بلتستان کا پُرامن معاشرہ اور جرائم کی تلخ حقیقت۔ذمہ دار کون؟- شیر علی انجم

سکردو قدیم تہذیبوں کی امین اور بہادر علی شیر خان انچن کی سر زمین بلتستان کا صدر مقام ہے اور بلتستان کے تینوں اضلاع کی پہچان سکردو سے ہی کیا جاتا ہے۔ عام طور پر بلتستان کا نام ذہن میں آتے ہی اس خطے خوبصورت وادیاں، ان وادیوں میں بسنے والے سادہ لوح اور شریف النفس پُرامن لوگ، اور انہی کے درمیان علم، تقویٰ اور عمل مخمور سے پورے پاکستان میں مشہور علمائے کرام کا تصور فوراً ذہنوں میں ابھر آتا ہے۔ یقیناً کسی بھی معاشرے میں جہاں اچھائیاں زیادہ ہوں، وہاں برائیاں کرنے والے بعض اوقات آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں، کیونکہ اچھائیوں کی اکثریت کی وجہ سے یہ تاثر قائم ہو جاتا ہے کہ شاید اس معاشرے میں برائی کا وجود ہوگا ہی نہیں۔ ایسے معاشرے جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک طرح سے کھلا میدان بن جاتے ہیں، جہاں ان کے جرائم کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
کچھ اسی طرح کی وارداتیں بلتستان میں بھی معمول کی بات بن چکی ہیں، لیکن عمومی طور پر جرم کو روکنے کے بجائے جرم کی نشاندہی کرنے والے کو کوسنا معاشرے کا مزاج بن گیا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ المیہ یہ ہوگیا ہے کہ سرزمینِ اہلبیت کے متبرک نام، سال میں دو مرتبہ منعقد ہونے والی عاشورا، جہاں اہلِ بلتستان کو سیاسی اور سماجی شعور دینے میں ناکام رہی ہے، وہیں اپنے معاشرے میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے سینوں پر اٹھنے والے ہاتھ بھی جرائم پیشہ افراد، جن کے بنیادی اور اولین سرغنہ غیر مقامی ہوتے ہیں، کے خلاف نہیں اٹھ سکے۔ یہ عناصر مقامی افراد کو اپنے ساتھ شامل جرم کرکے قبیح سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
آج سے لگ بھگ دس سال پرانی بات ہے۔ راقم اپنے چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ایک فری لانس آن لائن نیوز ویب سائٹ چلاتا تھا۔ ایک دن سکردو سے ہمارے ساتھی نے وہاں موجود شراب کے کاروبار سے متعلق ایک خبر شیئر کی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ یہاں صرف شراب کا کاروبار نہیں ہوتا، بلکہ کباب کا بھی بندوبست ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں یہ خبر بریک کرنی چاہیے۔ میرے لیے یہ حیران کن اور تعجب خیز بات تھی کہ بلتستان میں ایسا بھی ہو رہا ہے، جبکہ اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کرنے والے اداروں میں سو فیصد مقامی افراد کام کرتے ہیں، لیکن کوئی روکنے والا نہیں۔ خیر، میں نے ان سے کہا کہ خبر شائع کرنے سے پہلے تحقیق اور تحقیق کے بعد اپنی حفاظت اہم ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم کوئی ایسی خبر چلائیں جس سے ہم خود خبر بن جائیں اور ہمارے گھر والوں کو ہماری وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ میں نے صاف طور پر کہا کہ میں تو ملک سے باہر ہوں، مسائل آپ لوگوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے حساس معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے۔
خیر، انہوں نے ذمہ داری قبول کی۔ میرا کام رپورٹ تیار کرکے شائع کرنا تھا، جو میں نے کردیا۔ وہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہماری ٹیم کو کسی نے وہابی، کسی نے بلتستان کا دشمن، اور کسی نے معاشرے کے لیے ناسور جیسے القابات سے نوازا۔ ہمارے خلاف سوشل میڈیا متحرک ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کے فورس کمانڈر جنرل احسان محمود، جو ایک عوامی شخصیت تھے، کو براہِ راست سوشل میڈیا کے ذریعے خط بھی لکھے۔ اداروں نے جو جوابات طلب کیے، ہماری ٹیم نے وہ فراہم کردیے۔ اس خبر کے چند ہی عرصے بعد ایک اور خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ کھرمنگ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان سکردو میں سود کے قرض میں پھنس کر کنگال ہوگیا تھا۔ تب معلوم ہوا کہ یہاں وہ کام بھی ہوتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی دوران کچھ مزید واقعات کے عینی شاہدین سے ملاقات ہوئی، جنہوں نے معاشرے کا دکھ بیان کرتے ہوئے ایسے واقعات سنائے کہ پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ یہ واقعات سکردو میں نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال سے متعلق تھے۔ ان تمام واقعات کو میں نے موبائل میں آڈیو ریکارڈنگ کی صورت میں محفوظ کیا، جو آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ اپنے گھر کا دروازہ ہر کسی کے لیے کھول دیں گے تو ہر آنے والا اپنا کردار ساتھ لے کر آئے گا۔ کچھ ایسا ہی سکردو کے ساتھ ہوا ہے، جہاں مقامی افراد بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ان تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے بلتستان پولیس کی کارکردگی پر سوال ضرور اٹھتا ہے۔ اسی طرح گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور لینڈ مافیا پر تو سوال ہی نہیں اٹھ سکتا، کیونکہ نماز کی اگلی صفوں میں ان کے لیے خصوصی نشستیں مختص ہوتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس معاشرے میں سال بھر ائمہ اہلبیت، شہید سید علی خامنہ ای اور شہید سید حسن نصراللہ زیرِ بحث رہتے ہیں، وہ معاشرہ عملی طور پر ان شخصیات کے کردار سے کوسوں دور کیوں ہے؟ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ چند عرصہ پہلے سکردو میں ایک دوست سے بات چیت ہو رہی تھی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ اب صورتِ حال اس قدر پیچیدہ اور تشویش ناک ہوچکی ہے کہ سکردو کے ہوٹلوں میں روم سروس کے لیے لڑکوں کے بجائے بلتی لڑکیوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ حالانکہ روزگار جرم نہیں، لیکن یہاں ہدف مشکوک ہے۔اسی طرح سکردو میں جس طرح کے گرلز ہاسٹلز کھل گئے ہیں، جہاں اچھی تعلیم کا سبز باغ دکھا کر والدین کو لوٹا جاتا ہے، شاید کسی والدین نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس طرح کے ادارے بھی جرائم کی آماجگاہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ گلگت بلتستان میں سیاحت، ترقی اور تعلیم کے نام پر غیر ملکی این جی اوز کا کردار کسی بھی طرح قابلِ اعتماد نہیں، بلکہ مشکوک ہے۔
اب تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے چائلڈ پورنوگرافی میں مبینہ طور پر ملوث ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور اس کے مبینہ گینگ لیڈر کو سکردو سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران یہ سامنے آیا کہ ایک شخص اپنے کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کرنے میں ملوث تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ملزم کا تعلق ضلع کھرمنگ سے ہے اور شادی شدہ ہیں لیکن خود کے کوئی اولاد نہیں۔ لیکن دیگر شہروں سرغنہ گروہوں کے ساتھ ملکر یہ قبیح کام انجام دیا کرتے تھے ۔اس صورتِ حال سے اندازہ لگائیں کہ بلتستان کا صدر مقام سکردو کس قدر غیر محفوظ ہوگیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پورا بلتستان غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوتاہی کہاں ہو رہی ہے؟ کہیں یہ دہائیوں سے قائدِ بلتستان کے عہدے پر براجمان شیخ محمد حسن جعفری صاحب کی قیادت اور معاشرتی تربیت پر چارج شیٹ تو نہیں؟۔یقیناً معاشرے کے لوگوں کو سوچنا ہوگا۔ اپنے گھر کی چادر اور چار دیواری کو سوشل میڈیا کی گرد آلود دنیا سے پاک رکھنے کے لیے ایک مؤثر میکانزم طے کرنا ہوگا۔ جمعہ کے خطبوں میں اس طرح کے مسائل کی بار بار نشاندہی کرنا ہوگی، تاکہ معاشرے میں جرائم کے خلاف شعور بیدار ہو اور ان کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکیں۔
این سی سی اے کی جانب سے چائلڈ پورنو گرافی کے جرم میں ملوث ضلع کھرمنگ کے گاؤں برسیل سے تعلق رکھنے ساجد حوالے ان گاؤں کے کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے لاپتہ تھے اور اس دوران اس کی فیملی کو فون کرکے پانچ لاکھ روپے کا روپے کا تاوان طلب کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ اس رقم کی عدم ادائیگی پر سات ماہ بعد ساجد کو بین الاقوامی گینگ کا سرغنہ بنا کر پیش کیا۔ دوسری بات ان کر الزام لگایا کہ وہ اپنے بچوں سے بدفعلی کرکے ویڈیو فروخت کرتے تھے جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق اس شادی کو صرف دو سال ہوئی ہے اور ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں ہے۔پس یہ معاملہ گلگت بلتستان کا قومی سوال بن گیا ہے گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ کو اس کیس پر نوٹس لیکر حکومت سے اس کیس مکمل چھان بین کرنے کا حکم دینے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ امجد ایڈووکیٹ جو خود بھی ایک وکیل ہے ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کیس کی چھان کیلئے حکومتی سطح پر تفتیش کریں کیونکہ یہ ایک کیس نہیں گلگت بلتستان کا قومی سوال ہے ۔

وما علینا الاالبلاغ

اپنا تبصرہ لکھیں