رمضان کریم: پہلا عشرۂ رحمت/ علی عباس کاظمی

رمضان المبارک کا مہینہ جب آتا ہے تو ہر طرف ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ چاند نظر آتے ہی گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مسجدوں میں رونق بڑھ جاتی ہے اور دِلوں میں عبادت کا شوق جاگ اٹھتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے خاص برکتوں اور رحمتوں کا ذریعہ بنایا ہے۔ اسی لیے اسے رحمتوں، مغفرتوں اور نجات کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ رمضان کے پہلے دس دنوں کو “عشرۂ رحمت” کہا جاتا ہے۔۔۔یعنی وہ دن جب اللہ کی رحمت خاص طور پر اپنے بندوں پر سایہ کرتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے شعبان کے آخری دن صحابہ کرامؓ کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ آ رہا ہے جس کا آغاز رحمت ہے، درمیان مغفرت ہے اور آخر جہنم سے نجات ہے۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان کا پہلا حصہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا خاص وقت ہے۔ اگرچہ پورا رمضان ہی رحمت ہے مگر پہلے عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، ان کے دل نرم کرتا ہے اور انہیں عبادت کی توفیق دیتا ہے۔

رحمت کا مطلب صرف معافی نہیں ہوتا۔ رحمت کا مطلب ہے محبت، نرمی، آسانی اور بھلائی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ یعنی دنیا کی ہر نعمت، ہر آسانی اور ہر بھلائی دراصل اللہ کی رحمت ہے۔ رمضان کے پہلے عشرے میں یہی رحمت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ روزہ رکھنا آسان لگنے لگتا ہے، عبادت میں دل لگتا ہے، قرآن پڑھنے کا شوق بڑھ جاتا ہے اور انسان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بھلائی کے راستے آسان کر دیتا ہے۔ گویا پہلا عشرہ ہمیں ایک نیا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنائیں اور اللہ کی طرف سچی توبہ کے ساتھ لوٹ آئیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس عشرے سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟ سب سے پہلے ہمیں اپنی نیت درست کرنی چاہیے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی مشق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم روزہ اللہ کی رضا کے لیے رکھیں اور ہر کام میں اخلاص پیدا کریں۔ جب نیت خالص ہو جاتی ہے تو چھوٹا سا عمل بھی بڑا اجر بن جاتا ہے۔

پہلے عشرے میں دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ قرآن کی ایک خوبصورت دعا ہے:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ
یعنی اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کی رحمت کے محتاج ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سحری اور افطار کے وقت دل سے دعائیں کریں۔۔۔ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

قرآن مجید رمضان میں نازل ہوا، اس لیے اس مہینے کا سب سے خوبصورت عمل قرآن کی تلاوت ہے۔ کوشش کریں کہ روزانہ کچھ نہ کچھ قرآن ضرور پڑھیں۔ اگر ممکن ہو تو ترجمہ بھی پڑھیں تاکہ سمجھ کر عمل کر سکیں۔ جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو دل کو سکون ملتا ہے اور زندگی کے مسائل کا حل بھی ملتا ہے۔ پہلا عشرہ دراصل دل کو قرآن سے جوڑنے کا بہترین وقت ہے۔

صدقہ اور خیرات بھی رحمت کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ کسی کو افطار کرانا، کسی کے گھر راشن پہنچانا، کسی یتیم کی مدد کرنا ۔۔۔ یہ سب ایسے کام ہیں جو اللہ کی رحمت کو بڑھاتے ہیں۔ رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم صرف اپنی فکر نہ کریں بلکہ دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔

پہلے عشرے میں ہمیں اپنے اخلاق پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے۔ غصہ، جھوٹ، غیبت اور بدزبانی روزے کی روح کو کمزور کر دیتے ہیں۔ روزہ ہمیں صبر سکھاتا ہے۔ اگر کوئی لڑائی جھگڑا کرے تو ہمیں نرمی سے جواب دینا چاہیےاور ہمیں اپنا رویہ نرم رکھنا چاہیے۔ یہی اصل روزہ ہے کہ انسان اپنے کردار کو بہتر بنائے۔

آج کے دور میں بھی رمضان کی رحمت صاف نظر آتی ہے۔ لوگ دور دور سے مساجد میں آتے ہیں، اجتماعی افطار ہوتے ہیں، فلاحی ادارے غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماحول کو مزید بہتر بنائیں۔ فضول خرچی سے بچیں، سادگی اختیار کریں اور بچت کو ضرورت مندوں تک پہنچائیں۔

پہلا عشرہ دراصل تربیت کا وقت ہے۔ اگر ہم ان دس دنوں میں اپنی عادتیں درست کر لیں تو باقی رمضان بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اگر نماز میں کمی ہے تو اسے پورا کریں۔ اگر دل میں کسی کے لیے ناراضی ہے تو معاف کر دیں۔ رشتے جوڑنا بھی رحمت کا ایک حصہ ہے۔

بچوں کو رمضان کی اہمیت بتائیں، انہیں دعائیں یاد کرائیں اور اچھے کاموں کی ترغیب دیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی مثبت انداز میں کریں۔ اچھی باتیں شیئر کریں، دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں اور منفی گفتگو سے بچیں۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ہر جگہ خیر اور بھلائی پھیلائیں۔

آخر میں یہی کہنا ہے کہ رمضان کا پہلا عشرہ اللہ کی خاص رحمت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں معاف کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ دل سے توبہ کریں، عبادت میں دل لگائیں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔

اگر ہم نے اس عشرے کو صحیح طرح گزار لیا تو باقی رمضان بھی کامیاب ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے حصہ عطا فرمائے، ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں اس بابرکت مہینے کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ لکھیں