تعارف
انسانی زندگی میں بہت سے رشتے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن بہن بھائیوں کا رشتہ ایک ایسا منفرد تعلق ہے جس پر اکثر کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ یہ ہماری شخصیت اور بڑے ہونے پر ہمارے تمام دوسرے رشتوں کی بنیاد طے کرتا ہے۔ بچپن میں والدین کے ساتھ ہمارا تعلق جتنا اہم ہے، اتنا ہی گہرا اثر ہمارے بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والے تجربات کا ہماری نفسیات پر ہوتا ہے۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کے تاریخی واقعے سے لے کر جدید نفسیات تک کئی اہم مثالیں ملتی ہیں، جو یہ واضح کرتی ہیں کہ بہن بھائیوں کے درمیان موجود کشمکش اور جذبات ہماری پوری زندگی پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔
سگمنڈ فرائیڈ اور ہاریزونٹل رائویلری
مشهور ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے ایڈیپل کمپلیکس کے تحت ورٹیکل رائویلری کا ذکر کیا تھا، جو بچے اور اس کے والدین کے درمیان ہوتی ہے۔ چونکہ والدین بااختیار اور طاقتور ہوتے ہیں، اس لیے یہ رشتہ ورٹیکل کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس، بہن بھائیوں کے درمیان جو مقابلہ یا کشمکش ہوتی ہے، وہ ہاریزونٹل ہوتی ہے کیونکہ وہ آپ کے ہم عمر ساتھی ہوتے ہیں۔ ریلیشنشل سائکو انالسس میں اس ہاریزونٹل رائویلری کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ بڑے ہونے پر ہمارے تعلقات میں یہی پیٹرنز بار بار دہرائے جاتے ہیں۔
بہن بھائیوں کے ساتھ تعلق کے مختلف پہلو
بچپن میں ہمارے بہن بھائی ہمارے پہلے حریف، ساتھی اور گواہ ہوتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے ان کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا اور اپنی شناخت بنانا سیکھتا ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے اس بہن بھائی کے ساتھ خود کو شناخت کرنے لگتے ہیں جسے والدین کی طرف سے زیادہ توجہ ملتی ہے۔ ہم بالکل ویسے کپڑے پہننے، اٹھنے بیٹھنے اور سٹائل اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
شادی شدہ زندگی اور رشتوں پر گہرے اثرات
یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ ہم اپنی شادی شدہ زندگی میں لاشعوری طور پر وہی ڈائنامکس پلے کرتے ہیں جو ہم نے بچپن میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کیے ہوتے ہیں۔ چونکہ شریک حیات ہمارا ہم سر ہوتا ہے، اس لیے وہ کوئی اتھارٹی نہیں بلکہ ہمارے بہن بھائی کی جگہ لے لیتا ہے۔
اگر بچپن میں بھائی یا بہن کے ساتھ والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے میدان جنگ جیسا مقابلہ رہا ہو، تو یہی رویہ بڑے ہونے پر شوہر یا بیوی کے ساتھ بھی سامنے آ سکتا ہے۔ بچوں کی توجہ حاصل کرنے یا بہتر پیرنٹ ثابت کرنے کی دوڑ میں پارٹنر کے ساتھ وہی پرانی رقابت دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
گھریلو ملازم کے انٹرویو کا واقعہ!
میری ایک کلائنٹ کی مثال دی گئی ہے جو ایک ڈس فنکشنل فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اور بچپن میں ان کا کردار ‘انویزیبل چائلڈ’ (نظرانداز ہونے والا بچہ) کا تھا۔ ایک دن جب وہ اور ان کے شوہر گھر کے لیے ایک کھانا بنانے والی خاتون کا انٹرویو لے رہے تھے، تو وہ خاتون بہت کانفیڈنٹ اور اپنی تعریفیں کرنے والی تھی۔ اس صورتحال کو دیکھ کر وہ کلائنٹ اچانک ڈسوسی ایٹ ہو گئیں اور شدید افسردہ ہو گئیں۔
بعد میں جب انہوں نے اس بات کا تجزیہ کیا تو انہیں سمجھ آئی کہ وہ کانفیڈنٹ خاتون ان کی وہ بہن بن گئی تھی جسے بچپن میں والدین کی ساری توجہ ملتی تھی، ان کے شوہر ان کی والدہ بن گئے تھے جنہوں نے اس خاتون کو توجہ دی، اور وہ خود دوبارہ وہی چھوٹی اور بے بس بچی بن گئی تھیں۔ اس سمجھ نے انہیں اپنے شوہر سے بے جا لڑنے اور گھر کا سکون خراب کرنے سے بچایا، اور انہوں نے اپنے اندرونی بچے کے درد کو پروسیس کیا۔
دوسری مثال: بچوں کے ذریعے بہن بھائی کے ڈائنامکس کا اظہار
اسی کلائنٹ کی دوسری مثال یہ ہے کہ وہ خود بہت انٹروورٹ اور خاموش تھیں اور ان کی بیٹی بھی ویسی ہی تھی۔ اس کے مقابلے میں ان کی دیورانی کی بیٹی بہت ایکسٹروورٹ، تیز طرار اور اٹینشن سیکر تھی، جو اکثر ان کی بیٹی پر حکم چلاتی یا اسے کنٹرول کرتی تھیـ یہ کلائنٹ اپنی بیٹی کے سادے مزاج ہونے پر شدید غصہ کرتی تھیںـ
گہرائی سے جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ وہ دراصل اپنی ہی سادگی اور اس بچی سے نفرت کرتی تھیں (کیونکہ انہیں بچپن میں والدین سے اپروول نہیں ملا تھا)ـ دیورانی کی تیز طرار بیٹی میں انہیں اپنی بہن کا عکس نظر آتا تھا، اور اپنی بیٹی میں انہیں اپنا خود کا عکس نظر آتا تھا۔ جب انہوں نے ان تمام ڈائنامکس کو سمجھ لیا، تو وہ اپنی بیٹی کو وہ پیار دے سکیں جو انہیں خود بچپن میں نہیں ملا تھا۔
ڈس فنکشنل فیملیز اور والدین کا اصل کردار
بہن بھائیوں کے درمیان جو حسد، جلن یا مقابلہ ہوتا ہے، اس کی اصل جڑ بچے نہیں بلکہ والدین کا رویہ ہوتا ہے۔ ڈس فنکشنل فیملیز میں والدین فیورٹزم (بچوں میں ناانصافی اور فرق کرنا) کرتے ہیں۔ ایسے والدین حقیقت میں کسی بچے سے مشروط عشق نہیں کرتے، بلکہ وہ اس بچے کو پسند کرتے ہیں جو ان کی نفسیاتی ضروریات پوری کرتا ہے، اچھے نمبر لاتا ہے یا ان کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے۔ جو بچہ ان کی ضرورت پوری نہ کرے، اسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین کا یہ رویہ بچوں کے اندر حسد اور تقسیم کو جنم دیتا ہے۔
گِلٹ اور سروائیورز گِلٹ
بہن بھائیوں کے رشتے میں ایک ‘گِلٹی چائلڈ’ بھی موجود ہوتا ہے۔ جب کوئی بہن یا بھائی زندگی میں جدوجہد کر رہا ہوتا ہے، تو دوسرا بہن بھائی لاشعوری طور پر یہ محسوس کرتا ہے کہ شاید اس کی وجہ سے دوسرے کو تکلیف پہنچی ہے۔ اس کے علاوہ ‘سروائیورز گِلٹ’ بھی ہوتا ہے، جہاں ایک بچہ والدین کے برے رویے سے بچ جاتا ہے (گولڈن چائلڈ ہونے کی وجہ سے) اور دوسرے بھائی بہن کو شدید سفر کرنا پڑتا ہے، تو وہ ان کے درد کا بوجھ اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔
برتھ آرڈر کے نفسیاتی اثرات
پیدائش کی ترتیب بھی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے۔ خاندان کا سب سے پہلا بچہ اکثر اداس طبع ہو سکتا ہے، کیونکہ جب دوسرا بچہ آتا ہے تو اس کا پہلا ہونے کا خصوصی درجہ چھن جاتا ہے، جس سے اسے ایک لاشعوری رنج اور غم محسوس ہوتا ہے۔
نتیجہ
بچپن کے یہ زخم اور بہن بھائیوں کے ساتھ بنے ڈائنامکس بڑے ہونے پر بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ جنریشنل ٹراما کے اس چکر کو توڑنے اور اپنی بالغ زندگی کو بہتر بنانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندرونی بچے کو سمجھے، اس کے زخموں کو ہیل کرے اور بہن بھائیوں کے ساتھ بنے پرانے پیٹرنز کو سمجھداری سے حل کرے۔


