نوآبادیات، ہائبرڈ شناختیں اور لسانی سیاست/سائرہ رباب

ایڈورڈ سعید بتاتے ہیں کہ زبان پر پابندی صرف الفاظ پر پابندی نہیں ہوتی بلکہ شناخت پر بھی ہوتی ہے۔ جب قاہرہ کے انگریزی اسکول میں عربی بولنے پر سزا ملتی تھی تو یہ محض تعلیمی نظم و ضبط نہیں تھا بلکہ ایک خاموش پیغام تھا کہ تمہاری اپنی زبان کمتر ہے۔ بعد میں امریکا جا کر جب ایک فلسطینی ہم وطن نے بھی عربی بولنے سے انکار کیا تو یہ احساس اور گہرا ہوا کہ آدمی اپنے لوگوں میں رہ کر بھی اپنی زبان سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہی خلش دراصل نوآبادیاتی نظام کی سب سے خاموش مگر سب سے گہری کامیابی ہے: انسان کو اس کی زبان سے کاٹ دو، وہ آہستہ آہستہ اپنی پہچان سے بھی کٹ جائے گا۔
ایسا ہی کچھ ہماری زبانوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ ہمیں مقامی زبانوں سے محروم کر کے لایعنی لسانی جھگڑوں میں الجھا دیا گیا۔ کبھی زندہ زبان کو جامد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی ایک زبان کو دوسری کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ اصل طاقت کا ڈھانچہ محفوظ رہے۔ زبانوں کی اس سیاست میں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ کون سی زبان خوبصورت ہے، بلکہ یہ کہ کون سی زبان اختیار، روزگار اور ریاستی طاقت سے جڑی ہے۔
زبان جامد نہیں ہوتی۔ ہر دور میں بدلتی ہے، ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ ہومی بھابھا اور فرانز فینان جیسے مفکرین واضح کرتے ہیں کہ نوآبادیاتی سماجوں میں “خالص ثقافت” باقی نہیں رہتی۔ نئی ہائبرڈ شناختیں وجود میں آتی ہیں اور زبان اسی تبدیلی کا مظہر ہوتی ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں ہائبرڈ ہیں۔ میں خود ایک ہائبرڈ پنجابی ہوں۔ میری زبان میں پنجابی بھی ہے، اردو بھی، انگریزی بھی۔ یہ کمزوری نہیں، ارتقا ہے۔ اگر زبان بدلتے تقاضوں کے ساتھ evolve نہ کرے تو وہ صرف نصابی باب بن کر رہ جاتی ہے۔ زندہ زبان وہ ہے جو آج بولی جا رہی ہو، لکھی جا رہی ہو، سمجھی جا رہی ہو۔
میں نے پنجابی کانفرنسیں بھی دیکھی ہیں اور اردو کے حوالے سے اشرافیہ کا رویہ بھی۔ بحثیت شناخت میں پنجابی ہوں، پنجاب میری مٹی ہے، مگر ساتھ ہی برصغیر کی وسیع تہذیب کا بھی حصہ ہوں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے انڈو مسلم ثقافتی روایت بھی میری شناخت میں شامل ہے، اور برطانوی دور کے باعث انگریزی کے اثرات بھی۔ یہی سب مل کر میرا آج کا “میں” بناتے ہیں۔ شناخت کوئی خالص سانچہ نہیں، ایک مسلسل بنتا ہوا عمل ہے۔
پنجابی میری مادری زبان ہے۔ اردو برصغیر کی مشترکہ لنگوا فرینکا رہی ہے، صدیوں تک مختلف علاقوں، مذاہب اور طبقات کو جوڑتی رہی۔ مگر ہمارے ہاں ایک عجیب بیانیہ قائم کیا گیا: مادری زبانوں کو دبانے کا الزام اردو پر ڈال دو، اور اصل طاقت کی زبان ‘ انگریزی’ کو چھیڑو ہی نہیں۔ مورخ مبارک علی واضح کرتے ہیں کہ زبان اور طاقت کا تعلق گہرا ہوتا ہے۔ جو زبان اقتدار میں آتی ہے وہی روزگار، تعلیم اور سماجی مرتبے کی زبان بن جاتی ہے۔وہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں حقیقی طاقت کی زبان اردو نہیں بلکہ انگریزی ہے۔ اسی طرح ہندی مورخ الوک رائے نے دکھایا کہ ہندی–اردو کی تقسیم بڑی حد تک مصنوعی اور سیاسی تھی۔ ایک مشترکہ عوامی زبان کو شناختی بنیاد پر بانٹ کر لوگوں میں دراڑیں پیدا کی گئیں۔
پہلے ہندی اور اردو کی مصنوعی تقسیم پیدا کی گئی جس کا انجام بٹوارہ بنا۔ پھر پاکستان میں اردو اور مادری زبانوں کے جھگڑے پیدا ہوئے۔ مگر بھارت ہو یا پاکستان، اصل طاقت کی زبان انگریزی ہی رہی۔ پاکستان میں تو صورتحال اور بھی واضح ہے: نصاب، اعلیٰ تعلیم، کارپوریٹ سیکٹر، ریاستی امور، عدالتیں، سول سروسز ۔۔۔۔ سب انگریزی میں۔ اس لسانی درجہ بندی میں اردو بھی مکمل اختیار کی زبان نہیں، اور مادری زبانیں تو اور بھی پیچھے ہیں۔ یوں زبانوں کو آپس میں الجھا کر طاقت کا ڈھانچہ جوں کا توں رکھا گیا۔
آج کچھ قوم پرست حلقے پنجابی کلچر کے احیاء کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ ادب لکھا جا رہا ہے، کانفرنسیں اور میلے منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے، مگر مجھے محسوس ہوا کہ پنجابی کو زیادہ تر رومانوی اور کلاسیکل پیرائے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ وارث شاہ، میاں محمد بخش، بلھے شاہ ۔۔۔ یقیناً عظیم نام ہیں اور ان کا پیغام زندہ رہنا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پنجابی کو زندہ لوگوں کی زبان بنانے کی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے؟ کیا اسے تعلیم، پالیسی، جدید اظہار اور شہری زندگی کی زبان بنایا جا رہا ہے؟
ہر زبان ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے بعد خالص ثقافت باقی نہیں رہتی، شناختیں ہائبرڈ ہو جاتی ہیں۔ میں خود ایک پنجابی ہو کر اس رومانوی اور کلاسیکل پیشکش سے کبھی کبھی اجنبیت محسوس کرتی ہوں، کیونکہ جو پنجابی پیش کی جاتی ہے وہ میری روزمرہ کی پنجابی سے میل نہیں کھاتی۔ اس کے لہجے، مسائل اور شہری تجربات مختلف ہیں۔ ایسا ہی کچھ دانشور کلاسیکل اردو کا پرچار کرتے ہیں ۔۔ اسی لیے جب نئی نسل غالب یا سودا کو نہیں سمجھ پاتی، تو حافی یا علی زریون کو سنتی ہے۔ ہندی فلمیں دیکھتی ہے، گانے سنتی ہے، آزاد نظم میں خود کو express کرتی ہے۔ پنجابی میں بھی نوجوان نسل ستیندر سر تاج، سدھو موسے والا یا دلجیت کو سنتی ہے کیونکہ وہ موجودہ زبان بولتے ہیں، موجودہ تجربہ بیان کرتے ہیں۔
زبان وہی زندہ ہے جو نئی نسل کے احساس، محبت، غصے اور مسائل کی زبان ہو۔ جو انہیں اپنی ذات کا سچا اظہار دے سکے۔ جب ہم زبان کی بنیاد صرف رومانویت اور کلاسیکیت پر رکھتے ہیں تو اظہار پر مصنوعی قدغن لگ جاتی ہے۔ پھر دانشور نوجوان نسل کو کمتر اور بے شعور ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں، حالانکہ مسئلہ نوجوان نہیں بلکہ زبان اور شناخت کو جامد بنا دینے کا ہے۔ زندہ زبان قدرتی اظہار پاتی ہے۔ اس میں لغت کی شرطیں کم اور معنی کی گنجائش زیادہ ہوتی ہے۔ وہ سانس لیتی ہے، بدلتی ہے، نئی تراکیب بناتی ہے، نئے محاورے گھڑتی ہے۔
آخر میں مسئلہ صرف ثقافتی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ جب تک مادری زبانوں کا تعلق تعلیم، روزگار، عدالت اور پالیسی سے نہیں جڑے گا وہ علامتی رہیں گی۔ جب تک طاقت کے ڈھانچے انگریزی میں رہیں گے باقی زبانیں دفاع میں رہیں گی۔ اردو کو مادری زبانوں کے مقابل کھڑا کرنا اور مادری زبانوں کو اردو کے مقابل ۔۔۔۔ دونوں صورتوں میں فائدہ انگریزی کو ہوتا ہے۔ حل زبانوں کو لڑانا نہیں، بلکہ طاقت کو لسانی طور پر جمہوری بنانا ہے۔
کیونکہ زبان صرف شناخت نہیں، اختیار بھی ہے۔ اور جو زبان اختیار سے کٹ جائے وہ آہستہ آہستہ میوزیم بن جاتی ہے۔ زندہ زبان وہ ہے جو روزمرہ بولی بھی جائے، آرٹ اور شاعری کی زبان بھی ہو اور اقتدار میں بھی شریک ہو۔ یہی کسی زبان کی اصل بقا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں