ہیں اس شام چہرے کے رنگ ہی کچھ اور ہوتے ہیں۔ گزشتہ بیس سال یا اس سے کچھ اور زائد عرصے سے وہ صحت کے لا متناہی مسائل کا شکار ہیں۔بقول ان کے اندر سب ہی کچھ کٹا پٹا سا ہے اور ہر کٹی پٹی شے کے چیک اپ کا پروگرام چل رہا ہوتا ہے۔ یہاں رہنے کو دل تو بہت چاہتا ہے، سب بچے اپنی اپنی زندگی جی رہے ہیں، ہمارے پاس بھی اب تھوڑا ہی وقت ہے لیکن یہ جو حیات کی کتاب میں کاٹا پیٹی ہوئ ہے وہ یہاں ٹکنے نہیں دیتی۔
اشرف کا ایک شعر یہ بھی ہے۔
لکھی تھی جس میں داستاں اونچی اُڑان کی———رکھا تھا اس کتاب میں اک پر لہو میں تر
خوش رہیے !

اپنا تبصرہ لکھیں