اقبال نے اپنے عہد میں یہ اشعار کس تاریخی اور سیاسی پس منظر میں کہے تھے۔ مجھے نہیں معلوم لیکن میں آج 26 اکتوبر 2026ء بروز پیر تہران میں ہونے والی چار ملکی نشست کے حوالے سے یہ شعر ورد زباں کر رہا ہوں۔
پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّ
کیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائے
دیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائے
طہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینوا
شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
اس وقت میں سرزمین ایران کے شہر قم المقدس خیابان برقعی سے متصل اپنے خوابگاہ میں نصف شب چشمِ تصور کے سامنے تہران کا خدوخال دیکھ رہا ہوں۔
اور اک طرف مختار مسعود کی شہرہ آفاق کتاب”لوح ایام “کے سطور ابھر ابھر کے آنکھوں کے سامنے رقصاں ہیں۔
1978ء میں مختار مسعود چار سال کےلیے آر سی ڈی(علاقائی تعاون برائے ترقی کا جنرل سیکریٹری )مقرر کیا تھا۔اور ان کی تعیناتی تہران میں ہوئی تھی۔
“لوح ایام”صرف چند برسوں کی یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس میں ایرانی تہذیب وثقافت کی تاریخ بھی تہران کی معاشرتی زندگی کے رنگ اور انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی دور کے نشیب و فراز بھی جھلکتے ہیں۔
آج سے چند سال قبل اس کتاب کو بالاستعیاب مطالعے کرنے کا اتفاق ہوا تھا اور آج بھی انکے مشاہدات تہران کو سمجھنے میں ایک اہم ادبی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔
جب بھی تہران کا سفر ہوتا ہے “لوح ایام”کے نقوش آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔
مختار مسعود 78ء کے دہائی میں تہران کو مشرقِ کا جنیوا بنتا دیکھ رہے تھے۔اور آج ہم بھی بنتا دیکھ رہے ہیں۔
تہران کا شہر ہے۔ چار اسلامی ممالک کے اعلی حکام اک دوسرے کے روبرو ہیں۔ مشرقِ وسطی کی حالیہ صورتِ حال پر فکر مند ۔ایرانی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹیری بریگیڈیر جنرل محسن رضائی میزبانی کے نشست پر براجمان ہیں۔پاکستان کی نمائندگی میں ملک عزیز کی فوج کے سرابرہ،سپہ سالار سید عاصم منیر انکی تجویز اور ایرانی حکام کی تعاون سے ہی یہ نشست ممکن ہوئی۔
سعودی عربیہ سے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترکیہ سے ترکی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالین تھے۔
اس اجلاس کے اہم اہداف میں سے پہلا ہدف محسن رضائی کی خدمت میں تبریک پیش کرنا ،اور دوسرا ہدف مشرق وسطی کی امنیت اور مشترکہ مفادات کی تحفظ کے حوالے سے باہمی تعاون کو بڑھانا ،یمن اور سعودیہ عربیہ کی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
علاقائی سلامتی،فلسطین و لبنان کی صورتِ حال اور خطے کے اہم مسائل اس مشاورت کے بنیادی موضوعات تھے۔
ایرانی اعلی حکام کا زور اس بات پر ہے کہ مشرقِ وسطی کی امنیت اسی منطقے والے کریں نہ کہ بیرونی مداخلت سے۔
کسی اور کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے منطقے کی امنیت اورمفادات کے تحفظ کی ضمانت دے۔ہمارا فیصلہ ہم خود کریں گے۔یہی مسلمانوں کی غیرت و حمیتِ دینی کا تقاضا بھی ہے۔شرعی فریضہ بھی۔
کوہ دماوند اور البرز کے دامن میں بسے اس تاریخی شہر میں آج سے تقریبا 50سال قبل انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی ایام میں اس وقت کے عبوری وزیر اعظم مہدی بازرگان نے اسلامی ممالک کے سفراء کےلیے ایک دعوتِ افطار رکھی۔
اس دعوتِ افطار کا انتظام وزارتِ خارجہ کے کلب میں کیا گیا۔
مختارسعود لکھتے ہیں:
“کل تک اس کلب کی شہرت مے نوشی،خوش باشی،ناچ ،گانے،تیراکی و بے باکی کی وجہ سے تھی۔اب اس کی قسمت ایسی پلٹی ہے کہ آج یہاں سفیروں کی روزہ کشائی ہوگی۔”
آج اسی شہر میں مشرقِ وسطی کی امنیت کے فیصلے ہوں گے۔آج اسی شہر مِیں مسلمِ امہ کے اعلی عہدہ داران سرجوڑ کر بیٹھیں گے تاکہ مشرقِ وسطی کی امنیت ،مشترکہ مفادات کی تحفظ ہو اور عالم ِ کفرو نفاق کی سازشیں ناکام و نامراد ہو۔
مختار مسعود آگے لکھتے ہیں ؛کہ جب نماز مغرب کی اذان ہوئی تو مہدی بازرگان نے بے ریش ہاشمی رفسنجانی سے کہا نماز پڑھائیے ۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ کام وزیر اعظم کرتا ہے ۔وہ قوم کا امام ہے۔
بازرگان یہ سنتے ہی مصلی پر کھڑے ہوگئے۔
آگے لکھتے ہیں:
“جس شخص نے یہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں وہ چھوٹے قد اور ہلکے جسم کا آدمی ہے۔عمر رسیدہ ،بے داغ کردار ڈاکٹر مصدق کا ساتھی ،آبادان ریفائنری کو قومی ملکیت میں لینے والے ادارہ کا سربراہ ،انجینیر ،مفسر قرآن انقلابی،اسلامی انقلاب کے بعد ایران کا پہلا وزیر اعظم ۔اس نے عبا پہنی اور اس کے بعد وہ صرف نماز مغرب کا امام ہے اور کچظ نہیں۔
میں دائیں بائیں نمازیوں پر نظر ڈالی۔پہلی صف میں نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر تمام اسلامی ممالک کے سفیر یا نائب سفیر کھڑے ہیں۔سفارتی نمائندے عالم اسلام کی وحدت اور اتحاد کا اک ایسا منظر پیش کر رہے ہیں جس کا ہم صرف خواب دیکھتے ہیں۔یہ منظر صرف تین رکعات تک برقرار رہے گا اور اس کے بعد عالم اسلام حسبِ معمول انتشار کا شکار ہوجاے گا۔”
جس طرح مختار مسعود آج سے 50برس قبل آہیں بھر رہے تھے کہ یہ وحدت کا منظر تین رکعات تک برقرار رہے گا پھر حسبِ معمول انتشار کا شکار ہوجاے گا۔
آج میں بھی آہیں بھر رہا ہوں اور “کاش” کے الفاظ دہرا رہا ہوں۔
کہ یہ چار ملکی اسلامی اعلی حکام کا اجلاس اور وحدت کا منظر بھی شاید کچھ دن کےلیے برقرار رہے پھر حسب معمول انتشار کا شکار ہوجاے گا۔
یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا محض ایک میز پر بیٹھ جانا مشترکہ سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے؟ کیا چند گھنٹوں کی مشاورت برسوں کی بداعتمادی کو ختم کر سکتی ہے؟ اور کیا علاقائی تعاون کے اعلانات کو مستقل سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
ان سوالات کا جواب اجلاس کی تصویروں، مشترکہ بیانات یا خوش آئند سفارتی الفاظ میں نہیں، بلکہ آنے والے دنوں کے عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔


