قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟
معاشیات میں نوبل انعام یافتہ
پروفیسر
ڈیرین ایسی موغلو کی کتاب
جومعاشی طور پر پسماندہ قوموں کی
ناکامی کے اسباب اور خوشحالی
کی راہ میں اداروں کے کردار کی نشاندہی کرتی ہے
ایک سوال جس نے عالمی معاشیات کو نئی سمت دی ہے۔۔
دنیا میں بعض قومیں معاشی خوشحالی، صنعتی ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کی منزل حاصل کر لیتی ہیں، جبکہ دوسری قومیں قدرتی وسائل، محنت کش آبادی اور ترقی کے امکانات رکھنے کے باوجود غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں۔ اس فرق کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ کیا اس کا تعلق جغرافیے، موسم، ثقافت اور قدرتی وسائل سے ہے، یا اس کے پیچھے سیاسی اور معاشی اداروں کی ساخت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے؟
یہی بنیادی سوال ڈیرن ایسی موغلو (Daron Acemoglu) اور جیمز اے رابنسن (James A. Robinson) کی معروف کتاب Why Nations Fail: The Origins of Power, Prosperity, and Poverty کا مرکزی موضوع ہے۔ 2012ء میں شائع ہونے والی اس کتاب نے قومی خوشحالی اور غربت کے اسباب پر ایک اہم بحث کو عام کیا۔ بعد ازاں 2024ء میں ڈیرن ایسی موغلو، سائمن جانسن اور جیمز رابنسن کو معاشرے کے اداروں کی تشکیل اور خوشحالی پر ان کے اثرات سے متعلق تحقیق پر معاشیات کا نوبل انعام دیا گیا۔
اس کتاب کا بنیادی استدلال یہ ہے۔۔ کہ قوموں کی معاشی کامیابی یا ناکامی کو سمجھنے کے لیے ان اداروں کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔۔جو طاقت، وسائل، مواقع اور معاشی سرگرمیوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔
1۔ شمولیتی اور استحصالی ادارے
کتاب میں مصنفین سیاسی اور معاشی اداروں کی دو بنیادی اقسام میں فرق کرتے ہیں۔
شمولیتی ادارے (Inclusive Institutions) ایسے ادارے ہیں جو معاشرے کے وسیع تر حصے کو معاشی سرگرمیوں میں شرکت، کاروبار، سرمایہ کاری، تعلیم، جدت اور ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ملکیتی حقوق کا تحفظ، قانون کی بالادستی، منصفانہ مسابقت اور سیاسی طاقت کی نسبتاً وسیع تقسیم اہم عناصر ہیں۔
اس کے برعکس، استحصالی ادارے (Extractive Institutions) ایسے نظام کی عکاسی کرتے ہیں جن میں سیاسی طاقت اور معاشی فوائد محدود حلقوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ادارے پورے معاشرے کی ترقی کے بجائے چند طاقتور گروہوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
مصنفین کے مطابق شمولیتی ادارے افراد کو محنت، سرمایہ کاری اور جدت کے لیے ترغیب دیتے ہیں، جبکہ استحصالی ادارے معاشی مواقع کو محدود کرکے ترقی کی رفتار کو نقصان
پہنچا تے ہیں
2۔ قدرتی وسائل ہی خوشحالی کی ضمانت نہیں
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک لازماً خوشحال ہوتے ہیں، جبکہ وسائل کی کمی کا شکار ممالک کے لیے ترقی مشکل ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کی معاشی تاریخ اس سادہ تصور کی مکمل تائید نہیں کرتی۔
وسائل کی موجودگی اہم ہے، مگر ان سے حاصل ہونے والی دولت کا استعمال، سرمایہ کاری کی سمت، قانونی تحفظ اور معاشی مواقع تک رسائی بھی اہم ہیں۔ اگر وسائل سے پیدا ہونے والی دولت پیداواری صلاحیت بڑھانے، تعلیم بہتر بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور عوام کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے بجائے محدود حلقوں میں مرتکز ہو جائے، تو اس دولت کے باوجود وسیع تر خوشحالی پیدا نہیں ہو سکتی۔
اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کسی ملک کے پاس کتنی دولت ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی دولت کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ثمرات معاشرے تک کس حد تک پہنچتے ہیں۔
3۔ قانون کی بالادستی اور ملکیتی حقوق
کسی بھی معاشی نظام میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کاروباری شخص اسی وقت طویل مدتی منصوبہ بندی کرتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کی جائز ملکیت محفوظ رہے گی، معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا اور تنازع کی صورت میں اسے مؤثر قانونی تحفظ میسر آئے گا۔
اگر قوانین غیر یقینی ہوں، ان پر عمل درآمد غیر مساوی ہو یا عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر ہو، تو کاروباری اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری محدود، پیداواری سرگرمیاں کم اور نئے کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
کتاب کے نظریات کی روشنی میں قانون کی بالادستی صرف انصاف کا معاملہ نہیں، بلکہ معاشی ترقی کے لیے بھی ایک اہم ادارہ جاتی شرط ہے۔
4۔ معاشی مواقع، مسابقت اور جدت
معاشی ترقی صرف موجودہ کاروباروں کی توسیع سے حاصل نہیں ہوتی۔ نئی ٹیکنالوجی، نئے کاروباری طریقوں، بہتر مصنوعات اور پیداواری عمل میں تبدیلی بھی ترقی کے اہم ذرائع ہیں۔
ایسا معاشی ماحول جس میں نئے کاروباری افراد کو داخلے کے مواقع حاصل ہوں، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور مسابقت کو تحفظ دیا جائے، جدت کے لیے سازگار ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر معاشی طاقت چند اداروں یا گروہوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے کاروباروں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر سکیں، تو مسابقت اور جدت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس تناظر میں معاشی اصلاحات کا مقصد صرف سرمایہ کاری کی مقدار بڑھانا نہیں، بلکہ ایسے قواعد و ضوابط قائم کرنا بھی ہے جو سرمایہ کاری کو پیداواری سرگرمیوں، روزگار اور نئی صلاحیتوں کے فروغ سے جوڑیں۔
5۔ استحصالی نظام خود کو برقرار کیوں رکھتے ہیں؟
کتاب کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ استحصالی ادارے محض اتفاق سے برقرار نہیں رہتے۔ ان سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور حلقے اکثر موجودہ نظام کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ اصلاحات سے ان کے مراعات یا اختیارات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یوں ایک ایسا چکر قائم ہو سکتا ہے جس میں سیاسی طاقت معاشی فوائد کو محدود حلقوں تک پہنچاتی ہے، اور انہی معاشی فوائد کی مدد سے سیاسی طاقت کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
مصنفین اس رجحان کو سمجھنے کے لیے تاریخ کی متعدد مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ محض حکومت یا قیادت کی تبدیلی کافی نہیں ہوتی، اگر اداروں کے بنیادی قواعد اور طاقت کی تقسیم میں تبدیلی نہ آئے۔
یہ نکتہ معاشی اصلاحات کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ اچھی پالیسی کا اعلان اور اس پر مؤثر عمل درآمد دو مختلف مراحل ہیں۔ دیرپا تبدیلی کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو اصلاحات کو ممکن بنائیں اور ان کے تسلسل کو برقرار رکھ سکیں۔
6۔ معاشی پسماندگی سے خوشحالی کی طرف
کتاب سے اخذ ہونے والا ایک اہم سبق یہ ہے کہ معاشی پسماندگی کا کوئی ایک سادہ حل نہیں۔ اداروں کی تشکیل تاریخ، سیاسی حالات، سماجی قوتوں اور معاشی مفادات سے متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے مختلف ممالک کے لیے ایک ہی نسخہ یکساں نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
تاہم، کتاب کے مرکزی نظریے کی روشنی میں چند اہم سمتوں پر توجہ دی جا سکتی ہے:
قانون کی بالادستی اور معاہدوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا۔
ملکیتی حقوق اور کاروباری اعتماد کو تحفظ دینا۔
معاشی مواقع اور مسابقت کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنا۔
تعلیم، ہنرمندی اور جدت کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو فروغ دینا۔
سرکاری اداروں میں شفافیت اور جواب دہی کو بہتر بنانا۔
ایسے نظام کی حوصلہ شکنی کرنا جس میں معاشی فوائد اور سیاسی طاقت محدود حلقوں میں مرتکز ہو جائیں۔
یہ نکات کتاب کے نظریات سے اخذ کردہ اصلاحاتی سمتیں ہیں، نہ کہ مصنفین کی جانب سے تمام ممالک کے لیے پیش کردہ کوئی مخصوص اور یکساں سفارشاتی فہرست۔
7۔ کیا صرف ادارے ہی سب کچھ ہیں؟
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ کتاب کے مرکزی استدلال کو اہمیت دینے کے ساتھ اس کی حدود کو بھی تسلیم کیا جائے۔ معاشی ترقی پر اداروں کے علاوہ تعلیم، ٹیکنالوجی، عالمی تجارت، جنگوں، جغرافیے، قدرتی آفات اور بین الاقوامی معاشی حالات کے اثرات بھی پڑتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر معاشی مسئلے کی واحد وجہ ادارے ہیں یا ادارہ جاتی اصلاحات سے تمام مشکلات فوراً ختم ہو سکتی ہیں۔ زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ ادارے ان بنیادی عوامل میں شامل ہیں جو کسی معاشرے کے معاشی امکانات، سرمایہ کاری اور طویل مدتی ترقی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
نتیجہ: خوشحالی کا تعلق وسائل کے ساتھ اداروں سے بھی ہے
Why Nations Fail
کی اہمیت اس میں ہے کہ یہ قومی خوشحالی کے سوال کو صرف دولت، قدرتی وسائل یا فوری معاشی پالیسیوں تک محدود نہیں رکھتی۔ یہ ہمیں ان سیاسی اور معاشی اداروں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے جو طے کرتے ہیں کہ معاشرے کے افراد کو کون سے مواقع حاصل ہوں گے، سرمایہ کاری کس ماحول میں ہوگی اور معاشی فوائد کس طرح تقسیم ہوں گے۔
معاشی طور پر پسماندہ قوموں کے لیے یہ زاویۂ نظر اس لیے اہم ہے کہ ترقی کا سفر صرف زیادہ وسائل حاصل کرنے یا زیادہ سرمایہ خرچ کرنے سے مکمل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایسا ادارہ جاتی ماحول بھی ضروری ہے جو افراد کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، کاروبار کو فروغ دینے، قانون کا تحفظ فراہم کرنے اور جدت کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے۔
قوموں کی خوشحالی کسی ایک فیصلے یا ایک حکومت کا نتیجہ نہیں ہوتی؛ یہ طویل مدتی ادارہ جاتی ارتقا، معاشی مواقع اور مسلسل اصلاحات سے تشکیل پاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کسی قوم کے پاس کتنے وسائل ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے ادارے ان وسائل کو وسیع تر خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے کس حد تک اہل ہیں اور سماجی و معاشرتی و سیاسی ماحول کس حد تک سازگار ہے۔
اس مضمون کی تیاری کے لئے چوہدری جپٹ آلمعروف چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی گئی ہے۔۔ورنہ بقول غالب
ہم کہاں کے دانا کس کام یکتا تھے
ہاں چوہدری جپٹ سے کام لینے کے لئے ایک خاص مزاج ومیلان اور تھوڑی بہت اس موضوع کے متعلق معلومات بہت ضروری ہیں


