دُنیا کو صرف سائنس دان، سیاست دان، معیشت دان اور موجد ہی نہیں بدلتے؛ اسے وہ فنکار بھی بدلتے ہیں جو رنگوں میں احساس، لفظوں میں فکر، دھنوں میں جذبات اور کرداروں میں انسانی زندگی کی حقیقتیں سمو دیتے ہیں۔ فنکار بظاہر ایک تصویر بناتا، ایک نظم لکھتا، ایک دھن ترتیب دیتا یا اسٹیج پر کوئی کردار ادا کرتا ہے، مگر اس کی تخلیق کا اثر اکثر انفرادی تجربے سے نکل کر اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فن محض تفریح نہیں، انسانی تہذیب کی تشکیل اور بقا کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
ہر سال 25 اکتوبر کو عالمی یومِ فنکار (International Artist ’s Day) منایا جاتا ہے۔ نیشنل ڈے کیلنڈر کے مطابق اس دن کا آغاز 2004ء میں کینیڈین فنکار کرس میک کلور نے کیا۔ اس تاریخ کا انتخاب مشہور مصور پابلو پکاسو کی سالگرہ کی مناسبت سے کیا گیا، جو 25 اکتوبر 1881ء کو پیدا ہوئے تھے۔ اس دن کا بنیادی مقصد مختلف فنون سے وابستہ تخلیق کاروں کی خدمات کو تسلیم کرنا اور معاشرے میں ان کے مقام کو اُجاگر کرنا ہے۔
فن کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ سے جدا نہیں۔ تحریر کے باقاعدہ نظام سے پہلے بھی انسان غاروں کی دیواروں پر تصویریں بناتا، علامتوں کے ذریعے اپنے تجربات محفوظ کرتا اور آوازوں و حرکات سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا تھا۔ یوں فن نے انسانی مشاہدات، یادداشتوں اور اجتماعی تجربات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مصوری کے فنکار کینوس پر رنگ بکھیر کر وہ کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے بیان کرنے کے لیے بعض اوقات ہزاروں الفاظ بھی ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ مجسمہ ساز پتھر، لکڑی، دھات اور مٹی میں انسانی تخیل کو صورت دیتے ہیں۔ فوٹوگرافر لمحوں کو محفوظ کرکے وقت کے بہاؤ میں ایک ایسی کھڑکی کھول دیتے ہیں جس سے آنے والی نسلیں اپنے ماضی کو دیکھ سکتی ہیں۔ یہ سب فن کی مختلف صورتیں ہیں، لیکن ان کا مقصد انسانی تجربے کو کسی نہ کسی انداز میں محفوظ اور منتقل کرنا ہے۔
……………………………………
موسیقی انسان کے باطن تک رسائی کا ایک منفرد وسیلہ ہے۔ کبھی ایک دھن خوشی کی کیفیت پیدا کرتی ہے، کبھی کسی بچھڑے ہوئے شخص کی یاد تازہ کرتی ہے اور کبھی مشکل حالات میں اُمید کا چراغ روشن کر دیتی ہے۔ گلوکار، سازندے، موسیقار اور نغمہ نگار اپنی محنت سے ان احساسات کو آواز دیتے ہیں جنہیں عام گفتگو میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔
رقص کے فنکار جسمانی حرکات کے ذریعے کہانی، روایت اور جذبے کو زندہ کرتے ہیں۔ اسی طرح تھیٹر اور فلم سے وابستہ اداکار انسانی زندگی کے مختلف کرداروں کو اس مہارت سے پیش کرتے ہیں کہ ناظر اپنے تعصبات، کمزوریوں اور سماجی رویوں پر نظرثانی کرنے لگتا ہے۔ ہدایت کار، اسکرین رائٹر، مکالمہ نگار، تدوین کار، سیٹ ڈیزائنر، کاسٹیوم ڈیزائنر اور پسِ پردہ کام کرنے والے دیگر افراد بھی اس تخلیقی عمل کا لازمی حصہ ہیں۔ کسی فن پارے کی کامیابی اکثر بہت سے ایسے لوگوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہے جن کے نام ناظرین تک نہیں پہنچ پاتے۔
…………………………………………
ادیب، شاعر، افسانہ نگار، ناول نویس، ڈراما نگار اور مترجم بھی فن کی دُنیا کے اہم معمار ہیں۔ ان کا وسیلہ لفظ ہے، لیکن ان کا کام محض الفاظ کو ترتیب دینا نہیں۔ وہ معاشرے کے تضادات، انسانی نفسیات، محبت، محرومی، ناانصافی اور اُمید کو اظہار دیتے ہیں۔ ایک اچھا ادبی فن پارہ قاری کو صرف متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے سوچنے، سوال اٹھانے اور دوسروں کے تجربات کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
……………………………………
ڈیجیٹل آرٹسٹ، گرافک ڈیزائنر، اینیمیٹر، خطاط، فیشن ڈیزائنر اور دیگر جدید تخلیق کار بھی فن کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا حصہ ہیں۔ ٹیکنالوجی نے فن کے اظہار کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن بنیادی سوال آج بھی وہی ہے: تخلیق انسان کے احساس، فکر اور تجربے میں کیا اضافہ کرتی ہے؟
……………………………………
ہمارے معاشرے میں فنکاروں کی تخلیقات سے لطف اندوز ہونا عام ہے، لیکن ان کی محنت اور معاشی مشکلات کو سمجھنا نسبتاً کم دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے تخلیق کار برسوں کی مشق، مسلسل مطالعے اور ذاتی قربانیوں کے بعد اپنے فن میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں مناسب معاوضے، نمائش کے مواقع اور اپنے کام کی پہچان کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
فنکار کی حوصلہ افزائی صرف تعریفی جملوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ان کی کتابیں خریدنا، مقامی نمائشوں میں شرکت کرنا، موسیقی اور تھیٹر کی تقریبات کے ٹکٹ خریدنا، تخلیقات کے حقوق کا احترام کرنا اور نئے فنکاروں کو مناسب مواقع فراہم کرنا عملی حمایت کی صورتیں ہیں۔ بچوں میں تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر یا لکھی ہوئی پہلی نظم کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی کوشش کو سراہنا مستقبل کے کسی فنکار کے لیے اعتماد کی بنیاد بن سکتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں ثقافتی تنوع، علاقائی زبانوں، لوک موسیقی، دست کاری، شاعری اور کہانیوں کی گہری روایت موجود ہے، فنکاروں کی سرپرستی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ سندھی، بلوچی، پنجابی، پشتو، سرائیکی، اردو اور دیگر زبانوں میں تخلیق کرنے والے فنکار ہمارے مشترکہ ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے، تعلیمی مراکز، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیمیں ان کے لیے ایسے مواقع پیدا کریں جہاں فن کو محض مشغلے کے بجائے ایک سنجیدہ تخلیقی اور پیشہ ورانہ سرگرمی کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے۔
……………………………………
عالمی یومِ فنکار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فن کی عظمت صرف عالمی شہرت یافتہ ناموں تک محدود نہیں۔ اس میں وہ گمنام مصور بھی شامل ہے جو اپنے گھر کے ایک گوشے میں رنگوں سے دُنیا آباد کرتا ہے؛ وہ شاعر بھی جو اپنی ڈائری میں زمانے کا دکھ محفوظ کرتا ہے؛ وہ گلوکار بھی جو چھوٹی سی محفل میں سامعین کے دل جیت لیتا ہے؛ وہ اداکار بھی جو ایک کردار کے ذریعے سماجی حقیقت آشکار کرتا ہے؛ اور وہ فوٹوگرافر، دست کار، رقاص، مجسمہ ساز، مصنف اور ڈیجیٹل تخلیق کار بھی جو اپنی صلاحیت سے زندگی میں حسن اور معنی پیدا کرتے ہیں۔
ان تمام فنکاروں کو سلام جو دنیا کو صرف جیسا وہ ہے، ویسا ہی دکھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ یہ امکان بھی پیدا کرتے ہیں کہ اسے کسی اور زاویے سے دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ اِن کی تخلیقات کبھی ہماری مسکراہٹ بن جاتی ہیں، کبھی آنسو، کبھی احتجاج اور کبھی امید۔
فنکار رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا فن وقت کی سرحدوں سے آگے سفر کرتا رہتا ہے۔ شاید یہی تخلیق کا سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اس کا خالق ایک دن دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، لیکن اس کے رنگ، لفظ، دھنیں اور کردار آنے والی نسلوں سے مکالمہ کرتے رہتے ہیں۔ عالمی یومِ فنکار اسی لازوال رشتے کا اعتراف ہے۔اور اس اعتراف کی حقیقی تکمیل تب ہوگی جب ہم فنکاروں کو ان کی زندگی میں بھی وہ احترام، مواقع اور قدر فراہم کریں جن کے وہ مستحق ہیں۔


