پاکستان کی تاریخ میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ وعدے، نعرے اور چہرے تو بدلتے رہے، لیکن عام آدمی کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ ہر آنے والی حکومت سابقہ حکمرانوں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور ہر جانے والی حکومت اپنے دور کو سنہری زمانہ ثابت کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اس سیاسی کشمکش میں ملک کا وقت، وسائل اور عوام کی امیدیں مسلسل ضائع ہو رہی ہیں۔ہمارے سیاسی کلچر کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ قومی منصوبوں کو بھی جماعتی ملکیت سمجھ لیا گیا ہے۔ حکومت تبدیل ہوتے ہی سابقہ دور کے منصوبوں پر نظرِ ثانی کے نام پر ان کی رفتار روک دی جاتی ہے۔ بعض منصوبے ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں اور بعض کو نئے نام اور نئی تختیوں کے ساتھ دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ قومی خزانے سے شروع ہونے والا منصوبہ کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہوتا۔ ایک ذمہ دار حکومت کو اپنے مخالف کے اچھے کام کی تکمیل میں بھی اپنی کامیابی نظر آنی چاہیے۔ عوام کو منصوبے کا فائدہ چاہیے، افتتاحی تختی پر لکھا ہوا نام نہیں۔ سیاسی مخالفت اگر قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے تو اسے جمہوری اختلاف نہیں بلکہ عوامی مفاد سے بے وفائی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ترقی کا تصور بھی ہمارے ہاں خاصا محدود کر دیا گیا ہے۔ چند سڑکیں، پل اور عمارتیں تعمیر کرکے ترقی کے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن ان بنیادی سوالات پر کم توجہ دی جاتی ہے کہ صنعت کتنی بڑھی، زراعت کتنی مضبوط ہوئی، برآمدات میں کیا اضافہ ہوا اور نوجوانوں کے لیے کتنے مستقل روزگار پیدا ہوئے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، پیداوار میں اضافہ ہو اور شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی ترجیحات میں طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کے بجائے فوری تشہیر کو زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔اس کا نتیجہ بڑھتے ہوئے قرضوں اور کمزور معیشت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ قرض لے کر سابقہ قرض ادا کرنا اور مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنا کوئی پائیدار معاشی حکمت عملی نہیں۔ اس کا بوجھ بالآخر عام شہری کی جیب پر پڑتا ہے۔ مہنگائی صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں بلکہ غریب خاندان کے بچوں کی تعلیم، بہتر خوراک اور علاج کی سہولتوں میں کٹوتی کا نام بھی ہے۔ ریاست کو آمدنی بڑھانے کے لیے ایسے شعبوں تک پہنچنا ہوگا جہاں ٹیکس کی ادائیگی سے گریز کیا جاتا ہے، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کم کرنا ہوگا اور پیداواری معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ہر مالی بحران کا حل غریب کی جیب میں تلاش کرنا حکمرانی نہیں، آسان راستہ اختیار کرنے کی عادت ہے۔
اس معاشی بدحالی کے مقابلے میں حکمران طبقے کی مراعات اور شاہانہ اخراجات ایک تلخ تضاد پیش کرتے ہیں۔ عوام کو بچت کی تلقین کی جاتی ہے، بجلی اور ایندھن کے استعمال میں احتیاط کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری وفود اور آسائشوں میں کمی کی سنجیدہ مثالیں کم دکھائی دیتی ہیں۔ مقروض ملک کے حکمرانوں کا طرزِ زندگی بھی قومی حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔ سرکاری عہدہ کسی کو عوام کے پیسے پر شاہانہ زندگی گزارنے کا حق نہیں دیتا۔ بیرونی دوروں پر بھی اسی اصول کے تحت سوال ہونا چاہیے۔ سفارتی روابط ضروری ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا اندازہ تصویروں اور ملاقاتوں سے نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت اور عملی معاہدوں سے ہونا چاہیے۔ اگر بھاری اخراجات کے باوجود ملک کو کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو عوام کو ان دوروں کی افادیت جاننے کا پورا حق ہے۔حکومت کی ناکامیوں کے ساتھ حزبِ اختلاف کی کارکردگی بھی احتساب کی مستحق ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار صرف حکومت کو گرانے یا اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد تک محدود نہیں ہوتا۔ اسے عوامی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ان کے حل کا متبادل منصوبہ بھی پیش کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں عوام کی معاشی بدحالی کو اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کا ذریعہ تو بناتی ہیں، لیکن اقتدار کے حصول کے لیے پیش کیے جانے والے دعووں کو عملی شکل دینے کی باری آئے تو ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ حکومت کی مخالفت کرنا آسان ہے، بہتر حکومت کا نمونہ پیش کرنا مشکل۔ جو جماعت اپنے دورِ اقتدار کے لیے قابلِ عمل منصوبہ نہیں رکھتی، وہ عوام سے اعتماد کا مطالبہ کیسے کر سکتی ہے؟
حکومت اور اپوزیشن کی اس کشمکش میں پارلیمان بھی اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حالانکہ تعلیم، صحت، توانائی، پانی، زراعت اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں کے مسائل کسی ایک حکومت کی مدت تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کے حل کے لیے ایسی مستقل پالیسیاں درکار ہیں جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہوں۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی مفاد کو سیاسی انا کی بھینٹ چڑھانا جمہوریت کی خدمت نہیں۔اس صورت حال میں عوام بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ہم انتخاب کے وقت امیدوار کی اہلیت اور کارکردگی کے بجائے اکثر اس کی جماعت، شخصیت، برادری یا سیاسی وابستگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطی کا دفاع اور مخالف کی ہر بات کی مخالفت ہمارا معمول بن چکا ہے۔ اس رویے نے سیاسی جماعتوں کو جواب دہی سے بڑی حد تک آزاد کر دیا ہے۔ جب ووٹر سوال کرنے کے بجائے وکالت شروع کر دے تو نمائندے خود کو عوام کے سامنے جواب دہ کیوں سمجھیں گے؟ ووٹ محض کسی جماعت سے محبت کا اظہار نہیں بلکہ ایک سیاسی معاہدہ ہے، جس میں منتخب نمائندے کو اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ صرف حکمرانوں کے چہرے بدلنے سے ملک کے حالات نہیں بدلتے۔ جب تک ادارے شخصیات کے تابع، قانون طاقت ور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت، احتساب سیاسی وابستگی سے مشروط اور قومی وسائل مخصوص طبقوں کے مفادات کے تابع رہیں گے، تبدیلی محض انتخابی نعرہ رہے گی۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں سرکاری عہدہ ذاتی اختیار نہیں بلکہ عوامی امانت ہو، قومی منصوبے سیاسی انتقام کا شکار نہ ہوں اور ہر شخص کو قانون کے سامنے یکساں جواب دہ ہونا پڑے۔پاکستان کو اب مزید سیاسی تجربات اور خوش نما وعدوں کے بجائے سنجیدہ قیادت، مضبوط اداروں اور مستقل قومی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی شخصیت پرستی سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ اقتدار حاصل کرنا کامیابی نہیں، عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا اصل کامیابی ہے۔ آخر کب تک ایک حکومت دوسری کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی اور عوام ہر نئی حکومت سے وہی پرانے وعدے سنتے رہیں گے؟ قوموں کی تقدیر صرف حکمرانوں کے بدلنے سے نہیں بدلتی، اس وقت بدلتی ہے جب حکمرانی کا معیار اور عوام کے سوچنے کا انداز دونوں تبدیل ہوں۔


