بدگمانی سے خوش گمانی تک (ڈاکٹر اظہر وحید )

خوش گمانی میں رہنے والا بہر حال خوش حال ہوتا ہے۔ بدگمانی میں زندگی بسر کرنے والا بیزار و بدحال رہتا ہے۔ دراصل ہمارا حال— ہمارا خیال ہوتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں: ” جس کا جو خیال ہے، وہی اس کا حال ہے“۔ اپنے خیال کو خوش حال رکھنے کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، کم ہے، کہ خوش حالی دولت اور منصب سے نہیں آتی— نصیب سے آتی ہے۔ خوش حال ہونے کا تعلق مالی حالت کے درست ہونے سے زیادہ خیالی حالت کے درست ہونے سے ہے۔

اپنے بھائی بندوں کے متعلق خوش گمان ہونے میں سراسر راحت ہے۔ بدگمان ہونا ،ایک اضافی بوجھ ہے۔ ہمیں خوش گمان ہونے کے لیے خود کو کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں دینا پڑتی، لیکن بدگمانی قائم کرنے اور رکھنے کے لیے ہمیں خارجی دنیا سے نت نئے دلائل مہیا کرنے پڑتے ہیں۔ دوسروں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے ”ثبوت“ تلاش کرنا ایک مسلسل فکری اذیت ہے جو اِنسان کے اعصاب کو تھکا دیتی ہے۔

بدگمانی میں مبتلا ذہن خارجی دنیا دکھائی دینے والے چند علیحدہ علیحدہ واقعات یا بیانات کو اس طرح جوڑتا ہے کہ انجامِ کار تعلق کو توڑ لیتا ہے۔ انسانی ذہن ایک عجب جبلّتی رویے کے تحت کام کرتا ہے۔ جب یہ کوئی نظریہ تراش لیتا ہے تو پھر اِنسانی دماغ اپنی تمام تر صلاحتیں اسے ثابت کرنے میں صرف کر دیتا ہے— ایسے میں ہر واقعہ، ہر بیان ، ہر دلیل، ہر قول ، یہاں تک کہ قرآنی آیات اور احادیث سے بھی اپنے من پسند زاویے تراش کر اپنے زاویہِ فکر کا دفاع کیا جاتا ہے۔ درحقیقت انسانی ذہن اس قدر قابلِ اعتماد مشین نہیں کہ اپنے عقائد و نظریات آنکھیں بند کر کے اِس کے سپرد کر دیے جائیں۔

انسان سے خوش گمان رہنا، تکریمِ انسانیت ہے۔ انسان سے بدگمان ہونا، توہینِ انسانیت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کو فطری طور پر نیک اور ایک پیدا کیا گیا ہے۔انسانوں کی بستی خدا کی بستی ہے۔ خدا کی بستی، ہستی بستی رہے تو خدا بھی خوش اور خلقِ خدا بھی خوش۔ مخلوق کو خدا کا کنبہ کہا گیا ہے۔ — اَلخلقُ عَیالُ اللہ— یہ چند سَرپھِرے ہوتے ہیں جو پورے خاندان کو بدنام کر دیتے ہیں۔ اس بستی میں چند مجرمانہ ذہنیت کے حامل انسان پوری انسانیت کے بارے میں ہمیں بدگمان کر دیتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہر فردِ جرم کے پسِ پشت ایک دوسرے کی نیّت پر شک کرنا ہوتا ہے۔ حکومت اپوزیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ترچھی نظر سے دیکھتی ہے۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد پھر تحریک ِ عدم اعتماد کی صورت میں نکلتا ہے، حکومت گھر چلی جاتی ہے، اقتدار کی بالائی باگڑ بِلّا کھا لیتا ہے— اور اپوزیشن کے حصے میں ندامت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ الغرض انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، اس میں ایک دوسرے کے متعلق خوش گمان رہنے سے باطن کے آنگن میں وحدت اور سکینت میسر آتا ہے ، اور ظاہر میں نمو اور خوش حالی کے پھول کھلتے ہیں۔ بدگمانیاں گلے شکوے پیدا کرتی ہیں، اور گلہ شکوہ — دِلوں کی دُوری کا باعث ہوتا ہے۔

سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر کس حد تک ہم کسی کے بارے میں خوش گمان رہیں۔ دراصل اس حد کی کوئی حد نہیں — یہ حد ہر کسی کے ظرف کی وسعت کے مطابق ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا اوڑھنا بچھونا اُن کا مالی مفاد ہوتا ہے۔ جونہی کوئی اُن کے مفاد کی پوشاک پر قدم رکھتا ہے، وہ بھڑک اٹھتے ہیں اور اپنی مالی حدود میں قدم رکھنے والے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ شک کا زہر ہے جو انسان کے خیالی وجود کو مسموم کر دیتا ہے اور وہ محبت کی بجائے نفرت کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ دراں حالے کہ اسے آسمان سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ زمینِ وجود کے جنگل میں موجود تھوہر کانٹے صاف کرے اور محبت کی فصل کاشت کرے۔ محبت خوش گمانی طلب کرتی ہے— اس حد تک خوش گمانی کہ اسے انسان میں رحمان کا پَرتَو دکھائی دینے لگے۔ جب اسے یہ مخلوق، خدا کا کنبہ دکھائی دے گا تو وہ کس پر، کیوں کر شک کرے گا۔ اپنے ہی خاندان پر ، اپنے ہی بہن بھائیوں پر کون کیسے شک کرے—؟ گرچہ یہاں بھائی بھائی کے خون کا پیاسا بھی ہوا ہے لیکن بھائی بھائی پر جان نثار کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہم پہلی خبر کو ایک ہیڈ لائن بنا لیتے ہیں اور دوسری خبر کی طرف نظر اُٹھا کر نہیں دیکھتے۔ قانونِ فطرت ہے کہ انسان جس طرف کی خبر پر دھیان دے گا، اسے ہر طرف وہی نظر آئے گی۔ آج کل سوشل میڈیا کا ایلگورتھم ( algorithm) ، اس قانونِ فطرت کی ایک سائنسی شہادت ہے۔

خوش گمانی ایک تعمیری فکر ہے اور بدگمانی ایک فکری تخریب کاری ہے۔ ایک خوش گمان انسان انتہائی مثبت سوچ کا حامل ہونا ہے ۔ مثبت فکر میں نمو ہے، حیات ہے ، بلکہ سلامتیِ حیات ہے— ظاہری اور باطنی سلامتی اِسی مثبت فکر میں پوشیدہ ہے۔ تعمیر ی فکر —جوڑنے کا عمل ہے۔ تخریب کاری حصے بخرے کرنے کی شرارت ہے۔ چھوٹے بچوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایک چھوٹی عمر کا بچہ، ایک سال کی عمر کا بچہ، اپنے کھلونوں کو توڑتا ہے ، اور وہی بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے تو اپنے کھلونوں کو جوڑنے کی تدبیر میں مشغول پایا جاتا ہے۔ خیر اور شر کی قوتوں میں اسی فکری بلوغت کا فرق پایا جاتا ہے۔ شر — ایک نامکمل شعور ہے، اسے صرف اپنے سے غرض ہے— اس لیے خود غرض ہے ۔ وہ جلدی سے اپنی جانب توجہ چاہتا ہے، ہر چیز سمیٹنا چاہتا ہے — اور اپنے مفاد کے حصول کے لیے ہر اصول پامال کرنے پر بضد ہے۔ خیر ایک بلند شعور ہے— فکری طور پر بالغ ہے، مکمل ہے— کامل و اکمل ذات سے رجوع کرتا ہے، اُس کی نگہداری میں ہے، اِس لیے مسلسل نمو میں ہے— یہاں تک کہ خیرِِ کثیر کی خبر پاتا ہے۔ شر جب اپنی شرارتوں سے تھک ہار کر بیٹھ جائے تو خیر پر واجب ہے کہ وہ اسے اپنے دامن میں پناہ دے۔ شر کے لیے مہلت ہے ، کہ اسے جب اپنی کوتاہیِ فکر کا احساس ہو تو واپس اپنے بڑے بھائی کے پاس چلا آئے۔ دراصل خیر، شر کا بڑا بھائی ہے — دونوں کا خالق ایک ہے۔

عافیت خوش گمانی میں ہے۔ چاہیے کہ انسان ہمیشہ خوش گمان رہے— ہر انسان کے متعلق ہر ممکن حد تک خوش گمان رہے— اس وقت تک خوش گمان رہے، جب تک اس کے ارمان کا خون نہ ہو جائے۔ چاہیے کہ وہ کسی کے متعلق بدگمان نہ ہو، ظاہری حالات و واقعات اگر خوش گمان ہونے میں مانع ہورہے ہوں تو بھی بدگمان نہ ہو— بد سے بدتر حالات میں بھی وہ اپنے بھائی کے بارے میں بدگمان ہونے میں اتنی دیر لگا دے کہ بدگمانی انتظار کی سولی پر لٹکتی رہ جائے— اور اپنی موت آپ مَر جائے۔

بدگمان اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتا ہے۔ بدگمان کسی انسان پر بھروسہ نہیں کرتا ہے — وہ ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، وہ اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں نہیں دیتا ، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنے محدود علم کے ذریعے اپنی زندگی چلانے کی کوشش میں نقصان اٹھاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ جب ہم کسی بڑے کا ہاتھ پکڑتے ہیں تو وہ اپنے تجربے اور دانائی میں سے کچھ عنایت کرتا ہے— بغیر کسی معاوضے کے— اور یوں ایسے جہانوں سے روشناس ہوتا ہے جہاں اسے اس کی عقل اور علم نہیں لے جاسکتے۔ الغرض ایک بدگمان شخص خود کو اپنی عقل کے کنوئیں کا مینڈک بنا لیتا ہے — اور ساری عمر وہیں ٹراتا پھرتا ہے۔ دور کی منزل کے مسافر اُس کی ٹرٹر سنتے اور اپنی راہ لیتے ہیں۔ جب تک کوئی اپنا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں نہ دے ، وہ اسے اُس کے گمان کی دلدل سے کیسے نکالے؟ مسافرانِ حق تو رحمان کے بندے ہیں— وہ سورۃ فرقان میں درج ہدایت “قالو سلاما” کے مطابق جاہل کو سلام کہتے ہیں اور گزر جاتے ہیں!! رحمان اور رحمانیت تک پہنچنے کے لیے رحمان کے بندوں کو اپنا امام بنانا ضروری ہوتا ہے۔

قرآن کریم فرقانِ حمید میں ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! بدگمانی سے بچو، بلاشبہ بعض گمان تو گناہ ہوتے ہیں“۔ سبحان اللہ سبحان اللہ!— یہاں ضیافتِ شعور کے لیے بہت سے لطیف نکات ہیں۔ خوش گمان ہونا انسان کے ایمان کی علامت ہے — کہ بدگمانی سے بچنے کی ہدایت ایمان والوں کو دی گئی ہے۔ یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک سیرت، نیک فطرت انسان پر بد ہونے کا گمان، بدگمانی ہے — اور بدگمانی بھی ایک تہمت کی طرح ہے۔ جس طرح کسی ایک باعصمت خاتون پر تہمت ایک قابلِ گرفت گناہ ہے، اسی طرح ایک باعصمت روح کے متعلق بدگمان ہونا بھی ایک تہمت ہے — تہمت کو گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے۔ نیکو کاروں سے بدگمان ہونے والا نیکی کی راہ نہیں پاتا ۔

بدگمانی — خیال کو مخلوق میں اُلجھا کر رکھ دیتی ہے۔ خوش گمانی — خالق سے متعلّق کرتی ہے۔ مخلوق میں ایسی مشغولیت جس کا حوالہ خالق کی ذات یا اُس کا حکم نہ ہو، خیال کو اُلجھا دیتی ہے، وجود کو تھکا دیتی ہے۔ بدگمانی کا ” صلہ “ دل میں گلہ پیدا ہونا ہے۔ گلہ دل میں ہوتا ہے، شکوہ شکائت زبان پر— جو کچھ دل میں ہوتا ہے، وہی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ سکونِ قلب کے لازم ہے کہ گلے اور تقاضے سے رہائی حاصل کیا ہے۔ گلے شکوے اور تقاضے سے رہائی اسے ملتی ہے جو دل سے بدگمانی نکال دے۔ یہ ایک بہت مشکل کام ہے — لیکن یہی مشکل کام ہے، اگر سَر کر لیا جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔

بدگمانی ایک دلدل کی طرح ہے — یہ اپنے اندر داخل ہونے والے کو کسی viscous circle کی طرح دھنسائے لیے چلی جاتی ہے۔ بدگمانی میں داخل ہونے والا مزید بدگمان ہونے سے بچ نہیں پاتا۔ اُس کا تخیل اس کے پہلے گمان کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ چند آزادانہ واقعات کو اس کا تخیل یوں لے اُڑتا ہے کہ چند گھنٹوں میں ان کی مدد سے اپنے خلاف ایک ممکنہ سازش کا خاکہ تیار کر لیتا ہے۔ بس! جو کسی کی نیت پر شک کرتا ہے، اُس کے حق میں بڑا ظالم ہو جاتا ہے۔ بدگمانی دوسروں کی نیّت کے متعلق ہوتی ہے اور آخر کار شک کرنے والے کو بھی بد نیّت بنا دیتی ہے۔

دین ہمیں جہاں دوسروں کے متعلق بدگمان ہونے سے منع کرتا ہے، وہاں ہمیں ایسی جگہ کھڑا ہونے سے بھی منع کرتا ہے، جہاں دیکھ کر لوگ ہمارے متعلق بدگمان ہو سکیں۔ یہ ایک مفہومِ حدیث ہے۔ اس حدیثِ پاک میں اس معاملے کو بڑی صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ اگر ہم کسی کی کال کا جواب نہ دیں، کسی وعدے کو پورے نہ کریں، اپنی کسی ذمہ داری کو اَدا کرنے میں تاخیر سے کام لیں تو یہ سارے معاملات ایسی جگہ کھڑے ہونے کے مترادف ہیں جہاں دوسرے ہمارے متعلق بدگمان ہو سکتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ بدگمانی ایک گناہ ہے، یہ گناہ نہ تو خود کرنا چاہیے اور نہ کسی دوسرے کو اس کی انگیخت کی جائے۔

بدگمانی ہی انسانوں کے ساتھ جھگڑے کی ابتدا ہوا کرتی ہے۔ دوسروں کی نیّت پر شبہ، فساد کا باعث ہوتا ہے۔ ہم چیزوں کی تقسیم پر نہیں ، بلکہ اُس کے پسِ پشت کسی کی نیّت کی ممکنہ خرابی پر جھگڑا کرتے ہیں— اور کسی کی نیّت پر شک کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے — کیونکہ یہ ایک دعویٰ ہے کہ ہمیں فلاں کے دل کا بھید معلوم ہے— حالانکہ دلوں کا بھید جاننے والی بس ایک ہی ذات ہے— جو “علیم بذاتِ الصدور”

ہے— اِس زاویے سے دیکھا جائے تو کسی کی نیّت پر شک کرنا گویا اُس علیم خبیر ذات کے علم میں خود کو شریک کرنے کا دعویٰ کرنا ہے — اور یہ معاملہ فی الاصل شرک کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ ربِّ کریم ہمیں توحید پرست بنائے—دوسروں کے حق میں کریم کرے — صرف اپنا بنائے— اور اپنے بھائیوں کے بارے میں بدگمان ہونے سے بچائے!
( روزنامہ “نئی بات” میں ہفتہ وار کالم “عکسِ خیال” بروز بدھ— 21 اکتوبر 2026ء)

اپنا تبصرہ لکھیں