اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ ہمیں ملک یا بیرونی دنیا میں ہونے والے واقعات سے نا صرف با خبر رکھتے ہیں، بلکہ ان مخفی و پوشیدہ خبروں کے راز بھی افشا اور منکشف کرتے ہیں، جن کی وجہ سے عوام میں ہیجان، حیرت اور غم کے ایسے جذبات پیدا ہوتے ہیں، جو ہوش اڑا دیتے ہیں یا سکتے کی حالت میں مبتلاء کر دیتے ہیں ۔ کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں ہونے والی وارداتوں اور واقعات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ کسی ایک واقعے کی سنگینی اور رنج کے اثرات ابھی سطح ذہن سے نہیں نکلتے کہ نئی واردات دلوں کو دھچکا پہنچانے کو وارد ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ملک دشمن اور انسانیت دشمن عناصر کی طرف سے جاری دہشت گردی نے پہلے ہی ہماری پولیس، سیکیوریٹی کے اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادتوں پر رنج و غم کی فضا قائم کی ہوئی ہے، جس کا ہمارے سیکیوریٹی کے ادارے نہائت دلیری کے ساتھ نا صرف مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوۓ دشمنوں کو ٹھکانے بھی لگا رہے ہیں۔ الحمد للہ۔
کم و بیش روز مرہ اخبارات میں خبروں کا ایسا مواد ہوتا ہے، جسے پڑھ کراور دیکھ کر ہواس کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جااتا ہے۔ ان خبروں میں ناصرف ہمارے معاشرے کی بےحسی کی عکاسی ہوتی ہے، بلکہ ہر طرف رنج وغم اور دل دہلا دینے والی فضا قائم ہو جاتی پے۔
چند دن پیشتر اسلام آباد میں لائبہ نامی لڑکی کی خود کشی کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی خبر ہر چھوٹے بڑے اخبار میں چھپی۔ کم و بیش ہر ٹی وی چینل نے اس واقعے کی کوریج کی۔ اس خبرکی سنگینی نےاہل فکر احباب کے اعصاب پر کاری ضرب لگائی اور انسانی اقدار کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ جہاں جہاں تک اس خبرکی رسائی ہوئی وہاں وہاں لوگوں نے دکھ درد کے ٹھنڈے سانس بھرے۔ حیرت اورظلم کی سیاہ چادر اوڑھے اس معاشرے نے چہروں پہ افسردگی اور دلوں میں ہمدردی کا ایک طوفان بپا کردیا۔ سوچوں نے سب کو ہلکان کردیا کہ خود کشی کرنے والی اس حرماں نصیب لڑکی نے زندگی کی نا قابل برداشت نا ہمواریوں ، اپنے ارمانں کا خون ہونے، کٹھن مشکلات اور معاشرے کے غیر انسانی رویے سے تنگ آکر، درخت سے لٹک کر خود کشی کرلی۔ یہ غریب ماں باپ کی ہونہار بچی تھی، جس نے اپنی قابلیت اور لیاقت کے بل بوتے پر امتحانوں میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اپنے گھر کے اچھےمستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے باہر جانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اس کے پاس اتنے وسائل و اسباب نہ تھے کہ وہ اپنے تئیں باہر جانے کے لئے درکار وسائل کا بوجھ خود اٹھاتی۔ اس کی والدہ نے بیٹی کی آرزو کی تکمیل کے لئے اپنے زیورات بیچ کر تمام رقم اس کی گود میں ڈال د ی۔ لائبہ نے ایجنٹ کے ذریعے باہر جانے کی منصوبہ بندی کی۔ ایجنٹ نے دھوکے بازی سے لائبہ کی تمام رقم اینٹھ لی اور وہ مزید رقم کا مطالبہ کرتا رہا۔ ایجنٹ نے اس بد قسمت بچی کو جو بیرون ملک تعلیم سے متعلق اور ویزے کے ڈاکومنٹس فراہم کئے وہ سب جعلی نکلے۔ اس پر لائبہ شدید دل برداشتہ ہو گئی۔ اس کی والدہ کا سارا زیور فروخت ہو چکا تھا۔ اس کے اعلیٰ تعلیم کے خواب بکھر چکے تھے۔ وہ اپنا کیریئر بنانے میں ناکام ہو چکی تھی۔ وہ شدت غم سے نڈھال ہو چکی تھی، دھوکے بازی اور ساری رقم ہتھیا لینے کی ظالمانہ واردات نے اسے اس بری طرح صدمے سے دوچار کردیا کہ اس نے عالم بیچارگی میں اپنی جان سے جان چھڑانٔے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس نے درخت سے لٹک کر اپنی جان دے دی۔ ملزم ایجنٹ پکڑا گیا۔ مگر اس لڑکی کی مالی متاع اور قیمتی زندگی لٹ چکی تھی۔ بعد میں خبر آئی کہ ملزم مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ معلوم نہیں خود کشی کرنے والی دوشیزہ کے گھر والوں کو لوٹی گئی رقم واپس مل پائی یا نہیں۔ راقم کی حکومت سے درخواست ہے کہ لائبہ کے گھر والوں کومناسب مالی مدد فراہم کرے۔ اس اقدام سے لائبہ کی زندگی تو واپس نہ آسکے گی، مگر انکے غموں کا کسی حد تک مداوا ہو سکے گا۔
ایک اور خبر ملاحظہ کریں۔ ملتان میں ایک پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو جان بوجھ کر گاڑی کی ٹکر مار کر قتل کر دیا گیا ۔ اس اندوہناک واقعے کی مختصر سی ویڈیو بار بار ٹی وی چینلز پہ دکھائی گئی۔ جسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ گاڑی کے ڈرائیور اور گاڑی میں سوار دوسرے افراد کی اس ظالمانہ دیدہ دلیری دیکھئے کہ انہوں نے بھاگتے ہوۓ وسیم عباس کا تعاقب کرکے اسے گاڑی تلے روند کر قتل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق وسیم عباس (ایک ٹھیکیدار) توقیر نذیر کے پاس الیکٹرک کا کام کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مقتول وسیم عباس وہاں کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ وہاں سے کام چھوڑ کر جارہا تھا کہ ٹھیکے دار توقیر نے گاڑی میں اسکا تعاقب کیا اور جان بچا کر بھاگنے والے وسیم کو گاڑی سے ٹکر مار کر قتل کردیا۔ یہ کس قدر وحشیانہ فعل تھا جو ٹھیکے دار نے انجام دیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا معاشرہ اتنا ظالم اور بے درد کیوں ہو گیا ہے۔ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے اس معاشرے کے دشمن اور انسانیت کے قاتل بن گئے ہیں۔ اللہ کرے اس نوعیت کی وارداتوں کا ارتکاب کرنے والوں اور انکے ساتھیوں کو جلد سخت ترین سزا دی جاۓ کہ ائندہ اس طرح کی واردات کرنے کا کوئی تصور نہ کر سکے۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے شعبہ پیڈیاٹرک میں آگ لگنے اور کافی تعداد میں نو زائیدہ بچوں کی اموات کا جو واقعہ پیش آیا تھا ، وہ بھی لاپرواہی، غیر ذمے دارا نہ طرز عمل، اور بے انتظامی کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے۔ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے کہ خرابیوں اور نقائص کا تدارک اس وقت تک نہیں کیا جاتا جب تک کوئی حادثہ پیش نہ آۓ۔
پشاور میں بھی گزشتہ دنوں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کا دلدوز اور پرسوز واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے میں ایک ٹیچر سمیت تقریبا پینتیس بچے اپنی زندگی گنوا بیٹھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول کی عمارت اور چھت، درکار مضوطی اور معیار کے مطابق نہیں تھی۔ یہاں بھی اسکول سے متعلق مختلف اداروں کی کوتاہیوں اور کسی نہ کسی کےغیر ذمہ دارانہ اطوار کا شاخسانہ تھا۔ کسی نہ کسی کو اس حادثے کی وجوہات کا ذمہ دار ٹہرایا جاۓ گا اور فوت شدگان فوت شدگان اطفال کے والدین کومناسب معاوضہ دیا جاۓ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو ملک بھر میں اسکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، فیکٹریوں اور عوامی مقامات کی عمارتوں کا جائزہ لیں اور سیکیوریٹی کے حفاظتی اقدامات کی تجاویز حکومت کو پیش کرے تاکہ آئندہ کے حادثات سے ممکن حد تک بچا جا سکے۔


