زمانہ جدید کا بچہ مطالعہ سے دور کیوں؟؟/سائرہ رباب

ممتاز امریکی جریدے The Atlantic میں شائع ہونے والے اپنے مضمون
“Why Kids Aren’t Falling in Love With Reading”
میں امریکی ناول نگار اور بچوں کے لیے کتابیں لکھنے والی کیتھرین مارش (Katherine Marsh) ایک بہت اہم سوال اٹھاتی ہیں: آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری نسل کے لیے کتابیں پڑھنا ایک شوق، خوشی اور دلچسپی کا ذریعہ تھا، لیکن آج کے بچوں کی بڑی تعداد کتابوں سے وہ جذباتی تعلق قائم نہیں کر پا رہی؟
مارش کے نزدیک اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے پڑھنے کو ایک فن اور تخلیقی تجربے کے بجائے محض ایک تعلیمی مشق بنا دیا ہے۔ حالانکہ مطالعہ بھی آرٹ کی دوسری صورتوں کی طرح بنیادی طور پر انسانی احساسات سے جڑنے کا ذریعہ ہے۔ آرٹ کا مقصد صرف معلومات دینا یا کسی چیز کا تجزیہ کرنا نہیں ہوتا، بلکہ دل کو چھونا، انسانی سطح پر ایک دوسرے سے جوڑنا، احساسات منتقل کرنا اور لطف و مسرت پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھی کہانی ہمیں اپنے کرداروں کے ساتھ ہنساتی، رلاتی، حیران کرتی اور ان کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ یہی پڑھنے کا اصل لطف اور جادو ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ جب والدین کو بتاتی ہیں کہ وہ پانچویں سے آٹھویں جماعت کے بچوں کے لیے ناول لکھتی ہیں تو اکثر والدین ایک معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ کتابیں نہیں پڑھتا، کم از کم اس طرح تو بالکل نہیں جس طرح ہم اپنے بچپن میں پڑھا کرتے تھے۔ مارش کہتی ہیں کہ ان کے اپنے نوعمر بچے بھی اب اس طرح نہیں پڑھتے جس طرح وہ خود پڑھا کرتی تھیں۔
وہ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ ہر طرح کی کتابیں شوق سے پڑھتی تھیں, کبھی پراسرار کہانیاں، کبھی مہم جوئی کے ناول اور کبھی بڑے ادیبوں کے طویل ناول۔ ہر بچہ لازماً ایسا قاری نہیں ہوتا، لیکن ان کے مشاہدے میں ایک واضح تبدیلی آئی ہے…اب بچوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے جو اپنی خوشی کے لیے مختلف موضوعات پر بہت زیادہ اور مسلسل مطالعہ کرتے ہیں۔
یہ تبدیلی کب شروع ہوئی؟
مارش ایک اہم سروے کا حوالہ دیتی ہیں جو امریکی ادارے
National Assessment of Educational Progress
نے وبا سے پہلے کیا تھا۔ اس کے مطابق 1984ء سے لے کر سروے کے وقت تک 9 اور 13 سال کے ان بچوں کی شرح میں دوہرے ہندسوں کی کمی آ چکی تھی جو روزانہ اپنی خوشی کے لیے پڑھتے تھے۔ یعنی بچوں میں شوقیہ مطالعے کی کمی کورونا وبا یا موبائل فون آنے کے بعد اچانک پیدا نہیں ہوئی تھی…یہ رجحان کئی دہائیوں سے جاری تھا۔
مصنفہ اس کمی کی ممکنہ وجوہات میں موبائل فون اور اسکرینوں کی کشش اور کورونا کے دوران تعلیم کا متاثر ہونا بھی شامل کرتی ہیں، لیکن ان کے نزدیک کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔. انکے نزدیک تعلیمی نظام میں تبدیلی اسکی سب سے بڑی وجہ ہے۔ وہ تعلیمی نظام کے اس انداز پر سوال اٹھاتی ہیں جس نے بچوں کے کتابوں سے تعلق کو ہی بدل دیا ہے۔
1۔ پہلے کہانی سے محبت، پھر تجزیہ
مارش کہتی ہیں کہ انہیں اپنے بچپن میں کتابیں پڑھنے سے جو چیز سب سے زیادہ یاد ہے، وہ کہانیوں اور کرداروں سے محبت تھی۔ وہ جوڈی بلوم اور بیورلی کلیری جیسے مصنفین کے کرداروں کے ساتھ جذباتی طور پر جڑ جاتی تھیں۔ ان کے اسکول میں بھی پڑھنے کی صلاحیت اور سمجھ بوجھ جانچنے کے امتحانات ہوتے تھے، لیکن اصل زور زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنے اور ان کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا کرنے پر تھا۔ اسکول میں زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔۔
لیکن آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اب بچوں کو کہانی پڑھاتے ہوئے زیادہ توجہ اس کے تجزیے، الفاظ کے معنی، جملوں کی ساخت اور ادبی نکات پر دی جاتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق تنقیدی مطالعہ یقیناً ضروری ہے، خاص طور پر اس دور میں جب بچے انٹرنیٹ پر بہت سی غلط اور گمراہ کن معلومات سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تجزیہ ہی پڑھنے کا بنیادی مقصد بن جائے اور کہانی سے لطف اٹھانے کی گنجائش ختم ہو جائے۔
2۔ کہانی کو سمجھنے کا طریقہ بھی کہانی ہی ہونی چاہیے
مارش تیسری جماعت کی انگریزی کی ایک تعلیمی مثال دیتی ہیں، جس میں بچوں کو لفظ کے حقیقی (literal) اور مجازی (non literal)معنی کا فرق سمجھانا مطلوب ہے۔
وہ مشہور بچوں کی کتاب Amelia Bedelia کی مثال دیتی ہیں۔ اس کہانی میں ایک ملازمہ کو کہا جاتا ہے کہ دھوپ آنے پر پردے کھینچ دو، لیکن وہ اس جملے کو لفظی معنی میں لے کر پردوں کی تصویر بنانے لگتی ہے۔ اس طرح بچے خود ہنستے ہنستے سمجھ جاتے ہیں کہ بعض جملوں کا مطلب لفظی نہیں بلکہ مجازی ہوتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ محاوروں ، استعاروں، تشبیہات اور علامتوں کی زبان خود ہی سمجھنے لگتے ہیں۔
لیکن اساتذہ کے لیے تیار کیے گئے ایک نصابی طریقے میں پہلے بچوں کو لفظی اور مجازی زبان کی تعریفیں پڑھائی جاتی ہیں، پھر پوری کہانی کے بجائے صرف ایک پیراگراف پڑھا کر تحریری سوالات حل کروائے جاتے ہیں۔
مصنفہ کہتی ہیں کہ آٹھ سال کے بچے کو کوئی مشکل اور تجریدی تصور سمجھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے پہلے ایک دلچسپ کہانی میں لے جایا جائے۔ جب وہ کرداروں سے واقف ہو، ان کی حرکتوں پر ہنسے اور ان کے مسائل میں دلچسپی لے تو وہ زبان کے مشکل تصورات بھی آسانی سے سمجھنے لگتا ہے۔
3۔ امتحانات اور تعلیمی پالیسیوں کا بڑھتا ہوا دباؤ
مصنفہ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ 2001ء میں امریکہ میں متعارف ہونے والی تعلیمی پالیسی No Child Left Behind اور اس کے بعد معیارات پر مبنی امتحانی نظام کو قرار دیتی ہیں۔
اس نظام کے تحت اساتذہ پر بچوں کی کارکردگی، نتائج اور مقررہ تعلیمی معیار پورے کرنے کا دباؤ اتنا زیادہ بڑھا دیا گیا کہ مطالعہ، ریڈنگ جیسی سرگرمیوں کی گنجائش ہی نہ رہی۔ نتیجتاً تدریس کا مقصد بچوں میں علم اور دلچسپی پیدا کرنے کے بجائے انہیں امتحانات کے لیے تیار کرنا بنتا چلا گیا۔
ایک تجربہ کار استاد اور لائبریرین جینیفر لاگارڈ کے مطابق اب بچوں کی ایک پوری نسل کتاب پڑھنے کو امتحان اور جانچ پڑتال کے ساتھ جوڑ کر دیکھتی ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ پہلے جب کلاس میں استاد بچوں کو باقاعدہ کہانی پڑھ کر سناتے تھے تو بچے اس کہانی سے متاثر ہو کر اسی طرح کی مزید کتابیں مانگتے تھے۔ لیکن اب نصاب کے تمام مقررہ معیارات اور امتحانات کی تیاری کے دباؤ میں کلاس میں کہانی پڑھ کر سنانے جیسی سرگرمیاں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔
4۔ کہانی ادھوری چھوڑ دینا بھی مطالعے کا لطف ختم کرتا ہے
مارش کہتی ہیں کہ مڈل اسکول تک پہنچتے پہنچتے بچوں کو پوری کتاب پڑھنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے اقتباسات کا تجزیہ کروانے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
وہ ایک مثال دیتی ہیں کہ ایک استاد نے بچوں کو مشہور ناول To Kill a Mockingbird پڑھانے کا فیصلہ کیا اور بتایا کہ اسے کئی مہینوں میں پڑھا جائے گا، لیکن ممکن ہے کہ کلاس اسے مکمل نہ کر سکے۔
مصنفہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اگر بچوں کو ناول کا اختتام ہی نہ پڑھایا جائے تو وہ اس کے اصل لطف سے کیسے واقف ہوں گے؟
کہانی کا سب سے بڑا انعام اکثر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ کرداروں کے ساتھ سفر کرنے کے بعد جب کوئی معمہ حل ہوتا ہے، کوئی مشکل اپنے انجام کو پہنچتی ہے یا کسی کردار کی قربانی اور جدوجہد کا نتیجہ سامنے آتا ہے تو قاری ایک جذباتی تسکین محسوس کرتا ہے۔ اگر بچے کو یہ تجربہ ہی نہ ملے تو وہ کہانی پڑھنے کے ایک اہم ترین لطف سے محروم رہ جاتا ہے۔
5۔ کتابوں کو صرف مشکل اور آسان یا سنجیدہ اور تفریحی خانوں میں بانٹ دینا
مارش کے مطابق بچوں کے ادب میں پہلے بھی ایک فرق موجود تھا۔ کچھ کتابیں زیادہ سنجیدہ اور ادبی سمجھی جاتی تھیں، جبکہ کچھ کو صرف تفریح کے لیے پڑھا جاتا تھا۔ وہ The Giver اور Goosebumps جیسی کتابوں کی مثال دیتی ہیں۔
لیکن اب یہ فرق مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کو یہ تاثر مل رہا ہے کہ کچھ کتابیں سیکھنے اور امتحان کے لیے ہیں، جبکہ کچھ صرف وقت گزارنے کے لیے۔
ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے لکھنے والے ایک مصنف نے سوشل میڈیا پر پوچھا کہ بچوں کی ان کتابوں کو کیا کہا جائے جو صرف تفریح کے لیے لکھی جاتی ہیں؟ ایک ریٹائرڈ استاد نے جواب دیا کہ میں نے تو کبھی کسی کتاب کو محض تفریحی کتاب نہیں کہا، میرے نزدیک ہر اچھی کتاب دلچسپ، مزاح سے بھرپور یا جذبات کو چھونے والی ہوتی ہے۔
یعنی کتاب سے لطف اٹھانا کوئی کم تر مقصد نہیں۔ ہنسی، تجسس، محبت، دکھ اور انسانی احساسات و تجربات بھی ادب کا حصہ ہیں۔
6۔ بچوں میں طویل مطالعے کی صلاحیت بھی کم ہو رہی ہے
مصنفہ بتاتی ہیں کہ آج بہت سے بچے Diary of a Wimpy Kid جیسی مختصر اور دلچسپ سیریز تو پڑھ لیتے ہیں، لیکن اس کے بعد نسبتاً طویل اور پیچیدہ کتابوں کی طرف ان کی دلچسپی نہیں بڑھتی۔
اساتذہ، والدین اور لائبریرین بھی محسوس کر رہے ہیں کہ کورونا وبا کے دوران تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کے بعد بچوں میں مسلسل اور طویل وقت تک پڑھنے کی صلاحیت، یعنی ریڈنگ سٹیمنا، متاثر ہوا ہے۔
اب بچوں کے لیے مختصر کتابوں کا مطالبہ بھی بڑھ رہا ہے۔ مصنفہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم نے بچوں کو پوری کہانی کے بجائے ہمیشہ چند سطروں اور چھوٹے چھوٹے پیراگراف میں پڑھنے کا عادی بنا دیا ہے؟
7۔ مسئلے کا حل صرف چھوٹی کتابیں لکھنا نہیں، تعلیمی نظام بدلنا ہے
مارش خود بچوں کے لیے نسبتاً مختصر اور آسان کہانیاں لکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں تاکہ موجودہ بچوں کی دلچسپی برقرار رکھی جا سکے۔ لیکن وہ واضح کرتی ہیں کہ مسئلے کی جڑ کتابوں کا طویل یا مختصر ہونا نہیں بلکہ ہمارا پورا تعلیمی نظام ہے۔
ان کے مطابق اساتذہ کو یہ آزادی ملنی چاہیے کہ وہ بچوں کی عمر، ذہنی نشوونما اور دلچسپی کے مطابق کتابیں منتخب کریں۔ آج بچوں کے ادب میں مختلف ثقافتوں، پس منظر اور تجربات سے تعلق رکھنے والے کرداروں کی بھی بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ ان کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں کو اپنی زندگی اور دنیا کی عکاسی نظر آ سکتی ہے۔۔ جتنا ایک کہانی اسکی دنیا اور زندگی کی عکاس ہو گی ، جڑت اور تاثیر اتنی زیادہ ہو گی۔۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ بچوں کو زیادہ کتابیں پڑھنے کے مواقع ملنے چاہییں۔ انہیں صرف چند اقتباسات کا تجزیہ کروانے کے بجائے کتابوں کے ساتھ ویسا ہی تعلق قائم کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جیسا وہ ویڈیو گیمز، ٹی وی سیریز اور اپنی پسندیدہ کہانیوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔
8۔ پڑھنا دراصل ایک جذباتی اور تخلیقی سفر ہے
مضمون کے آخر میں مارش اپنی پوری بات کو ایک خوبصورت خیال میں سمیٹ دیتی ہیں۔
ان کے مطابق بچے کو کہانی کے سفر پر نکلنے کا موقع ملنا چاہیے جہاں اسکی اپنی ذات کہیں گم ہو جاتی ہے۔۔ وہ کسی کردار سے جذباتی تعلق قائم کرے، اس کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوچے، یہ جاننے کے لیے بے تاب ہو کہ آگے کیا ہونے والا ہے، اور پھر خود کتاب پڑھ کر اس کا جواب تلاش کرے۔
یہی وہ جادو ہے جو مطالعہ انسان پر کرتا ہے۔
اگر ہم بچے کو کہانی کا لطف محسوس کرنے سے پہلے ہی اس کے تمام حصوں کو کھول کر سمجھانے، اس کا تجزیہ کرنے اور ادبی تکنیکیں سکھانے لگیں تو ممکن ہے کہ ہم اس جادو کو ہی ختم کر دیں۔
برصغیر کے تناظر میں اس مضمون کی اہمیت
اس مضمون کو پڑھتے ہوئے مجھے برصغیر کے اپنے بچپن کی بہت سی کتابیں اور کہانیاں یاد آتی ہیں۔ پنچ تنتر، اکبر اور بیربل کے قصے، پریم چند کی کہانیاں، عصمت چغتائی، کرشن چندر اور اشفاق احمد کی تحریریں، الف لیلہ، ٹارزن اور عمرو عیار کے قصے، عمران سیریز کے ایڈونچر ۔۔۔ ان کہانیوں میں بچے صرف الفاظ نہیں پڑھتے تھے بلکہ مختلف کرداروں، معاشرتی رویوں، انسانی رشتوں، خوف، محبت، ہمدردی، تجسس اور تخیل کی دنیا میں داخل ہوتے تھے۔
مثلاً جب ہم نے ہیر رانجھا، سسی پنوں یا عمر ماروی کی کہانیاں پڑھیں تو صرف کرداروں کے نام اور واقعات یاد نہیں کیے تھے۔ ہم نے محبت، جدائی، وفاداری، طبقاتی فرق اور انسانی جذبات کو بھی کسی نہ کسی صورت محسوس کیا تھا۔ اسی طرح پنچ تنتر کی کہانیاں ہمیں انسانی رویوں اور زندگی کی پیچیدگیوں سے واقف کرواتی تھیں۔
یہی فرق ہے معلومات حاصل کرنے اور کسی تجربے سے گزرنے میں۔ ایک بچہ جب کہانی پڑھتا ہے تو وہ صرف زبان نہیں سیکھ رہا ہوتا، وہ دوسروں کی زندگیوں کو محسوس کرنا، مختلف زاویوں سے سوچنا اور اپنے تخیل سے نئی دنیا آباد کرنا بھی سیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہاں تو بچے پر سب سے بڑا ظلم یہ بھی ہوا کہ اسکی زبان اور ادب سے ہی محروم کر دیا گیا اور دوسری زبان اور دنیا اس پر مسلط کر دئے گئے جسکی وجہ سے وہ relate ہی نہیں کر پایا اور بتدریج اسکا امیجینیشن ہی بنجر ہوتا چلا گیا۔۔
یہاں ایک اور بات اہم ہے کہ ہر بچے کی دلچسپی اور پڑھنے کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کو مزاح پسند ہے، کسی کو مہم جوئی، کسی کو تاریخی واقعات اور کسی کو شاعری۔ تعلیمی نظام کا کام ان مختلف دلچسپیوں کو جگہ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ سب بچوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ۔۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بچہ ایک پیراگراف سے کتنے ادبی نکات تلاش کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے اندر اگلی کہانی پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی ہے؟
کیونکہ تجزیہ کرنا، تنقیدی سوچ پیدا کرنا اور زبان کے اصول سمجھنا سب ضروری ہیں، لیکن یہ سب کچھ کہانی سے جڑنے اور محبت پیدا کرنے کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے بچے کو کتاب کی دنیا میں داخل ہونے دیجیے، اسے کرداروں کے ساتھ ہنسنے، رونے، سوال کرنے اور حیران ہونے دیجیے۔ پھر وہ خود بھی جاننا چاہے گا کہ ایک اچھی کہانی لکھی کیسے جاتی ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف اچھے جواب دینے والے بچے پیدا کرنا نہیں، بلکہ سوچنے، محسوس کرنے، سوال کرنے اور اپنے طور پر دنیا کو سمجھنے والے انسان پیدا کرنا بھی ہے۔ See less

اپنا تبصرہ لکھیں