مشکل کشاء صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے/ڈاکٹر محمد شافع صابر

۔میں کل فیسبوک سکرول کر رہا تھا کہ مدنی منوں کے روحانی و مزہبی پیشوا اور پیر خاص جناب الیاس قادری صاحب کی ایک reel سامنے آ گئی ، جس میں وہ ڈائننگ ٹیبل پر اپنے فیملی ممبران اور دیگر رفقاء کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے ۔
ہمیشہ کی طرح اس سارے عمل کی ویڈیو کی ساتھ ساتھ ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ ساتھ ساتھ سوال و جواب کا بھی سلسلہ جاری تھا۔ یہ سارے سوالات ریکارڈیڈ تھے اور کھانے کے دوران ہی مرشد صاحب جواب دے رہے تھے۔
اچانک ایک ریکارڈیڈ سوال آیا، ان نے ایک brainwashed پیروکار نے ان سے سوال پوچھا کہ ” پیارے بابا جانی آپ پہلے نیچے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور مدنی مذاکرہ کے دوران بھی ہمیں بھی ایسا کرنے کی تلقین کرتے تھے اور اب آپ خود ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں”. ایسا کیوں؟
اس کے جواب میں پیارے بابا جانی الیاس قادری صاحب نے یہ جواب دیا کہ ” ان کے گھٹنوں میں درد رہتی ہے، چلنے سے درد بڑھتی ہے تو انکے ڈاکٹر نے انہیں زمین پر نیچے بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ اسی لیے دعوت اسلامی درالفتاء اہلسنت کے مفتی صاحب سے مشورہ کرنے اور ان سے فتوی لیکر اب وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور نماز بھی کرسی پر ہی بیٹھ کر پڑھتے ہیں” اور پھر جواب ختم، جواب کے آخر میں کیمرامین نے جواب کے بعد،کیمرا سوال کرنے والے مدنی بھائی کے چہرے پر فوکس کیا ،جس پر واضح تھا کہ وہ جواب سے مطمئن نہیں ہوا ۔
ایسے ہی ایک اور مرید نے ایک دفعہ لائیو مدنی مذاکرہ میں بابا جانی سے پوچھا تھا کہ آپ تو خود کو فقیر کہتے ہیں،فقیر کی کوئی گدی نہیں ہوتی تو پھر آپ نے صرف اپنے بیٹے کو ہی کیوں اپنا جانشین مقرر کیا اور انہیں گدی نشین بنایا اور اپنا خلیفہ نامزد کیا۔ بابا جانی اس سوال کا بھی صحیح جواب نہیں دے سکے تھے۔
دعوت اسلامی کے سو فیصد لوگ جناب بابا جانی کے پیروکار ہیں،جو کہ انکی ہر بات اور عمل کو حرف سمجھتے ہیں ۔ انکی اتنی زیادہ brainwashing کر دی گئی ہے کہ انہیں انکی زات سے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ آپ ان کا کوئی بھی پروگرام دیکھ لیں، ان کے مریدین کے سوال اتنے جاہلانہ،معصومانہ اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں کہ بندے کی بے ساختہ ہنسی نکل جاتی ہے کہ کسی کا IQ اتنا کم ہو سکتا ہے؟ اسی low IQ کی وجہ سے بابا جانی جیسے پیر عوام الناس کو گمراہ کر رہے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بابا جانی کو گھٹنوں میں درد محسوس ہوئی تو انہوں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر ” داتا صاحب کی گھوڑی، وہی اندھیری رات والا ” دم کیوں نہیں کیا؟؟بلکہ سیدھے ماہر ڈاکٹر کے پاس گئے اور اسکے مشورے پر عمل بھی کیا۔ ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ بابا جانی ابھی ماشاء اللہ حیات ہیں ،وہ زندہ ہو کر بھی اپنے کسی مرید کی تو دور بلکہ اپنی ہی درد کو ختم کرنے سے قاصر ہیں تو بعد از مرگ وہ کسی کی حاجت روائی کیسے کر پائیں گے؟؟
پیر صاحب کو گھٹنوں میں درد کا مسئلہ ہوا تو انہوں نے اس فیلڈ کے ماہر انسان سے رابطہ کیا نہ کسی دربار پر گئے اور نا یی کوئی تعویز لیا کیونکہ انکو پتہ ہے اس مسئلہ کا حل کوئی متعلقہ شعبے کا ماہر ہی کر سکتا ہے۔مولانا صاحب کسی مردہ ڈاکٹر کی قبر پر بھی علاج کروانے نہیں گئے۔ بلکہ زندہ ڈاکٹر کے کلینک پر گئے۔ اپنا مسئلہ بتایا اور دوا لکھوائی اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کیا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ ایک پیر صاحب اگر خود کی درد نہیں ٹھیک کر سکتے، وہ کسی مرید کی درد کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟
اپنی اتنی کرامات اور برکات کا تو حضرت عبد القادر جیلانی رح کو خود بھی نہیں پتا ہونا،جتنی ہری پگڑی والوں نے بنا چھوڑی ہیں ۔ مبالغہ آرائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اب تو دل خون کے آنسو روتا ہے، عقیدت اور شرک میں بس ایک معمولی سا فرق ہے اور یہ فرق ہم ختم کر چکے ہیں۔
تو پیارے پاکستانیو! اس میں ہم سب کے لئے نشانیاں ہیں ۔ اگر ایک پیر صاحب خود کو ٹھیک نہیں کر پا رہے تو وہ مریدوں کی حاجات کیسے پوری کریں گے ؟ کیسے انکے مسائل حل کر سکے گے؟ پاکستان کے تمام پیروں و گدی نشینوں کے مرید اگر یہ سوالات خود سے کریں اور خود سوچیں تو پاکستان کی تمام گدیاں ختم ہو جائیں ۔ شاید اسی وجہ سے 99.99 فیصد مریدین ان پڑھ ہوتے ہیں اور پیر صاحبان اسی جاہلیت کو کیش کروا کر لگژری سہولیات والی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ مریدین کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
بات بس اتنی سی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشاء نہیں،کوئی داتا نہیں،کوئی گنج بخش نہیں ، کوئی غوث الاعظم نہیں ۔ صرف اللہ ہی راجت روا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں۔ سارے گناہوں کی معافی ہے لیکن شرک کی معافی نہیں ہے۔
تحریر۔۔ ڈاکٹر محمد شافع صابر

اپنا تبصرہ لکھیں