لکھنؤ یونیورسٹی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلم طلبا نماز ادا کر رہے ہیں جبکہ ہندو طلبا ان کے گرد انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہیں تاکہ وہ سکون اور تحفظ کے ساتھ عبادت کر سکیں۔ ویڈیو کے ساتھ شیئر کیے گئے کیپشن میں لکھا گیا کہ “اس بھائی چارے کو نظر نہ لگے”۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب یونیورسٹی انتظامیہ نے تاریخی لال بارادری عمارت کو سیل کر دیا، جہاں برسوں سے مسلم طلبا نماز ادا کرتے آ رہے تھے۔ اس اقدام کے بعد مختلف طلبا تنظیموں نے احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ رمضان کے دوران جان بوجھ کر مسجد کو بند کیا گیا تاکہ عبادت میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔
ہندو طلبا تنظیموں کے نمائندوں نے مسجد کے دروازے بند ہونے کے بعد باہر نماز پڑھنے والے مسلم طلبا کے گرد انسانی زنجیر بنا کر ان کی حفاظت کی۔ اس منظر کو طلبا نے “گنگا جمنی تہذیب” کی مثال قرار دیا اور کہا کہ یونیورسٹی کسی مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی جگہ نہیں ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے وضاحت دی کہ عمارت خستہ حال ہے اور کسی بھی وقت حادثہ پیش آ سکتا ہے، اسی لیے نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی۔ تاہم طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر اطلاع کے عبادت سے روکنا ناانصافی ہے۔
لال بارادری کی تاریخی حیثیت بھی نمایاں ہے۔ یہ نوابی دور کی واحد سرخ پتھر کی عمارت ہے جس کی بنیاد 1814 میں نواب غازی الدین حیدر شاہ نے رکھی اور 1820 میں نصیرالدین حیدر شاہ نے مکمل کیا۔ اس عمارت میں ماضی میں بینک، کینٹین اور اساتذہ کی انجمن کے دفاتر بھی قائم رہے، مگر خستہ حالی کے باعث انہیں منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال ہے بلکہ اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔


