فصل کسی تہوار کے دسترخوان پر پہنچنے سے پہلے، مہینوں کی بے یقینی، محنت اور انتظار سے گزرتی ہے۔ کوئی مٹی سنوارتا ہے، کوئی بارش کی راہ تکتا ہے، کوئی بدلتے موسم کے تیور پڑھتا ہے اور دل میں یہ دعا لیے جیتا ہے کہ کھیتی سلامت رہے۔ پھر جب اناج گھر آتا ہے تو اندیشوں کی جگہ اطمینان، اور اطمینان کی جگہ خوشی لے لیتی ہے۔ بچھڑے ہوئے اہلِ خانہ جمع ہوتے ہیں، دسترخوان بچھتے ہیں، کھانا بانٹا جاتا ہے۔ یوں زمین کی فیاضی، انسانی شکرگزاری میں اپنی زبان پا لیتی ہے۔
اس نومبر میں دو بڑے تہوار ہمیں اسی قدیم رشتے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ دیوالی 8 نومبر 2026ء کو ہے، جبکہ امریکی تھینکس گیونگ (Thanksgiving)، یعنی یومِ شکرگزاری، 26 نومبر کو منایا جائے گا۔ ایک ہی مہینے میں ان کی آمد، دو مختلف سرزمینوں پر پروان چڑھنے والی روایتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ ان کے رنگ اور حوالے جدا ہیں، مگر فصل، تجدیدِ زندگی، خاندانی قربت اور نعمتیں بانٹنے کی خوشی دونوں میں موجود ہے۔
اس کے فروغِ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمعِ حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا۔ (میر تقی میر)
دیوالی روشنیوں کا تہوار ہے، لیکن اس کی لو میں کھیتوں اور موسموں کی یاد بھی روشن ہے۔ اس کی زرعی اور موسمی معنویت بھی اتنی ہی توجہ چاہتی ہے جتنی اس کی جگمگاہٹ۔ یونیسکو دیپاولی کو سال کی آخری فصل، نئے سال اور نئی رُت کے آغاز سے تعبیر کرتا ہے۔ اس منظر میں روشنی، کامیاب فصل کے بعد جاگنے والی امید اور زندگی کے ایک اور دور کی بشارت بن جاتی ہے۔
کاشت کار معاشروں میں خوش حالی کوئی مبہم تصور نہ تھی۔ اس کی صورت بہت واضح تھی: کوٹھار میں محفوظ اناج، اگلی بوائی کے لیے بیج، تندرست مویشی اور گھر کے ہر فرد کے لیے پیٹ بھر کھانا۔ تہوار کے دیے کو اس دنیا کے پس منظر میں دیکھیے، جہاں زندگی کا ہر دھاگا مٹی، پانی اور موسموں کی گردش سے بندھا ہوا تھا۔ گھر کی صفائی، پکوانوں کی خوشبو اور رشتے داروں کی آمد، نئی شروعات کو ایک جیتی جاگتی صورت دیتے تھے۔
یہ تعلق فطری طور پر ہماری سوچ کو جنوبی ایشیا کے قدیم زرعی معاشروں کی طرف لے جاتا ہے، جن میں وادیٔ سندھ کی تہذیب بھی شامل ہے۔ موئن جو دڑو، ہڑپہ اور دوسری بستیوں کے لوگ کھیتی باڑی، دست کاری اور تجارت کے ذریعے اپنے معاشروں کی زندگی برقرار رکھتے تھے۔ ان کی دنیا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس خطے کی تاریخ کی جڑیں زمین میں کتنی گہری ہیں۔
دیوالی کا خریف کی فصل، ربیع کی بوائی اور ہیمنت کی رُت میں داخل ہونے کے موسمی مرحلے سے قدیم تعلق ہے۔ اسے رام کی واپسی سے جوڑنے والی روایت کو اکثر بعد کی نسبت سمجھا جاتا ہے۔ ہندو روایت میں لکشمی کا تعلق ایک پہلے کائناتی عہد، ستیہ یُگ، سے ہے، اور مانا جاتا ہے کہ ان کی پوجا رام سے بھی پہلے ہوتی تھی؛ رام کا خاندان بھی ان کی پوجا کرتا تھا۔ اس نقطۂ نظر سے، ممکن ہے کہ رام چودہ برس کا بن باس مکمل کرکے ایک ایسے مبارک تہوار کے موقع پر واپس آئے ہوں، جو پہلے ہی منایا جاتا تھا۔
دیوالی اپنے دامن میں کئی مذہبی معانی بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ بہت سے ہندو اس کی روشنی میں بن باس کے بعد رام کی ایودھیا واپسی کو یاد کرتے ہیں۔ دوسری روایات کرشن اور نرکاسُر کی داستان یا خوش حالی اور بھلائی کے لیے لکشمی کی پوجا کو نمایاں کرتی ہیں۔ جین مت کے پیروکار مہاویر کی مُکتی کو یاد کرتے ہیں۔ سکھ اسی عرصے میں گرو ہرگوبند کی قید سے رہائی کی یاد میں بندی چھوڑ دِوَس مناتے ہیں۔ بعض نیوار بدھ مت کے پیروکار بھی اپنی روایتوں کے رنگ میں اس تہوار میں شریک ہوتے ہیں۔
یہ تنوع بتاتا ہے کہ ایک تہوار کتنی یادوں کا گھر ہو سکتا ہے۔ اس میں موسم کی یاد بھی رہتی ہے، گھر کی بھی، روح کی بھی اور پوری برادری کی بھی۔ اس کے معنی کسی ایک داستان میں پوری طرح سمائے نہیں جا سکتے۔
وہ سر شام در و بام پہ جلتے دیپک
کیا مری طرح تجھے یاد نہیں آتے ہیں۔
(قتیل شفائی)
سمندر کے اُس پار، تھینکس گیونگ بھی فصل کی خوشی کو گھر کے دسترخوان تک لاتا ہے۔ اس کی معروف امریکی روایت 1621ء کے پلی متھ میں ہونے والے ایک اجتماع کو یاد کرتی ہے، جس میں انگریز آبادکاروں کے ساتھ وامپانوآگ قوم کے لوگ بھی شریک تھے۔ ان کے رہنما اوسامیکوئن، جو عام طور پر ماساسوئٹ کے نام سے معروف ہیں، بھی وہاں موجود تھے۔ اُس زمانے کا ایک محفوظ انگریزی بیان، تین روز کی ضیافت اور تقریباً نوّے وامپانوآگ مردوں کی شرکت کا ذکر کرتا ہے۔
تاہم امریکہ میں شکرگزاری کی تاریخ اس اجتماع سے کہیں پہلے شروع ہو چکی تھی۔ وہاں کے اصل باشندوں کے پاس نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی اپنی روایتیں موجود تھیں۔ پلی متھ کی اس ضیافت نے بھی فوراً وہ سالانہ قومی تہوار قائم نہیں کر دیا تھا، جسے آج دنیا جانتی ہے۔
موجودہ امریکی تھینکس گیونگ نے صدیوں کے سفر میں اپنی صورت پائی۔ مصنفہ اور مدیرہ سارا جوزیفا ہیل نے اسے قومی یومِ شکرگزاری بنانے کے لیے مسلسل مہم چلائی۔ 1863ء میں، خانہ جنگی کے دوران، صدر ابراہم لنکن نے ایک اعلان جاری کیا، جس میں شکر ادا کرنے کے ساتھ اُن لوگوں کو یاد رکھنے کی اپیل بھی کی گئی جو جنگ کے مصائب سہہ رہے تھے۔ نعمتوں کی فراوانی کے اعتراف کے پہلو میں، زخمی دلوں اور بکھرے ہوئے معاشرے کے لیے مرہم کی دعا بھی رکھی گئی۔
آج تھینکس گیونگ کے دسترخوان پر کھانوں کے ساتھ یادیں بھی مہکتی ہیں۔ کوئی خالی کرسی اُس عزیز کی کمی کو نمایاں کر دیتی ہے جو اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔ کوئی اضافی کرسی گھر سے دور کسی شخص کو اپنائیت کا احساس دے سکتی ہے۔ دادی یا نانی کے ہاتھ کے کسی کھانے کی ترکیب، ان کی آواز خاموش ہو جانے کے بہت بعد بھی، گھر میں ان کی موجودگی کا احساس زندہ رکھتی ہے۔ کبھی ایک ذائقہ، پوری زندگی کی یاد بن جاتا ہے۔
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا
اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
(نذیر بنارسی)
لیکن اس تہوار کے دامن میں دکھ کی تہیں بھی ہیں۔ بعض اصل امریکی باشندوں کے لیے یہ قومی یومِ سوگ ہے؛ اپنی زمینوں سے بے دخلی، تشدد اور نوآبادیاتی قبضے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی یاد کا دن۔ ایک دیانت دارانہ جشن کو ان آوازوں کے لیے بھی جگہ رکھنی چاہیے۔ شکرگزاری میں گہرائی تب آتی ہے، جب دسترخوان پر بیٹھنے والے یہ بھی جانیں کہ اس ضیافت کو ممکن بنانے میں کس کی زمین، کس کے علم اور کس کی محنت کا حصہ تھا۔
غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
مرزا غالب
دونوں تہواروں کا دائرہ بہت وسیع ہے، اگرچہ انہیں منانے والوں کی تعداد کو ایک ہی سادہ پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ دیوالی کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اسے ایک ارب سے زیادہ لوگ مناتے ہیں۔ اس تناظر میں، پیو ریسرچ سینٹر کے 2025ء میں شائع ہونے والے تخمینوں کے مطابق، 2020ء میں دنیا کی ہندو آبادی تقریباً 1.2 ارب تھی۔ دوسری مذہبی برادریاں بھی دیوالی میں شریک ہوتی ہیں، مگر مذہبی آبادی کے اعدادوشمار کو تہوار منانے والوں کی باقاعدہ گنتی نہیں سمجھنا چاہیے۔
امریکی تھینکس گیونگ کے بارے میں نومبر 2024ء میں کیے گئے پیو کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ امریکہ کے 91 فیصد بالغ افراد نے یہ تہوار منایا۔ یہ اس کی وسیع قومی مقبولیت کا اظہار ہے، دنیا بھر کے تمام شرکا کی قطعی تعداد نہیں۔ یہاں تقابل نومبر میں منائے جانے والے امریکی تہوار کے حوالے سے ہے۔
ان وسیع اعداد کے پیچھے زندگی کے نہایت مختصر مگر گہرے منظر آباد ہیں: ہوا سے دیے کی لو بچاتا ہوا بچہ، مٹھائی بناتے ہوئے ماں باپ، گھر کی طرف لوٹتا ہوا طالب علم، اور دسترخوان پر ایک اور مہمان کے لیے جگہ بناتا ہوا میزبان۔ تہواروں کی اصل حرارت، خیال رکھنے کے انہی چھوٹے چھوٹے عملوں سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک ہی نومبر میں دونوں کی آمد، ان کی کسی مشترک تاریخی ابتدا کا ثبوت نہیں۔ البتہ یہ ہمیں زندگی کے ایک مشترک سہارے کو پہچاننے کا موقع ضرور دیتی ہے۔ ہماری میز تک پہنچنے والا کھانا کتنے ہی ہاتھوں سے گزرتا ہے: کسان، مزدور، باربرداری کرنے والے، دکاندار اور اسے پکانے والے۔ ہر نوالے کے پیچھے پانی، مٹی اور رہنے کے قابل آب و ہوا کا حصہ ہے۔ ہماری خوش حالی ایسے رشتوں پر قائم ہے، جنہیں روزمرہ کی مصروفیت میں ہم اکثر دیکھ ہی نہیں پاتے۔
پاکستان کے لوگوں کے لیے، بالخصوص سندھ کے زرعی ماحول میں، یہ تعلق اجنبی نہیں۔ یہاں فصل ایک خاندان کی روزی ہے، موسم اس کی امید، اور پانی اس کے آنے والے کل کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ تہوار ہمیں اُن ہاتھوں کی قدر سکھا سکتے ہیں جو ہماری خوراک اُگاتے ہیں، اور اُن دلوں کے قریب لا سکتے ہیں جن سے مذہبی فرق کے باوجود انسانی رشتہ قائم ہے۔
کسی ہندو پڑوسی کو محبت سے دیوالی کی مبارک باد دینا، تنہا رہنے والے کسی شخص کو اپنے گھر بلانا، تنگ دستی سے دوچار کسی خاندان کے ساتھ کھانا بانٹنا، یا کسی محنت کش کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ دینا، جشن کی روشنی کو اس کے مقررہ دن سے آگے لے جاتا ہے۔
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
(احمد فراز)
اس نومبر میں، دیا اور فصل سے سجا دسترخوان ہمیں نرمی سے یاد دلاتے ہیں: جو کچھ زندگی کو سہارا دیتا ہے، اس کی قدر کیجیے، اور جو نعمت میسر ہے، اسے دوسروں کے ساتھ بانٹیے۔
تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی
نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقت شام ہوا۔
(آنس معین)
زمین بہت سے ہاتھوں کی محنت سے ہمیں عطا کرتی ہے۔ ہمارے تہوار تب زیادہ بامعنی ہو جاتے ہیں، جب ہماری شکرگزاری بھی ہمارے ہاتھوں سے کسی دوسرے کی زندگی تک پہنچتی ہے۔


