ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً چھیاسی سال کی عمر میں صیہونی حملے میں خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔
ان کی بائیو گرافی تو لوگوں کو گوگل سرچ سے بھی مل جائے گی مگر ان کے افکار جاننے کے لیے ، ان کی تحریروں اور تقریروں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔
میں نے ان کی تحریروں کا بہت مطالعہ کیا ہے۔ آخری کتاب شاید “ڈھائی سو سالہ انسان” کا مطالعہ دوہزار اٹھارہ میں کیا تھا۔
ان کی کچھ یادیں، باتیں میں احباب سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کتابوں سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ بتاتے تھے کہ جس وقت وہ صدر مملکت تھے تو ڈیڑھ مہینے کے بعد ایک دفعہ ان کی نماز جمعہ پڑھانے کی باری آتی تھی۔ یہ ہر نماز جمعہ کے خطبے کے لیے کم سے کم پانچ گھنٹے مطالعہ کرتے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ انقلاب کے ابتدائی دو تین سالوں کے علاوہ ان کا کتاب سے رشتہ کبھی ٹوٹ نہیں پایا۔ کبھی تو صرف بس کے روزانہ کے سفر میں آٹھ جلدوں پر مشتمل کتاب کی ورق گردانی کر چکے تھے۔
شعر و شاعری سے شغف رکھتے تھے اور علامہ اقبال کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ میں اقبال کا مرید ہوں۔
شب زندہ دار شخصیت تھے۔ اذان کی آواز سنتے ہی ایسے ہوجاتے تھے جیسے دنیا میں کسی کو نہیں جانتے اور مصلہ امامت کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔
فجر کی نماز کے بعد واک پر تشریف لے جاتے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے گارڈز بھی ہوتے تھے۔ ایک دفعہ رننگ کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے تو دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی (جو آپس میں منگیتر تھے) بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔ صبح ہی صبح وہ ایک دم سے رہبر معظم کو سامنے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آپ ان کے درمیان بیٹھے اور حال احوال پوچھا، کچھ باہمی دلچسپی کے امور پر بات کی۔ پھر جاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں آپ دونوں کا نکاح پڑھا دوں؟ اس جوڑے کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے فوراً حامی بھری تو آپ نے اپنے اسسٹنٹ کو کہہ دیا کہ ان کو جگہ اور وقت کے بارے میں بتا دیا جائے تاکہ یہ لوگ اپنے خانوادے کے ساتھ اس جگہ حاضر ہو جائیں ۔ پھر آپ دعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔
ان کی امامت میں جن لوگوں نے نماز ادا کی ہے اور تجوید کو بھی سمجھتے ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ بہترین قاری قرآن تھے ، خاص کر “ذ، ز ، ض” کو بالکل الگ اور صحیح مخارج سے ادا کرتے تھے۔
قرآن کریم سے شغف رکھتے تھے ، اس وجہ سے مصروفیات کے باوجود قرآت قرآن کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔ اس رمضان بھی ایک مقابلہ حسن قرات میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی۔ قاری عبد الرحمان السدیس کو پسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ وہ عربوں کا لہجہ جانتا ہے اور کونسا لفظ کس لہجے میں ادا ہو تو اچھا لگے گا، یہ بھی اس کو معلوم ہے۔
لوگ اکثر آپ سے مطالبہ کرتے تھے کہ اپنے گلے میں پہنا ہوا بسیجی رومال یا ہاتھ کی انگھوٹی عنایت کریں تو بنا کسی تردد کے لوگوں کو اتار کر دے دیا کرتے تھے ۔
کبھی کبھار لوگ نومولود بچے لیکر ان کے پاس آتے تھے کہ اس کے کان میں اذان دے دیں تو آپ خوشی سے یہ کام انجام دیتے تھے۔
چھوٹی بچیوں کی نماز جماعت کی امامت ، نماز جمعہ کی امامت، نماز مغرب کی امامت ، یہ آپ کے عام معمولات رہے ہیں۔ وہ مشہور زمانہ لوگ جو کم عمر بچیوں کو نیم عریاں لباس میں، مقابلہ حسن میں جج کے طور بیٹھ کر دیکھنا پسند کرتے تھے ، جن کے کرتوت دنیا نے ایپسٹین فائلز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد دیکھے، وہ کیا جانیں کہ ایک کم عمر بچی ایک پھول کی کلی کی مانند ہے، جس کو ہوس کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاتا ۔ اس کا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اگلی نسل کی امین ہوتی ہے۔
آپ خانوادۂ شہداء کے پاس اکثر جایا کرتے تھے اور آپ کی اپنے آفیشلز کو ہدایت تھی کہ گھر والوں کو پتا نہ چلے کہ میں آ رہا ہوں۔ بس ملاقات کرکے اور ان کے مسائل سن کر واپس آنا پسند کرتے تھے۔
رہبر معظم ، رسول اکرم ص اور امام علی ع سے بہت محبت کرتے تھے ۔ اپنی ایک تقریر میں بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص نے امام زین العابدین سے کہا کہ فرزند رسول ص ! آپ نے ایسے کون سے گناہ کر دیے جو اس قدر عبادت کی طرف متوجہ ہیں۔ امام زین العابدین ع نے اپنے فرزند امام محمد باقر سے کہا کہ ذرا میرا صحیفہ تو لانا ، دیکھوں کہ میرے جد رسول اکرم ص اور علی مرتضی ع کس طرح سے عبادت کرتے تھے؟ امام محمد باقر ع ایک صحیفہ لیکر آئے اور پڑھنا شروع کیا۔ امام زین العابدین نے سن کر گریہ کیا اور کہا ، کہاں رسول اکرم ص اور علی، کہاں میں۔
اس روایت کا تجزیہ کرتے ہوئے خامنہ ای صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ امام زین العابدین عبادتوں کی زینت ہیں مگر جب رسول اکرم ص اور امام علی کا ذکر آتا ہے تو اس طرح ان کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جیسے ایک چھوٹا بچہ اپنے خاندان کے کسی بزرگ کو ، جو بلندی پر کھڑا ہے، احترام سے سر اٹھا کر دیکھتا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کو نائب امام مہدی کہا جاتا تھا۔ یہ اصل میں الکافی کی ایک روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “جو نئے پیش آنے والے مسائل ہوں، ان میں ہمارے احادیث بیان کرنے والوں (رواة حدیثنا) کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں، اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں”
بنیادی طور پر یہ ایک عہدہ ہے، یعنی یہ نیابت رسول اکرم ص اور خانوادہ اہلبیت ہے۔ یہ انسان کو ایک درجہ مسئول بناتی ہے یعنی رسول اکرم ص کے کردار و گفتار کی جھلک دنیا اس شخص میں دیکھنا پسند کرے گی جو اس عہدے پر فائز سمجھا جائے گا۔ اب آپ اندازہ لگائیے کہ یہ کس قدر ذمہ داری کا متقاضی ہے۔
ایک دفعہ کسی محفل میں کوئی نوجوان لڑکا اسپائک طرز کے کھڑے بال بنائے ہوئے موجود تھا جہاں آپ تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے محسوس کیا کہ کچھ بزرگ شخصیات اور لوگ اس لڑکے کو ناگواری سے دیکھ رہے ہیں تو اس لڑکے کو پاس بلایا اور پوچھا کہ یہ بال کہاں سے بنوائے؟ اس نے بتایا، پھر اس کو کہا کہ اچھے لگ رہے ہو، اسی طرح سے خود کو علم میں بھی بلند کرلو۔
جاری ہے


