لاہور ایک ایسا شہر جس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ صدیوں پر محیط ہے،تاریخی روایات کے مطابق لاہور کی بنیاد راجا رام چندر کے بیٹے راجا لوہ نے رکھی تھی۔ تاریخی کتب میں اس کا ذکر امیر خسرو کے ہاں بھی ملتا ہے اور ۹۸۲ء میں لکھی گئی کتاب ’’حدود العالم‘‘میں بھی ۔۱۰۲۲ء میں محمود غزنوی نے لاہور کو فتح کیا اور اپنے غلام ملک ایاز کو یہاں کا گورنر بنایا جنھوں نے اس شہر میں پہلا پختہ قلعہ بنایا،بعد ازاں یہاں خاندانِ غلاماں،خلجی،تغلق،سید اور لودھی خاندان نے حکومت کی۔۱۵۲۶ء میں ظہیر الدین بابر کے بعد مغلوں کا دور آیا،اکبر،جہانگیر،شاہ جہاںاور اورنگ زیب نے اسے اپنا ذیلی دار الحکومت بنایا۔شاہی قلعہ،شالامار باغ (۱۶۴۱ئ)اور بادشاہی مسجد(۱۶۷۳ئ) اسی دور کی یادگاریں ہیں،اس زمانے کو ہندوستان کا سب سے سنہرا دور بھی کہاجاتا ہے۔اٹھارہویں صدی کے آخر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا،۱۸۴۹ء میں برطانوی راج قائم ہوا جس نے یہاں جدید تعلیمی ادارے اور ریلوے اسٹیشن سمیت کئی اہم عمارات تعمیر کیں۔برطانوی سامراج کے زیرسایہ ہندوستان نے اگرچہ کچھ نہ کچھ ترقی بھی کی مگر مجموعی طور پر نوآبادیاتی عہد وسائل کی چوری،صنعتوں کی تباہی،معاشی و سماجی استحصال،سیاسی اور فوجی قتل عام،ثقافتی و تعلیمی یلغار سے عبارت ہے،اس عہد میں کئی خوفناک وا ندوہ ناک واقعات رونما ہوئے،ایسے واقعات جنھیں آج بھی یاد کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، بالخصوص بعد از غدر، ہندوستان میں جو خوں ریزی ہوئی،اس بنیاد پر نوآبادیاتی عہد میں ہونے والی ترقی بھی پس پشت چلی گئی۔غزنوی عہد ہو یا پھر مغلیہ دور اور برطانوی سامراج،لاہور ہر دور میں مرکز نگاہ رہا،جو بھی حکمران ہندوستان کا رخ کرتا،اس کی نگاہ دہلی اور لاہور پر ہوتی لہٰذا اس شہر باکمال کو ہر دور میں پذیرائی اور توجہ ملی،یہی وجہ ہے کہ تہذیبی و ثقافتی طور پر اس شہر کو نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے حاشیے میں رکھا جا سکتا ہے۔
۱۸۸۲ء میں لکھی گئی کتاب ’’تاریخ لاہور‘‘میں اس شہر کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا،اس کتاب کے مصنف کنہا لال ہیں۔انھوں نے اس کتاب میں لاہور کی عمارتوں،دروزاوں اورتاریخی مقامات پر بھی بات اور لاہور پر گزرنے والے تیرہ (۱۳)صدمات(مختلف عہد میں ہونے والی لاہور پربیرونی یلغاریں) کا بھی ذکر کیا ہے،اس کتاب میں سکھوں کی جانب سے لاہور پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی بڑی تفصیل سے ذکر ہوئے ہیں۔بیرونی حملہ آوروںکی چیردستیوں کے باوجود لاہور نے بڑے حوصلے سے اپنا سیاسی،سماجی اور تہذیبی سفر جاری رکھا،۱۵۲۴ء سے ۱۷۲۵ء تک ،مغلیہ سلطنت نے اس شہر کی تہذیب و ثقافت پر جو اثرات مرتب کیے،وہ آج بھی دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔مغلیہ سلطنت میں لاہور بارہ دروازوں کے حصار کے اندر موجود تھا مگر اب اس نے اتنے پائوں پسار لیے ہیں کہ بقول پطرس بخاری’’لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے‘‘۔اندرون شہر میں جگہ تنگ ہونے کے باعث ۱۹۲۰ء میں پہلی مرتبہ بارہ دروازوں کے باہر بستیاں بسانے پر سنجیدگی سے غور ہونے لگا اور یوں لاہور کی آبادی باہر منتقل ہونا شروع ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد لاہور کو ایک بڑی علمی و ادبی روایت منتقل ہوئی،یہ روایت اب کتنی مستحکم ہے،اس پر بات ہونی چاہیے بلکہ ادبی حلقوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔تقسیم سے قبل اکا دکا ادبی تنظیمیں تھی مگر علم و ادب ترویج اور تہذیب و ثقافت کی اشاعت کا بے تحاشا کام ہوا،آج ہر گلی محلے کی اپنی ادبی تنظیم ہے مگر علمی و ادبی روایت دم توڑ رہی ہے،یہ افسوس ناک پہلو ملک بھر کے لکھنے والوں کو دعوت فکر دے رہا ہے۔
۲۰۱۹ء میں یونیسکو نے جب لاہور کو ’’سٹی آف لٹریچر ‘‘کہا تو یہاں لاہور میں پے درپے تقاریب ہوئیں،قلم کاروں نے جشن منایا کہ ہمارا لکھا دنیا بھر میں تسلیم ہونے لگا،سرکاری سطح پر بھی اکا دکا تقریبات ہوئیں اور اس کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔۳۰ جنوری ۲۰۲۶ء کو راقم نے اپنے چند دوستوں کی مدد سے لاہور میں ایک شاندار مشاعرے کا اہتمام کیا جس کا عنوان’’جشن لاہور‘‘رکھا،اس مشاعرے میں ملک بھر سے اہم اور نمایاں قلم کار شریک تھے،الحمراء آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز گوندل کی ذاتی دل چسپی اور تعاون نے اس جشن کی مقبولیت میں اضافہ کیا،سوشل میڈیا پر اسے بہت پذیرائی ملی کہ ایک سرکاری ادارے کے تعاون سے ایک اہم جشن ہوا،اس جشن کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک ایسا شہر جسے ’’سٹی آف لٹریچر‘‘کہا گیا،اس کا جشن بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے۔ابھی ہم ایک اور جشن لاہور کا پلان کر رہے تھے کہ قاسم علی شاہ فائونڈیشن کی طرف سے ’’جشن لاہور‘‘کا دعوت نامہ ملا اور میری خوشی کی انتہا نہ رہی یعنی پہلے میں اس انجمن میں تنہا تھا اور اب میرے رازدانوں میں اضافہ ہو گیاکیوں کہ برادر قاسم علی شاہ کو اسی برس یونیسکو نے ’’سٹی آف لٹریچر‘‘کا فوکل پرسن بنا دیا ہے،انھوں نے اس یادگار موقع پر جشن لاہور منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس جشن لاہور میں مشاعرہ بھی تھا اور محفل موسیقی بھی،قلم کتاب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اس جشن کا حصہ تھے،مختلف سیشنز میں شریک مہمانان گرامی یونیسکو کا بھی شکریہ ادا کر رہے کہ اور فائونڈیشن کا بھی،یونیسکو کا شکریہ اس لیے کہ لاہور کا فوکل پرسن ایک ایسا انسان ہی ہونا چاہیے تھا جو پوری دنیا میں لاہور کی ایک مثبت شناخت ہو لہٰذا یہ انتخاب ہر لحاظ سے شاندار ہے، اس جشن میں اگر ایک سیشن ’’رفتگاں ‘‘کا ہوتا تو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا،۔تاریخ کے ملبے میں دبا یہ رومانوی شہر ماضی جیسی تابناکی کا منتظر ہے،اب نہ وہ لوگ اور نہ وہ شہر،ہر چیز ماضی کی گرد میں کہیں کھو چکی،ایسے میں جشن لاہور کا اہتمام ایک ایساقدم ہے جس کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں،یہ لاہور کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے والی بات ہے،وہ لاہور واپس لانے کی ایک کوشش ہے جو لاہور قیام پاکستان کے بعد کہیں کھو گیا تھا۔ اب وہ لاہور کہاں ہے،کہاں ہے میرا افسردہ لاہور، خاموش لاہور، سر سبزوشاداب لاہور، باغوں کا شہر، شاعروں کا شہر، موسیقاروں کا شہر، اداکاروں اور فنکاروں کا شہر، یہ میرے لاہور کو کس کی نظر کھا گئی کہ اب نہ وہ لوگ،نہ وہ محافل،نہ وہ ادبی روایت اور نہ زندہ دل لوگ،میں یونیسکو اور قاسم علی فائونڈیشن کا باردگر ممنون ہوں کہ مجھے میرے لاہور سے ملوایا۔
بقول راقم۔
اس نے دیکھا ہی کیا ہے دنیا میں
جس نے لاہور بھی نہیں دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ See less


