کہتے ہیں کہ ضعیفی کا ایک روگ یہ ہے کہ اس میں یاداشت اور حاضر دماغی عمر رسیدہ بزرگوں کو چھوڑ کر، ناراض ہو کر کہیں دور چلی جاتی ہے۔ وہ بھولے سے نہیں بلکہ ارادتاً روٹھ کر ہماری یاد داشت کو اپنے ساتھ کہیں لےجاتی ہے۔ شائد اس لئے بھی کیونکہ ہم جیسے نادان، ہر وقت اور بر وقت اپنی بھول چوک کو بات بے بات کوستے رہتے ہیں لیکن یاد رکھنے کی فکر نہیں کرتے۔ یاد داشت کا کھو جانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے مال و متاع کھو گئی ہو۔ بڑی عمر والوں کی یاداشت کا کسی کھو (کنویں) میں گر جانا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن حیرت اس بات پہ ہے کہ آج کل کے نوجوانوں اور بچوں کو بھی بھولنے کے عارضے نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ان کے پاس رہنے کو گھر تو ہوتا ہے، لیکن حافظے کے معاملے میں ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ وہ گھر کی چیزیں کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں لیکن ڈھونڈے سے بھی انکا کوئی سراغ ملتا ہے، جیسے اندھیرے میں بجھا ہوا چراغ نہیں ملتا۔
لگتا ہے کہ بوڑھے اور بچے بھول پن کی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ گویا کشتی ساحل پہ پہنچ جاتی ہے، لیکن اترنا بھول جاتے ہیں۔ اتر جائیں تواس سے اپنا سامان اتارنا بھول جاتے ہیں۔ سامان اتار لیا تو، کرایہ دینا بھول جاتے ہیں۔ کرایہ دینے لگیں تو معلوم ہوتا ہے بٹوا گھر بھول آئے۔ بیچاری خواتین بھی بھولنے بھلانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتیں۔ وہ خاندان کے لئے پاندان خرید کر لاتی ہیں۔ لیکن یاد دہانی کے لئے نادان نندویا کو ساتھ لیجاتی ہیں۔ مگر پیارے نندویا بھلکڑ پن میں ان سے دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں۔ نندوئی بیچارے سروتا کہیں بھول آتے پیں۔
بھول بھلیوں کے اس پندار میں رہنے والوں کو بھول چوک سے بچنے کا سبق پڑھایا جاۓ تو یہ اسے بھی جلد ہی بھلا دیتے ہیں ۔ اس معاملے میں نوجوانوں کا بھی کوئی جواب نہیں۔ وہ نوکری کے لئے انٹرویو دینے جاتے ہیں تو جو کچھ آتا جاتا ہے وہ ناکامی کے خوف سے رٹے رٹاۓ جواب بھی بھول جاتے ہیں، یا بھول پن میں جواب نہیں دیتے۔ شائد انہیں والدین کی یہ نصیحت یاد رہ جاتی ہے کہ اچھے بچے کسی کو جواب نہیں دیا کرتے۔
اگر کسی کی شادی ہو جائے تو بہن بھائیوں کو یہ شکائت نہیں بھولتی کہ دولہا میاں اپنے بہن بھائیوں کو ہی بھول گئے۔ ماں باپ بڑی چاہت سے انکی شادی کرتے ہیں تو وہ یوں ہوا میں اڑنے لگتے ہیں کہ اپنی اوقات ہی بھول جاتے ہیں۔ کوئی اتفاق سے باہر چلا جائے تو وہ وہاں کی رنگینیوں میں اس
طرح کھو جاتا ہے کہ ماں باپ کو بھول جاتا ہے۔
جب کوئی کرکٹر میچ کھیلنے کے لئے پچ پہ جاتا ہے تو بیٹنگ کرنا بھول جاتا ہے۔ وہ ہار کر وطن واپس لوٹتا ہے۔ پھر بھی ان کے گیت گائے جاتے ہیں کہ ” تم جیتو یا ہارو، ہمیں تم سے پیار ہے”۔ دیکھا نا ہم پیار کرنے کے معاملے میں کتنے فراخ دل واقع ہوئے ہیں۔ کہتے بھی ہیں کہ’ ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے”. ابو، بابا اور پپا کی بھول جانے کی عادت بھی اتنی پکی ہو چکی ہے، کہ بچوں کو ہر صبح اپنی فرمائش کی یاد دہانی کرانی پڑتی ہے کہ “بھول نہ جانا پھر پپا ۔۔۔
بھول چوک انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن اس میں اضافہ ہو جاۓ تو یہ مصیبت کا باعث بن جاتی ہے۔ ہم بھول چوک کے عادی ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ دشمنیوں کو کبھی فراموش نہیں کر پاتے۔
اکثر لوگوں کے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ ماض قریب کی بہت سی باتیں تو بھول جاتے ہیں، لیکن ماضی بعید کے قصے اب بھی ان کے ذہن کے صفحے پہ بہار کے تازہ بہ تازہ پھولوں کی طرح کھلے رہتے ہیں۔ ہم نے بھولے سے یہ موضوع چھیڑا ہی تھا کہ اچانک ایک بات یاد کے جھروکوں سے نکل کر فرمائش کرتے ہوئے مچلنے لگی کہ اگر یاد ہو ذرا ذرا تو اپنے اسکول کے زمانے کا ہی کچھ ذکر کر دیں۔ یادش بخیر اوائل عمر میں
جب ہم امتحان دینے کےلئے اسکول جاتے تھے تو ہمارے ساتھ ایک
امتحان کا گتہ، ایک پیمانہ ( فٹا)، پنسل اور ایریزر جسے عرف عام میں ربڑ کہتے ہیں، امتحان گاہ میں ضرور ہوا کرتا تھا۔ پیمانہ امتحانی پرچے پہ لائنیں لگانے کے کام آتا تھا۔ اور جب سوالوں کا پرچہ ہمیں ملتا تھا تو اسے دیکھ کر ہماری سٹی گم ہو جاتی تھی اور امتحان کی تیاری ذہن کی تختی سے یوں محو جاتی تھی جیسے ہم نے سلیٹ پر سلیٹی سے لکھے ہوۓ جمع تفریق کے سب سوالات کو ہتھیلی پہ لعاب لگا کر حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہو۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہمیں ملنے والا امتحانی پرچہ، مشابہت میں ہمارے خلاف تھانے میں کٹنے والے پرچے سے کسی طرح کم نہیں ہوتا تھا۔ اور ہماری خلاصی اس وقت ہوتی تھی جب امتحان کا وقت ختم ہوجاتا تھا
خیر جیسے تیسے امتحانات پاس کرتے کرتے ہم بڑے ہو گئے۔ دوران تعلیم ہم کبھی اس پوزیشن میں نہیں آۓ کہ کوئی پوزیشن حاصل کرتے۔ بلکہ ہمیں پوزیشن لینے والوں کی طرف سے اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ اپنا ریکارڈ بناتے تھے اور ہمارا ریکارڈ لگایا کرتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے اب ہم نگار شات کے نگار خانے میں کسی قابل کہلانے لگے ہیں کیونکہ جو اخبارات کے پرچے ہوتے ہیں، ان میں چھپنے والی تحریروں میں کچھ نہ کچھ ہماری نگارشات کے بھی چرچے ہونے ہیں۔ بات کہیں سے کہیں جا پہنچی۔ ہمیں یاد ہے کہ اکثر ہمارے ہم جماعت اپنی کلاس میں پیمانہ لے جانا بھول جاتے تھے۔ اور کاپی پر لائنیں لگانے کے لئے دوسروں سے پیمانہ مانگ کر کام چلاتے تھے۔ مگر بھلا ہو ماسٹر جی کا، وہ کبھی کبھی پیمانے سے مولا بخش کا کام بھی لیا کرتے تھے۔ خاص طور پر فٹے سے مار اس وقت پڑتی تھی جب کسی کو سوال کا جواب بھول جاتا تھا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پیمانہ پیمائش کے کام آتا ہے، سزا اور فہمائش کے لئے نہیں۔ پیمانہ، ساغر و مینا، جام اور پیالے کو بھی کہا جاتا ہے، جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ہم مرزا غالب نہیں ہیں کہ پیتے جائیں اور شاعری میں مقام پیدا کرتے جائیں۔ البتہ کبھی کبھی ہمارا پیمانہ صبر اس وقت لبریز ہو جاتا ہے جب ہم گفتگو کرتے ہوئے چیزوں کے نام اور ضروری الفاظ بھول جاتے ہیں۔ اگر پوچھیں تو ہمیں آج تک اپنا شناختی کارڈ نمبر از بر نہیں ہوا، نہ ہی افراد خانہ کی تاریخ پیدائش یاد رہتی ہیں۔ یہ بھی اچھا ہی ہے، ہمیں سالگرہ منانا اور انکی مبارک بادیں دینا فضول بات لگتی ہے۔
بھولنے کا عارضہ، عارضہ قلب اور کمر درد سے کم تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ جو اپنا چشمہ کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں ان کا بیشتر وقت اپنا چشمہ تلاش کرنے میں گزرتا ہے وہ بھول جاتے ہیں کہ چشمہ کہاں کھو گیا۔ بعد میں کوئی طنزآ نشاندہی کرتا ہے ک جناب ہہ چشمہ تو آنکھوں پہ لگا ہے۔ یہ بات کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے کہ بھول بھی اور طنز بھی۔ احتیاط کرنے والے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو پورے حواس کو قابو میں رکھتے ہیں کہ مبادہ واپسی کا راستہ نہ بھول جائیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ گھر کی استری کو آف کرنا یا پانی کی موٹر کو بند کرنا بھول جاتے ہیں۔ خواتین ان پر برہم ہوتی ہیں لیکن وہ بھی چولہے پر ہنڈیا بھوننے یا دودھ ابالنے کو رکھ کر بھول جاتی ہیں نتیجتآ ہنڈیا جل جاتی ہے اور دودھ ابل کر بہہ جاتا پے۔ روزہ رکھنے والے بھی بھولنے کی عادت سے پریشان ہوتے ہیں، اور وہ بھولے سے پانی سے بھرا گلاس غٹا غٹ پی جاتے ہیں، پھر یاد آتا ہے کہ اوہ غلطی ہوگئی۔
بعض دکاندار اپنے ایسے خریداروں سے عاجز دکھائی دیتے ہیں جو مہینے بھر کا سودا ادھار لیتے ہیں لیکن پہلی تاریخ پہ پیسے دینا بھول جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ادھار لینے والوں کو بھول چوک اچھی لگتی ہے بلکہ بھولنے کی عادت انکے لئے نعمت سے کم نہیں ہوتی۔ ہم بھولتے نہیں/ یاد کرتے ہیں اپنے مفادات کو، بری عادات کو اور غلط رسوم و روایات کو مگر بھول گئے ہیں اللہ کی ذات کو اور یہی لمحہ فکریہ ہے۔ ہمارے لئے بھول چوک کا خیر بھی بن سکتی ہے اگر ہم دوسروں کی غیبت کرنا بھول جائیں۔ کہیں کسی سے جھگڑا ہو جاۓ تو اسے بھول جائیں۔ ورنہ خوامخواہ خود کو ہمیشہ جلاتے رہیں گے ۔ دوسروں کی غلطی اور خطاؤں کو یاد نہ رکھیں، بلکہ قصدا بھول جائیں۔ دوسروں کی خامیوں کو یاد رکھنا ویسے بھی مناسب نہیں پے۔ اس طرح عفو و در گزر کی عادت پیدا ہوگی
دودھ میں پانی ملانے والے دودھ میں پانی ملانا بھول جائیں اس سے بہت سوں کا بھلا ہو گا۔ آپ احسان کرنے والوں اور کام آنے والوں کو کبھی فراموش نہ کریں۔ یہ آپ کے محسن ہوتے ہیں۔
آخر میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ آپ چاہے بھول بھلیوں میں گم ہو کر سب کچھ بھول جائیں لیکن اللہ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ اللہ کی یاد سے ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی ملے گی۔


