مہ پارا صفدر/ تحریر : روبینہ فیصل

جدت اور روایت کے امتزاج کا روشن استعارہ
ماہ پارا وہ خاتون ہیں جنہوں نے روایت کی بند گلیوں سے نکل کر امکانات کی نئی شاہراہیں تعمیر کیں ۔
انہوں نے اپنی مشرقیت کو قائم رکھتے ہوئے ، خاندان یا خاندانی روایات سے بغاوت بھی نہیں کی اور نئے چراغ بھی جلا دئیے ۔

ان کا سفر مینارِ امید پر رکھے ہوئے اس چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی آج بھی بہت سی لڑکیوں کو اپنے خوابوں کی سمت دکھا رہی ہے

چند دن پہلے ہی بچپن کی ٹی وی سکرین سے نکل کر وہ مجھے ایک لنچ پر ملیں تو یوں لگا جیسے وقت ان کے چہرے پر ٹھہر گیا ہو ، وہی دلکشی وہی مسکراہٹ وہی متانت ۔
یہ تقریب ان کی بڑی بہن فوزیہ نے جو میرے ہی شہر اووکول میں رہتی ہیں اور خود بھی ایک انتہائی قابل خاتون ہیں انہوں نے منعقد کی تھی ۔ اور مجھے پرویز صلاح الدین نے ان کے بی ہاف پر انوائٹ کیا تھا ۔ ان کی شکر گزار ہوں کہ ان کے توسط سے مجھے یہ سنہری موقع ملا
۔ فوزیہ بھی وہ ہیں جنہوں نے اس زمانے میں ایم اے جرنلزم کیا جب لڑکیاں ایسی باتیں خوابوں میں بھی سوچ لیتی تھیں تو زمانہ ڈر جایا کرتا تھا ۔۔ خیر زمانے سے بہترین انداز میں ٹکرانے والی یہ بہنیں مجھے ملیں تو ان سے باتیں کرکے میں ایک بالکل مختلف دنیا میں پہنچ گئی ۔ جہاں محبتوں کی ، رشتوں کی ، جذبوں کی اور خوابوں کی ایک الگ ہی چمک تھی ۔ میں نے ان دونوں بہنوں کی آنکھوں میں وہ زمانہ دیکھا جو ہم سب نے صرف کتابوں میں پڑھ اور خوابوں میں دیکھ رکھا تھا ۔۔
رواداری ، سادگی ، خلوص ، عاجزی اور مسکراہٹ ان گم شدہ اوصاف کو ان کی باتوں میں کثرت سے پایا ۔
جب ہم کسی مشہور شخصیت سے ملتے ہیں تو اکثر انہیں اپنی ذات میں مست پاتے ہیں ان کے سارے ہیرے پھیرے اپنے ہی گرد ہوتے ہیں ۔۔
مگر اس ملاقات میں ماہ پارا اپنے بارے میں باتیں ضرور کررہی تھیں ، ظاہر ہے سب ان کے بارے ہی جاننے کے لیے آئے تھے ۔۔ مگر جو چیز انہیں دوسرے معروف لوگوں سے ممتاز کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ وہ دوسروں کو بھی انتہائی توجہ سے سن رہی تھیں ۔ ان کے لیے اپنی ذات کا بت ہی اہم نہیں تھا وہ دوسروں کے اندر بھی جھانکنا چاہتی تھیں ۔
عمران خان سے مجھے دو مرتبہ بات قریب سے بات کرنے کا موقع ملا ہے ، انتہائی عزتوں شہرتوں میں گھرا ، میں نے وہ پہلا انسان دیکھا تھا جو لاکھوں کے ہجوم میں بھی اپنے ساتھ بات کرنے والے سے کمییونیکیٹ کرتا ہے ۔۔ کبھی یہ نہیں لگا کہ وہ صرف نمائشی مسکراہٹ یا رسمی جملوں والا سیلبریٹی ہے ہمیشہ یہ لگا کہ وہ ہمارے لیول پر کھڑا کوئی دوست ہے ہمارے ہی جیسا جس سے ہم
کوئی بھی بات بغیر ڈرے جھجکے کر سکتے ہیں ۔۔ ماہ پارا کے لیے یہ کچھ زیادہ ہی نہ ہوجائے مگر یقین جانیے مجھے ان سے پہلی مرتبہ مل کر یہی احساس ہوا جیسے میں اپنے کسی ایسے دوست سے بات کررہی ہوں جسے میں سالوں سے جانتی ہوں ۔۔۔۔ بالکل ویسی ہی کمفرٹیبل خوشگوار اپنائیت والی فیلنگ ۔۔
اس دن ماہ پارا نے بہت خوبصورت کیپشن کے ساتھ مجھے اپنی کتاب دی ۔ اور میں نے انتہائی مصروفیت کے باوجود اسے آدھے سے زیادہ پڑھ بھی لیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دل سے لکھی تحریر دل تک فورا پہنچتی ہے ۔۔ اور انسان کو جکڑ لیتی ہے ۔۔
اس کتاب میں کیا نہیں ہے ؟ میں نے اپنے چند پاکستان میں بیٹھے پی ٹی آئی کے کتابیں پڑھنے والے خاص کر پاکستانی تاریخ دوستوں سے پوچھا کیا آپ لوگوں نے ماہ پارہ کی یہ کتاب پڑھی ہے ؟ ایک دوست راجہ قاسم نے پڑھی ہوئی تھی اس نے کہا میں بھٹو دور اور ضیاالحق تک پڑھی ہے ابھی آگے پڑھنی ہے دوسرے نے یہ سنتے ہی اسی وقت یہ کہہ کر آرڈر کر دی کہ یہ تو پڑھنے والی کتاب ہوگی ، وہ دوست خود بھی ملزم جناح حاضر ہو جیسی دلچسپ کتاب لکھ چکا ہے اور اس مصنف دوست کا نام عماد بزدار ہے
“ میرا زمانہ میری کہانی “ ماہ پارہ کی اس کتاب میں کیا نہیں ؟
ایک عورت کی آگے بڑھنے کی کہانی بھی ہے ، اور ایک پورے ملک کا پیچھے کی طرف ، جانے کا سفر بھی ہے ۔۔
جہاں اس ٹوٹے پھوٹے ملک میں ایک فرد ترقی کررہا تھا وہاں پر اس ملک کے بنانے والوں کے خواب ٹوٹنے اور اس ملک پر عذاب بن کر ٹوٹنے والوں کی کہانیاں اس کتاب میں رقم ہیں ۔۔
ماہ پارا کی کتاب میں یہی تو حیرانی کی بات ہے کہ اسے ایک کامیاب اور نامور عورت کی آپ بیتی سمجھ کر پڑھیں یا بالکل درست پاکستانی تاریخ سمجھ کر پڑھیں ۔۔ یا سماج میں ہونے والے عورت کے استحصال کی کہانی کو پڑھیں جس بھی طرف سے پکڑیں ایک کان آپ کے ہاتھ میں آ جائے گا ہم سب کا کان ۔۔۔
ایک مزے کی بات یہ بھی کہ ہم جیسے تاریخ کے شوقین طالبعلم جنہوں نے بہت سی تاریخ کی کتابوں کو پڑھ کر نتائج اخذ کئے ہوئے تھے ماہ پارا کی کتاب پڑھ کر ان سب کی تصدیق ہو گئی ۔۔ وہ بالکل ایک سچے تاریخ دان کی طرح جو خود اپنی آنکھوں سے سب تماشے قریب سے دیکھ رہا ہو ، ملکی حالات انتہائی سچائی سے قلم بند کرتی گئی ہیں ۔۔
یہ کہانی صرف ایک عورت کی کہانی نہیں ، اس میں چھ بہنوں کی صورت ماں اور نانی کی صورت ، ایسی بہت سی عورتوں کی ہمت و عزم کی کہانی ہے ۔۔
اس میں کہیں ہمیں ایک باہمت ماں نظر آتی ہے جو اپنی چھ بچیوں کو سینے سے لگائے انہیں تعلیم دینے کے خؤاب دیکھتی ہے ، کہیں ایک ایماندار کم گو شفیق باپ نظر آتا ہے جس کا اوڑھنا بچھونا تعلیم اور اقدار ہیں ۔۔
اسی کتاب میں ہمیں چھ بہنیں نظر آتی ہیں جنہیں آپس میں محبت ہے لحاظ ہے احترام ہے اور وہ ایک دوسرے کا بازو بنیں ایک دوسرے کو آگے لے جاتی ہیں ۔۔ اس طلسماتی کہانی میں مجھے کہیں حسد ، نفرت اور دشمنی جیسے لفظ نظر نہیں آئے ۔۔ کیسے نظر آتے
محبت اس خاندان کا ورثہ ہوگی بس یہی سمجھ میں آیا ۔۔
ہماری پاکستانی سوسائٹی میں وہ دنیا میں جہاں بھی جا کر بس جائیں ٹی وی میڈیا شوبز سے وابستہ خواتین کے بارے ایک تاثر تو عام ہے کہ یہ گھریلو نہیں ہوتیں ، ان کے گھر بستے نہیں ۔۔ ماہ پارہ کی خود نوشت پڑھ کر یہ بدگمانی بھی دور ہوئی ۔۔ جہاں ان کا اپنا گھر یعنی شوہر بچے انتہائی محبت سے نظر آرہے ہیں وہاں ان کا اپنی بہنوں سے ان کے بچوں سے ، ماں باپ سے ، حتی کہ بہنوئیوں سے بہت پیارا رشتہ نظر آتا ہے ۔۔ منہ بولے رشتے دور پار کے رشتے ۔۔ اتنے سارے رشتوں کو سمیٹے ماہ پارا نے لکھنے پڑھنے شوبز والے سب لوگوں کے لیے ایک نئی ہی دنیا کا پیغام دیا ہے ۔۔
کسی کو پاکستانی تاریخ سے دلچسپی نہ ہو تو وہ پھر بھی یہ کتاب پڑھے کہ اس میں رشتوں کی تاریخ کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔۔ پچھلی نسل ہو یا اگلی ماہ پارہ اور ان کے سب رشتے ہر طرف محبتوں کی روشنی پھیلا تے نظر آتے ہیں ۔۔
اور اگر کوئی تاریخ کا سنجیدہ قاری ہے تو وہ بھی یہ کتاب ضرور پڑھے کہ اس میں پاکستان بننے کے بعد کے ہر ہر اہم موڑ پر انتہائی سلیقے اور طریقے سے سچی بات ہوئی ہے
ہمارے سماج میں پروفیشنل عورتوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لکھنے پڑھنے اور شوبز والی خواتین کو ان سے دگنی تگنی مشکلات دیکھنی پڑتی ہیں ۔۔
میں کالم لکھتی تھی جو نوائے وقت میں چھپتے تھے ، میں کہانی لکھتی ہوں ، میں نے سنجیدہ موضوعات جن میں ہندوستان کی تاریخ ، جنگوں کے احوال ، ایران ، شام ساوتھ امریکہ پر پروگرام ، بلاس فیمی اور کئی اہم شخصیات پر سینکڑوں پروگرامز کیے اور کئی اہم شخصیات کے انٹرویو ز اپنے ٹاک شو دستک میں کیے ، جن میں عمران خان سے بات چیت میری زندگی کا سرمایہ ہے ۔۔ میں نے ناول لکھا فلمیں بنائیں ۔۔ ۔۔ بی کام کیا ایم اے انگلش کیا ، بنک میں کام کیا ، بچے پالے ، گھر بنایا ، شوہر کو بنایا ۔۔ مگر ان سارے کاموں کا کریڈٹ جب اپنے شوہر کی جھولی میں گرتے دیکھا تو سوچا میری شکل ہی ایسی ہے شرارتی سے نکمی سی تو اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں لگتا کہ میں سنجیدہ کام بھی کر سکتی ہوں ۔۔ یا میں کوئی کام بھی کر سکتی ہوں ۔۔
مگر جب اس دن ماہ پارا نے یہی بات کہی کہ شعر وہ سناتی تھیں اور مجمعے سے آواز آتی تھی “ واہ صفدر ہمدانی واہ “ یاد رہے صفدر ہمدانی وہ ہیں جنہوں نے ماہ پارہ زیدی کو ماہ پارا صفدر میں تبدیل کیا تھا یعنی ان کے شوہر نامدار ۔۔ بہت اچھے شاعر اور سکالرلی شخصیت ہیں ان کے ابا یعنی ماہ پارا کے سسر ہی وہ انسان ہیں جو گئے تو آل انڈیا ریڈیو میں تھے لیکن جب باہر نکلے تو وہ ریڈیو پاکستان ہوچکا تھا اور ریڈیو پر پاکستان بننے کا اعلان بھی انہوں نے ہی کیا تھا ۔۔ تو یہ سن کر مجھے تسلی ہوئی کہ یہ صرف میری شکل کا ہی قصور نہیں ہماری اجتماعی مزاج کی بدبختی ہے کہ عورت ٹیلینٹیٹد ہو اور گھر بسا کے بیٹھی ہو تو فورا اس کا کریڈٹ اس کے شوہر کو دے دو اور اگر اماں ابا کے گھر ہو تو باپ بھائی کے سر پر سہرا سجا دو ۔۔
خیر اس کتاب میں ایک اور خوبصورت چیز ہے اور وہ ہے پاکستان میں پاکستان ریڈیو اور پی ٹی وی کی تاریخ ۔
اور اب وہی ہماری پیاری سی نیوز کاسٹر ماہ پارا اب عمران خان جو کہ مزاحمت کا استعارہ بن چکا ہے اس کی آواز بن چکی ہیں ۔ مجھے ان کا یہ روپ دیکھ کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ انہوں نے اپنے خبرنامے والے انداز کو خوبصورتی سے ویلاگ میں ڈھال لیا ہے ۔۔ کچھ دن پہلے ان کا ویلاگ سنا جس میں عمران خان اور چی گویرا کا تقابلی جائزہ تھا ۔۔ میرا دل کیا میں بھی کہوں واہ صفدر ہمدانی واہ ۔۔ سچ جانئیے ایک سچے انقلابی کی آواز اور اخلاص محسوس ہوا جو کبھی ہمارے صفدر ہمدانی جنہیں میں پیار سے بابا کہتی ہوں ان کی آواز میں محسوس ہوا کرتا تھا ۔۔۔ خالصتا اینٹی اسٹبلشمنٹ ہوا کرتے تھے یہ سوال جو میں بہت سے جیالوں جنہوں نے بھٹو کے قید و بند کے دن دیکھے اس کا اسی فوج کے ہاتھوں اذیتیں سہتے دیکھا ۔
ہماری نسل تب پیدا نہین ہوئی تھی یا بہت چھوٹی تھی اس وقت اس انسان کو پھانسی پر لٹکا دیا کیا تھا جب وہ آنے والی نسلوں کے لیے دن رات ایک کررہا تھا ، جب اسے بھی یہی فکر لاحق ہوئی تھی کہ انٹرنیشنل اسٹبلشمنٹ پاکستان کو عزت سے جیتے نہیں دیکھ سکتی وہ انہیں گھٹنوں کے بل رکھنا چاہتی ہے اور جو حکمران ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا وہ اسی کو پاکستان کا بادشاہ بنائیں گے ۔۔ غریب پاکستانیوں کے دلوں کے بادشاہ کو اذیتیں دے دے کر مار دیا گیا ۔۔ عوام کو ڈرا دھمکا دیا ۔۔ اس وقت جن جیالے لکھاریوں نے اس ظلم کے خلاف لکھا ، خوب لکھا ان میں سے جو آج زندہ ہیں ان سے میری شدید حیرت یہ سوال پوچھنا چاہتی ہے ، شاہی قلعے میں کوڑے کھا کر ، سچ کی خاطر نہ بک کر ، ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے والو ہماری باری کیا ہوگیا ؟؟؟ ہم یا ہم سے اگلی نسل ان کا کیا قصور ہے کہ آپ لوگ ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکے ، ہمارا باغی آپ کے باغی سے مختلف کیسے ہوگیا ؟
بوسیدہ نظام سے ہماری بغاوت آپ کی بغاوت سے کمتر کیسے ہو گئی ؟
آپ پر ہونے والا ظلم ظلم تھا اور ہم پر ہونے والا ٹھٹھا مذاق کیسے ہوگیا ؟
میں شکر گزار ہوں حیدر مہدی کی جنہوں نے فسطائیت بھرے ماحول میں کڑک دار آواز بلند کی ، ہم جیسوں کو سہارا ملا ، میں شکر گزار ہوں ماہ پارہ کی جو آج بھی کل کی طرح حق کے ساتھ کھڑی ہیں ۔۔ کر بلا کے یہ حقیقی مجاہد ،معرکہ حق کی روح کو سمجھنے والے چند دانشور ، جنہین ہم انگلیوں پر گن سکتے ہیں ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ میدان کربلا میں حق کے سامنے کھڑے ہونے والوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے ۔ اب کوفیوں اور یزیدیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے بڑے بڑے سودے ہوجاتے ہیں ۔۔ ضمیروں کے بھی وعدوں کے اور خوابوں کے بھی ۔۔نسلوں کے اور ملکوں کے ۔۔

”مہ پارا صفدر/ تحریر : روبینہ فیصل“ ایک تبصرہ

  1. A nice and concise,precise intro of an enlightened icon of Pakistan Television. Her book is remarkable piece of work

اپنا تبصرہ لکھیں