جدید علوم کے بغیر ترقی ممکن نہیں/ ڈاکٹر محمد شافع صابر

میں فاطمہ جناح گرلز ہاسٹل وارث روڈ کے پاس رہتا ہوں۔ اس روڈ پر لاہور شہر کے دو بڑے چرچ ہیں ۔ ایک چرچ ” چرچ آف پاکستان ” کا ہے، جبکہ دوسرا چرچ، عیسائیوں کے سب بڑے فرقہ ” کتھڈرل ” کا ہے، جسکا ہب ویٹی کن سٹی ہے۔ دونوں چرچوں کا اپنا اپنا سکول ہے، کیونکہ یہاں پڑھائی اچھی ہے،تو صبح دوپہر یہاں کافی رش ہوتا ہے۔ ایسے ہی مال روڈ پر موجود چرچ کیساتھ سکول ہے،جہاں ہر زات،رنگ نسل اور مذہب کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ( مزہبی نہیں عصری تعلیم).
مجھے تجسس ہوا، میں نے خود سے تحقیق کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے غور کیا،جتنے بھی شہروں میں،عیسائیوں کے بڑے چرچ ہیں ، انکے ساتھ سکول لازمی بنائے گئے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ْآپ کو ہر بڑے شہر میں ” سینٹ پیٹرز” اور ” سینٹ جوزف”سکولز لازمی ملیں گے ۔ پھر اسی تحقیق کے دوران،سکول کے ایک کرسچیئن دوست کو کال کی، میرے سوال کے جواب میں وہ بولا، عیسائیت میں چرچ کا عصری تعلیم کے بغیر کوئی کنیسپٹ ہی نہیں ،یہ میرے لئے حیران کن تھا۔
میں نے اپنی تحقیق کا دائرہ وسیع کرنے کا سوچا ۔میرے لیے اگلی حیران کن بات یہ تھی،کہ ہماری کسی بھی مسجد کیساتھ کوئی بھی سکول منسلک نہیں تھا،جو کہ عصری تعلیم دیتا ہو۔ ہاں ہر پانچ میں سے دو مساجد کیساتھ دینی مدرسہ تھا،جہاں مزہبی تعلیم دی جاتی ہے، بلوغت سے لیکر درس نظامی تک، کسی بھی مدرسے میں الگ عصری تعلیم کا کوئی وجود نہیں تھا،ہاں کچھ مدارس کے طلبہ بورڈز کے امتحان دیتے ہیں ( انکے لئے یہ لازمی نہیں ہے، زیادہ اہمیت مدارس کے اپنے بورڈز کے امتحانات کی ہے) اور یہ حقیقت ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا جدید عصری تعلیم کے بغیر، آج کے دور میں ترقی ممکن ہے؟ جواب ہے بلکل نہیں ۔ مدارس ہمارے لئے بہت قابل احترام ہیں، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف مزہبی تعلیم سے دیناوی ترقی کا حصول ممکن ہے؟
جب عیسائیوں کے چرچوں کے پادریوں کو یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ مزہبی تعلیم سے ترقی ممکن نہیں،تو انہوں نے عصری تعلیم کو لازمی قرار دے دیا تھا۔ ہمارے علماء کرام اس حقیقت کو آجتک کیوں نہیں سمجھ نہیں سکے؟ ہم نے اپنا اوڑنا بچھونا مذہبی رسومات و تعلیمات کو بنا لیا، نتیجتاً مسلمان innovation اور ترقی سے دور ہوتے چلے گئے ۔
ہمارے علماء کرام مداراس میں جدید علوم کی تعلیم دینا کیوں پسند نہیں کرتے؟ وہ جدت پسندی و ریسرچ کے خلاف کیوں ہیں؟ اس پر باقاعدہ ریسرچ کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کو حرام قرار دینے والے،علماء کرام آج فیسبوک ویوز سے لاکھوں نہیں کڑوروں کما رہے ہیں ۔
وقت کی اشد ترین ضرورت یے کہ مدارس میں جدید علوم کی تعلیم حکومتی سرپرستی میں دی جائے، پچھلی بار جب حکومت نے مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کی کوشش کی تھی،پورے پاکستان سے مولویوں کے جتھوں نے اسلام آباد پر یلغار کر دی تھی اور انہی بیچارے معصوم brainwashed مدارس کے طلبہ کو بطور ڈھال استعمال کیا تھا اور حکومت پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی تھی۔
ایسے ہی ایک اینکر نے ایک طالب علم سے پوچھا کہ آپ کو اسلام آباد میں کیوں آئے؟ اس کا جواب حیران کن تھا کہ ہمارے عالم صاحب نے کہا کہ یہاں آنا ہے اور ہم آ گئے ۔۔ مسئلہ بہت گھمبیر ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور آبادی میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے،والدین نے ان مدارس کو بطور boarding school سمجھ لیا ہے،بچہ پیدا کرو،مدرسے میں پھینک دو، روٹی کپڑا،رہائش و مزہبی تعلیم دینا اب مدرسے کی ذمہ داری ہے۔ اب مدرسے کی انتظامیہ اس بچے کیساتھ جو مرضی کرے، والدین کو اس سے کوئی غرض نہیں،بعد میں یہی طلبہ کو مدارس کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں ۔
جدید عصری علوم کے بنا ترقی ممکن ہی نہیں ۔ ہر شہر کی مرکزی مسجد کے ساتھ سکول بنانا چاہیے تھا،اگر نہیں بن سکا،تو جن مساجد کیساتھ مدارس ہیں،وہ جدید تعلیم دینا سرکار کی زمہ داری ہے،ورنہ آپ ترقی بھول جائیں ۔ کیونکہ پاکستان کے وسائل کم اور آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور مدارس انہی دو وجوہات کو استعمال کر کے exploitation کر رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں