پہلے گھروں میں بزرگوں کی موجودگی ایک سایہ دار درخت کی مانند ہوتی تھی اور زندگی کے تجربات خاموشی سے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتے رہتے تھے۔دادا دادی موجود ہیں، نانا نانی بھی ہیں، ماں باپ بھی ہیں اور بچے بھی۔۔۔لیکن اس پورے ہجوم میں کوئی ایسی چیز گم ہو گئی ہے جسے تلاش کرنے کے لیے نہ کوئی موبائل ایپ ہے، نہ گوگل کا سرچ انجن۔ ۔۔وہ چیز ہے رشتوں کی بے غرض قربت۔کبھی نانا،دادا کی انگلی پکڑ کرصرف باہرگلی کی دکان پر جانا نہیں ہوتا تھا۔ راستے میں کسی دکان دار کا حال پوچھ لینا، کسی پرانے شناسا سے دو گھڑی بات کر لینا یہ سب بچے کی تربیت کا حصہ ہوتا تھا۔نانی، دادی کے پاس بیٹھ کر روٹی پکنے کا انتظار کرنا بھی ایک تجربہ تھا۔ اس دوران کوئی کہانی سننے کو مل جاتی، کوئی کہاوت سمجھ میں آ جاتی جسے کتابوں میں تلاش کرنا مشکل ہے۔ بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کے قصے سننا، یہ سب وہ چھوٹی چھوٹی درس گاہیں تھیں جن کی نہ کوئی فیس تھی، نہ حاضری کا رجسٹر اور نہ امتحان کا خوف۔۔۔ ان میں داخلہ صرف محبت کے ذریعے ملتا تھا۔پھر زمانہ بدلا۔۔۔ تبدیلی میں کوئی برائی نہیں، آخر انسان نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے ہی تو ترقی کی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب آسانیوں کی تلاش میں ہم نے زندگی کے ان حصوں کو بھی غیر ضروری سمجھنا شروع کر دیا جن کی قدر کا اندازہ صرف وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ اب بچے کے لیے اچھا اسکول ضروری ہے، مہنگی کتابیں ضروری ہیں، ٹیوشن ضروری ہے، کھیلوں کی سرگرمیاں ضروری ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ بچے کے بستے میں ہر مضمون کی کتاب موجود ہے، مگر خاندان کی تاریخ کا کوئی باب نہیں۔ اسے دنیا کے دور دراز ملکوں کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں، مگر ممکن ہے اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے اپنےبزرگوںنے جوانی میں کن مشکلات کا سامنا کیا تھا یا محدود وسائل میں گھر کیسے سنبھالا تھا۔
ہمارے گھروں میں بزرگوں کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، البتہ ان کی اہمیت کی تعریف بدل گئی ہے۔ اب ان کی افادیت کا ایک پیمانہ یہ بھی بن گیا ہے کہ وہ بچوں کو اسکول چھوڑ سکتے ہیں یا نہیں، واپس لا سکتے ہیں یا نہیں، ہوم ورک کروا سکتے ہیں یا نہیں اور والدین کی غیر موجودگی میں گھر سنبھال سکتے ہیں یا نہیں۔ صبح دادا بچے کو اسکول چھوڑنے جاتے ہیں، دوپہر کو نانا اسے لینے پہنچ جاتے ہیں، دادی کھانا تیار رکھتی ہیں اور نانی بچے کی شکایات سنتی ہیں۔ یہ سب محبت سے ہو تو ایک خوب صورت خاندانی تعاون ہے، لیکن اگر یہ سب کچھ بزرگوں کی مستقل ڈیوٹی بن جائے تو پھر ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ آخر بزرگوں کی زندگی کا مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی آسان بناتے بناتے اپنی زندگی کی آسانیاں بھی قربان کر دیں؟ ہر ماں باپ کے پاس اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے کے لیے اتنا وقت نہیں ہوتا جتنا وہ چاہتے ہیں۔ کئی مرتبہ دادا دادی اور نانا نانی کی مدد واقعی ناگزیر ہوتی ہے۔ لیکن مشکل حالات اور مستقل بری الذمہ ہو جانے میں فرق ہے۔ بزرگوں کی مدد حاصل کرنا خاندانی محبت ہے، مگر ان کی محبت کو اپنی سہولت کا مستقل انتظام سمجھ لینا ایک الگ بات ہے۔ بچے کی پرورش صرف اسکول میں داخلہ کروانے، فیس ادا کرنے اور اسے اچھے کپڑے پہنانے کا نام نہیں۔ اس کے اندر کی دنیا کو سمجھنا، اس کے خوف کو سننا، اس کی ناکامی پر اس کا ہاتھ تھامنا اور اسے یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نمبروں سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ہم بچوں کی ہر ضرورت کے لیے فکر مند ہیں، مگر یہ پوچھنے کی فرصت کم نکالتے ہیں کہ وہ اپنے دل کی بات کس سے کرتے ہیں۔ والدین کا پہلا سوال ہوتا ہے، ہوم ورک مکمل ہوا؟ امتحان کی تیاری کی؟ کتنے نمبر آئے؟ کپڑے کہاں رکھے ہیں؟ لیکن کبھی یہ بھی پوچھا جائے کہ آج تمہیں کس بات نے خوش کیا، کس بات سے دکھ ہوا، کوئی ایسی بات ہے جو تم کسی کو نہیں بتا سکے؟ شاید بچے کی خاموشی کے پیچھے کوئی ایسی کہانی ہو جسے سننے کے لیے اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہو جو اسے فوراً نصیحت نہ کرے، اس کی بات کا فیصلہ نہ سنائے اور ہر غلطی کو تربیت کا مسئلہ نہ بنا دے۔
جین زی کو اکثر شکایت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کے بچوں کو بزرگوں کی عزت نہیں، انہیں اپنی زبان اور ثقافت سے محبت نہیں، وہ ہر وقت موبائل میں مصروف رہتے ہیں اور انہیں کسی کی بات سننے کی عادت نہیں۔ ممکن ہے ان شکایات میں کچھ حقیقت ہو، لیکن ہر مرتبہ نوجوان نسل کو قصوروار ٹھہرانا مسئلے کا آسان حل ضرور ہے، درست حل نہیں۔ ذرا یہ بھی تو دیکھیے کہ ہم نے ان کے سامنے بزرگوں کو کس کردار میں پیش کیا ہے۔ اگر دادا کا کام صرف اسکول چھوڑنا اور دادی کا کام صرف کھانا پکانا رہ جائے تو بچہ ان کے اندر چھپی ہوئی زندگی کی کتاب کیسے پڑھے گا؟ اگر گھر میں بزرگوں کی گفتگو کو پرانے زمانے کی بے کار باتیں کہہ کر ٹال دیا جائے تو نئی نسل ان باتوں کی قدر کیسے سیکھے گی؟ بچوں کو اپنی جڑوں سے محبت کا حکم دینے سے پہلے ان جڑوں سے واقف بھی تو کروانا ہوگا۔اس معاملے میں بزرگوں کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ ہر زمانے کے بزرگوں کو نئی نسل سے شکایت رہی ہے۔ ہمارے بڑوں کو بھی شاید ہمارے لباس، بول چال اور عادتوں سے اختلاف رہا ہو۔ زمانہ بدلتا ہے تو زبان، دلچسپیاں اور سوچنے کے طریقے بھی بدلتے ہیں۔ اگر بزرگ ہر نئی بات کو بے راہ روی سمجھیں، ہر اختلاف کو بدتمیزی قرار دیں اور ہر گفتگو میں اپنے زمانے کو بہترین ثابت کرنے لگیں تو نوجوان ان سے فاصلے پر چلے جائیں گے۔ بزرگوں کے پاس تجربے کا خزانہ ہے، مگر خزانہ اسی وقت فائدہ دیتا ہے جب اس کے دروازے کھلے ہوں۔ نصیحت کے بجائے مکالمہ، حکم کے بجائے مثال اور تنقید کے بجائے شفقت اختیار کی جائے تو نسلوں کے درمیان بہت سی دیواریں خود بخود گر سکتی ہیں۔
اصل نقصان صرف ایک رشتے کی کمزوری نہیں، بلکہ اس تہذیبی ورثے کا ضائع ہونا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ ہماری زبانوں کے محاورے، لوک کہانیاں، پرانے کھیل، کھانوں کی ترکیبیں، موسموں کی پہچان، کھیتی باڑی کے تجربات اور خاندانوں کی تاریخ زیادہ تر بزرگوں کی یادداشت میں محفوظ ہوتی ہے۔ یہ تجربات بچے کو صرف معلومات نہیں دیتے، اسے اپنی شناخت بھی دیتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی اچانک کہیں سے شروع نہیں ہوئی، اس کے پیچھے لوگوں کی محنت، قربانیاں اور خواب موجود ہیں۔ ہم نے ترقی کو بہت محدود معنی میں سمجھ لیا ہے۔ ہمارے نزدیک ترقی یہ ہے کہ بچہ انگریزی اچھی بولے، اچھے ادارے میں پڑھے، جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے اور دنیا میں کامیاب ہو۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہے، مگر کیا ترقی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ اپنے سے مختلف عمر کے انسانوں کو سمجھ سکے، کسی کی بات تحمل سے سن سکے، اپنے خاندان کی تاریخ جان سکے اور اپنی زبان بولنے میں شرمندگی محسوس نہ کرے؟ اگر بچہ دنیا کے ساتھ چلنا سیکھ جائے لیکن اپنے گھر کے بزرگوں کے ساتھ بیٹھنا بھول جائے تو اس کی کامیابی کا ایک اہم پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔ہمیں اپنے گھروں میں کوئی انقلاب برپا کرنے کی ضرورت نہیں۔ بزرگوں کو بھی بچوں کے ساتھ ایسا وقت گزارنا چاہیے جس میں صرف باتیں ہوں، سوال ہوں، ہنسی ہو اور ایک دوسرے کو جاننے کی خواہش ہو۔ بزرگوں سے کام ضرور لیجیے، مگر ان کی محبت کو ڈیوٹی نہ بنائیے۔ بچوں کو جدید دنیا ضرور دکھائیے، مگر ان کے لیے اپنے گھر کی تاریخ کے دروازے بھی کھلے رکھیے۔ بزرگوں کی اصل قدر اس وقت ظاہر نہیں ہوتی جب وہ ہمارے لیے کام کر رہے ہوں، بلکہ اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ خود کسی کام کے قابل نہ رہیں۔ جب ان کے قدم کمزور ہو جائیں، ہاتھ کانپنے لگیں، یادداشت ساتھ نہ دے اور انہیں خود دوسروں کے سہارے کی ضرورت پڑنے لگے تو کیا ہم انہیں اسی محبت سے قبول کریں گے؟ اگر ہمارا جواب ہاں ہے تو ہم نے رشتوں کی روح کو سمجھ لیا اور اگر ان کی اہمیت ہمیں صرف ان کی خدمات کے دوران محسوس ہوتی ہے تو پھر ہمیں اپنے احترام کے تصور پر نظرثانی کرنی چاہیے۔گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں کئی نسلیں ایک چھت کے نیچے رہتی ہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں ایک نسل دوسری نسل کو اپنی کہانی سناتی ہے، جہاں بچے اپنی ناکامیوں کے ساتھ بھی قبول کیے جاتے ہیں، جہاں بزرگوں کو کسی کام کے لیے نہیں بلکہ ان کی موجودگی کے لیے چاہا جاتا ہے۔ ورنہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو سکتے ہیں۔


