ریاستی جبر کا نوآبادیاتی چہرہ: ماورائے عدالت قتل اور منصف کا نقاب/عمر شاہد

کلاسیکل سرمایہ داری میں عدلیہ کی آزادی، انصاف کی بالادستی جیسے الفاظوں سے ہمیشہ ہی لبرل دانشور ریاست کے کردار کو حتمی طور پر عوامی بہبود اور سماجی بہتری کے لئے ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن کسی بھی سماجی و معاشی بحران میں سرمایہ دارانہ ریاست اپنا خول اتار کر اپنے حقیقی کردار مسلح جتھوں کی شکل میں سامنے آتی ہے اور جس کا مقصد بالادست طبقات کے مفادات کی نگہبانی کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نوآبادیات ریاستوں میں یہ عمل زیادہ وحشیانہ اور ننگا ہو تا ہے، مزدور طبقے کی انقلابی تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کا سرمایہ دارانہ ڈھانچہ اور اس کی نوآبادیاتی عدالتیں عوام کو بظاہر انصاف دینے میں مکمل طور پر مفلوج اور ناکام ہو جاتی ہیں، تو حکمران طبقہ اپنے جابرانہ وجود کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے فاشسٹ ہتھکنڈوں کا سہارا لیتا ہے۔ سندھ میں راؤ انوار کی شکل میں جنم لینے والے سفاک کردار ہوں، پنجاب کا سی سی ڈی (CCD) مارکہ ریاستی دہشت گردی کا نظام، یا بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مظلوم قومیتوں کے علاقوں میں خون آلود سیکیورٹی آپریشنز، یہ سب دراصل اس مرتے ہوئے بحران زدہ نظام کے آخری ہتھکنڈے ہیں۔HRCP کی رپورٹ کے حالیہ اور چونکا دینے والے اعداد و شمار اس خونی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ صرف رواں سال کے آغاز سے اب تک پنجاب میں5000 سے زائد مبینہ پولیس مقابلے ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 670 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ نام نہاد “انکاؤنٹر اسپیشلسٹ” درحقیقت اسی کرپٹ اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں جو غریب اور لاچار محنت کشوں کا ماورائے عدالت خون بہا کر عوام میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، تاکہ محنت کش طبقہ اپنے حقوق اور اس طبقاتی استحصال کے خلاف اٹھ کھڑا نہ ہو۔
مگر یہاں حکمران طبقے اور بورژوا میڈیا کی جانب سے ہمیشہ یہی دلیل دی جاتی ہے کہ ان مقابلوں میں “سنگین جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں” کا خاتمہ کیا گیا ہے، لیکن تاریخی سچائی اس دعوے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ رحقیقت، ان مقابلوں میں مارے جانے والے ملزم بھی اسی گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہوتے ہیں۔ یہ نظام خود غربت، بیروزگاری، اور جرائم کو جنم دیتا ہے اور پھر اپنے ہی پیدا کردہ جرائم پیشہ عناصر کو، جو ان کے کسی گندے کھیل کا حصہ ہوتے ہیں یا حد سے بڑھ جاتے ہیں، قانون کی عدالتوں سے چھپا کر ماورائے عدالت مقابلوں میں ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ یہ لیمپین پرولتاریہ (Lumpenproletariat) یا جرائم کی دلدل میں دھنسے ہوئے عناصر دراصل اس نظام کے پالتو گینگسٹرز ہوتے ہیں جنہیں بوقتِ ضرورت خود ریاست اور سیاستدان اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کام نکل جانے یا راز فاش ہونے کے خوف سے انہیں “انکاؤنٹرز” کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ جرائم کی جڑیں ناقص معاشی نظام اور غربت میں پیوست ہوتی ہیں، اور محض ماورائے عدالت کارروائیوں یا تشدد سے ان کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ملزم کو فطری طور پر مجرم یا “گناہگار” بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ اسے گولی مارنے یا جیل میں سڑانے کا جواز پیدا ہو سکے۔ مارکسی نظریے کا یہ موقف ہے کہ جرم کوئی موروثی عیب نہیں، بلکہ گلے سڑے معاشی نظام کی پیداوار ہے۔ جب تک غربت، بیروزگاری اور طبقاتی محرومی رہے گی، جرائم جنم لیتے رہیں گے۔ اس لیے انہوں نے ملزمان کو جان سے مارنے کے بجائے اس ماحول کو بدلنے پر توجہ دی جو مجرم پیدا کرتا ہے۔
آج پاکستان میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) جیسے فاشسٹ ادارے اور سالانہ 5,000 انکاؤنٹرز کبھی امن نہیں لا سکتے۔ اگر پاکستان کو جرائم سے پاک کرنا ہے، تو ریاست کو “بندوق کے ماڈل” کو چھوڑ کر “سائنس اور معاشی انصاف کے ماڈل” کو اپنانا ہوگا، کیونکہ گولی جرم کو نہیں، صرف مجرم کو مارتی ہے، جبکہ جرم کا نظام ویسے ہی چلتا رہتا ہے۔ اس کو واحد حل ہے کہ پولیس مقابلوں میں ملزمان کو مارنے کے بجائے ریاست کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ہر شہری کو تعلیم، صحت اور باوقار روزگار کی آئینی ضمانت دینا ہوگی۔ جب جرائم جنم دینے والی معاشی زمین ہی ختم ہو جائے گی، تو جرائم کی شرح خود بخود نیچے آ جائے گی۔ ضلعی اور محلہ سطح پر “عوامی جیوری” یا مقامی نمائندوں پر مشتمل عدالتیں قائم کی جائیں۔ یہ عدالتیں جاگیرداروں یا بیوروکریسی کے زیرِ اثر نہ ہوں، بلکہ عام محنت کشوں کے کنٹرول میں ہوں، جہاں سستے اور فوری انصاف کے ساتھ ساتھ ملزم کی بحالی (Rehabilitation) پر توجہ دی جائے

اپنا تبصرہ لکھیں