تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک غریب خاندان کا بچہ بھی اپنی محنت اور صلاحیت کے بل پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر جب تعلیمی اداروں اور امتحانی بورڈز کی فیسیں طلبہ اور والدین کے لیے مالی بوجھ بننے لگیں تو سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام واقعی طالب علموں کی سہولت کے لیے کام کر رہا ہے یا وہ ان کی مجبوریوں کو نظر انداز کر رہا ہے؟
خیبر پختونخوا کے تعلیمی نظام میں بورڈز کی فیسوں کا معاملہ بھی اسی تناظر میں توجہ کا مستحق ہے۔ بالخصوص پشاور بورڈ کی فیس پالیسی کے حوالے سے طلبہ اور والدین میں پائے جانے والے تحفظات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر مختلف تعلیمی بورڈز میں ایک ہی نوعیت کے امتحانی معاملات کے لیے فیسوں میں نمایاں فرق موجود ہے تو اس کی وجوہات عوام کے سامنے واضح ہونی چاہییں۔
یہاں بنیادی سوال کسی ادارے کی مخالفت نہیں، بلکہ شفافیت، انصاف اور طالب علموں کے حقوق کا ہے۔
مختلف تعلیمی بورڈز کےدستیاب معلومات کے مطابق، پشاور بورڈ میں امپروومنٹ امتحان کی فیس 4,000 روپے اور فیل شدہ پرچوں کے دوبارہ امتحان کی فیس 3,300 روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس حساب سے اگر کسی طالب علم کو نمبر بہتر بنانے کے ساتھ ناکام پرچوں کا امتحان بھی دینا پڑے تو اس کے لیے مجموعی رقم 7,300 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری طرف یہ دعویٰ بھی سامنے آتا ہے کہ بعض دیگر تعلیمی بورڈز میں دونوں معاملات کے لیے مجموعی فیس 4,000 روپے مقرر ہے۔
اگر یہ فرق واقعی موجود ہے تو پشاور بورڈ کو اس کی وجوہات واضح کرنی چاہییں۔ آخر ایک ہی صوبے میں کام کرنے والے تعلیمی بورڈز کی فیس پالیسی میں اتنا فرق کیوں ہے؟ کیا ان اداروں کے اخراجات میں کوئی بنیادی فرق ہے؟ اگر ہے تو اس کی تفصیل عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتی؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ امتحانی فیس محض ایک عدد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک طالب علم اور اس کے خاندان کی مالی حالت بھی موجود ہوتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ ہر طالب علم کا تعلق خوش حال خاندان سے نہیں ہوتا۔ بہت سے والدین محدود آمدنی میں گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی طالب علم کو ناکامی کے بعد دوبارہ امتحان دینا پڑے یا اپنے نمبر بہتر بنانے کے لیے ایک اور موقع درکار ہو تو اضافی فیس اس کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک طالب علم جو پہلے ہی امتحان میں ناکامی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہا ہو، وہ دوبارہ امتحان کی فیس کہاں سے ادا کرے گا؟ کیا اس کے والدین کے پاس اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ وہ اچانک کئی ہزار روپے کا اضافی خرچ برداشت کر سکیں؟ اور اگر وہ یہ رقم ادا نہ کر سکے تو کیا اسے اپنی تعلیم اور مستقبل کے ایک اہم موقع سے محروم رہنا چاہیے؟
امتحان میں ناکامی طالب علم کی زندگی کا اختتام نہیں ہوتی۔ تعلیمی نظام کا مقصد اسے دوبارہ کوشش کا موقع دینا اور اس کی رہنمائی کرنا ہونا چاہیے۔ اگر دوبارہ امتحان کی فیس ہی اس موقع کے حصول میں رکاوٹ بن جائے تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
اسی طرح امپروومنٹ امتحان کا معاملہ بھی قابلِ غور ہے۔ بہت سے طلبہ اپنے حاصل کردہ نمبروں سے مطمئن نہیں ہوتے اور بہتر نتائج کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے امکانات بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا تعلیمی مستقبل بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ لیکن اگر اس کوشش کے لیے بھاری رقم ادا کرنا ضروری ہو تو مالی طور پر کمزور طالب علم کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہر فیس لازماً ناجائز نہیں ہوتی۔ امتحانات کے انعقاد، عملے، انتظامات اور دیگر ضروری امور پر اخراجات آتے ہیں۔ تعلیمی بورڈز کو ان اخراجات کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ فیس مقرر کرنے کا طریقہ کتنا شفاف، مناسب اور طالب علموں کی مالی مشکلات کے حوالے سے کتنا حساس ہے۔
اگر کسی بورڈ کی فیس دوسرے بورڈ سے زیادہ ہے تو اس کے اخراجات اور پالیسی کی وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر کسی طالب علم سے مقررہ ضابطے کے برخلاف اضافی رقم وصول کی گئی ہے تو اس کی تحقیقات اور قواعد کے مطابق ازالہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر فیسوں میں اضافے کی ضرورت پیش آئے تو متعلقہ بورڈ کو اس کی وجوہات اور حساب کتاب عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
تعلیم کو محض آمدنی کے ذریعے کے طور پر دیکھنا کسی بھی معاشرے کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تعلیمی بورڈز کی ذمہ داری صرف امتحانات منعقد کرنا اور نتائج جاری کرنا نہیں، بلکہ ایسا منصفانہ نظام قائم رکھنے میں کردار ادا کرنا بھی ہے جس میں ہر طالب علم کو آگے بڑھنے کا مناسب موقع مل سکے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ریاستی ذمہ داری بیان کرتا ہے۔ اگرچہ اس شق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کی امتحانی فیس خودبخود غیر قانونی ہو جاتی ہے، لیکن یہ ضرور یاد دلاتی ہے کہ تعلیم کے معاملے میں ریاست اور متعلقہ اداروں کی پالیسیوں کا مرکز بچوں اور ان کے تعلیمی حقوق کو ہونا چاہیے۔
پشاور بورڈ اور صوبے کے دیگر تعلیمی بورڈز کو چاہیے کہ وہ اپنی فیسوں کے تازہ ترین سرکاری شیڈول کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔ فیل شدہ پرچوں، امپروومنٹ، دوبارہ جانچ اور دیگر امتحانی سہولتوں کی فیسوں کا واضح تقابلی جائزہ پیش کیا جائے تاکہ طلبہ اور والدین خود حقائق دیکھ سکیں۔ اگر فیسوں میں فرق کی معقول وجوہات ہیں تو انہیں واضح کیا جائے، اور اگر غیر ضروری مالی بوجھ موجود ہے تو اسے کم کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے۔
کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کے لیے فیس میں رعایت یا مالی معاونت کا مؤثر نظام بھی ہونا چاہیے۔ کسی طالب علم کو محض اس لیے تعلیمی موقع سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا خاندان مطلوبہ رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
آخر میں، میرا مقصد کسی ادارے پر الزام لگانا نہیں، بلکہ ایک ایسے معاملے پر سوال اٹھانا ہے جس کا تعلق ہزاروں طلبہ اور ان کے خاندانوں سے ہے۔ اگر فیسوں کے حوالے سے تحفظات غلط فہمی پر مبنی ہیں تو بورڈ وضاحت کرکے انہیں دور کرے، اور اگر واقعی پالیسی میں ایسی خامیاں موجود ہیں جو طلبہ کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کرتی ہیں تو انہیں درست کیا جائے۔
متعلقہ حکام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ تعلیمی نظام میں کامیابی کا معیار صرف نتائج، اعداد و شمار اور مالی حساب کتاب نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی تب ہے جب ایک غریب طالب علم بھی اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھ سکے، اسے دوبارہ کوشش کا موقع ملے اور اس کا مستقبل محض مالی مجبوریوں کے باعث محدود نہ ہو۔
تعلیم کسی خاندان کی مالی طاقت کا امتحان نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیم وہ موقع ہونا چاہیے جس کے ذریعے ایک طالب علم اپنی صلاحیت ثابت کر سکے۔


