دنیا کو ہے پھر معرکہء روح و بدن پیش/راحیلہ نوید

زندگی کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کی کوشش میں اگر انسان کسی ایسی دنیا میں داخل ہو جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو تو وہ امکان کی آخری حد تک کوشش کرتا ہے،کشتیاں جلا دینے والوں کے پاس کوشش کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔سینہءِ کائنات کا واحد راز حضرتِ انسان بھی دراصل جدوجہد کے اسی عمل میں آشکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ناصر عباس نیر کے افسانوی مجموعے “ایک زمانہ ختم ہوا ہے” کے دوسرے افسانے “ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے” کا مرکزی کردار بھی عزت اور آزادی کے حصول کی جہدِ مسلسل میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ
“آزادی اور عزت ایک ساتھ نہیں مل سکتیں۔”بیروزگاری کی مسلط کردہ خواری اس پر یہ نکتہ وا کرتی ہے کہ اپنے من پسند وسیلہءِ روزگار کی تلاش ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے،اس رکاوٹ کو عبور کر کے جب وہ شہر کی سب سے مصروف شاہراہ پر واقع قلعہ نما دفتر میں پہنچتا ہے تو گویا وہ اپنے زمان و مکاں اور معروضی حقائق کی دنیا سے نکل کر زمان و مکاں کے ایک اجنبی اور انہونے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔یہاں اس دفتر کے لیے اوٹ بنے ہوئے “کپڑوں اور جوتوں کے مشہور برانڈز کے آؤٹ لیٹ”اور شہر کی مصروف شاہراہ کا دفتر تک پہنچ کر ختم ہو جانا علامتی سطح پر کارپوریٹ کلچر کی حرکیات کی جانب ہماری توجہ مبذول کراتا ہے کہ وہ کس طرح سرمایہ داری نظام کی جدید شکل بن کر آقا اور غلام کا قدیم رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہے،فرق صرف یہ ہے کہ زمانہءِ قدیم میں غلام منڈیوں میں فروخت ہوتے تھے جبکہ کارپوریٹ کلچر کی اصطلاح میں “باصلاحیت” انسان خود غلامی اختیار کرنے کے لیے آقاؤں کے دروازوں پر دستک دیتا ہے بالکل “ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے” کے بے روزگار نوجوان کی طرح۔
قلعہ نما دفتر میں نوجوان سے مخاطب ہونے والا”خوش پوش تازہ رو جوان شخص”اسی کارپوریٹ کلچر کی مستحکم حاکمیت اور توانا جبریت کا نمائندہ ہے۔لیپ ٹاپ پر مصروفِ کار یہ شخص ایک آزاد انسان کو مصلوبیت اور مغلوبیت کی روح فرسا خبر یوں دیتا ہے:
“…تم ہر وہ کام کرو گے جو تمھیں کہا جائے گا ،تم یہ ملازمت چھوڑ نہیں سکو گے ۔۔۔”دورِ جدید میں غلامی کی نئی شکل کو آشکار کرتا اس لہجے کا تحکم انسان کی ازلی آزادی کا نوحہ ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو جانے والا انسان اپنے فطری حقوق سے بے دخل کر دیا گیا ہے ۔
مابعد جدید دور کا انسان جو اپنے نجی جہنم میں جل رہا ہے یہ اس کا المیہ ہے کہ اس کا سرمایہ دار آقا نہ تو اس کے مسائل میں دل چسپی رکھتا ہے اور نہ ہی اسے سوال کی اجازت دیتا ہے،یعنی باہمی افہام وتفہیم کی کوئی صورت نظر نہیں آتی بالکل کافکا کے “میٹامارفوسس” کے گریگر کی طرح جس کی جسمانی تقلیب اسے انسانی جذبات کی پیچیدہ اور مخلصانہ نزاکتوں کے ابلاغ کے قابل نہیں رہنے دیتی اور سرمایہ دارانہ نظام کی خود غرض ضرورتوں کا کرخت سماجی چہرہ اس سے زندہ رہنے کا حق چھین لیتا ہے ۔
اگر ہم اردو فکشن میں گردشِ ایام کوکچھ دہائیاں پیچھے کی طرف دوڑائیں تو وہاں بھی جانے بغیر مان لینے اور سمع و اطاعت کے فلسفے کی ترویج ہمیں اشفاق صاحب ،بانو آپا،ممتاز مفتی اور قدرت اللّٰہ شہاب کے صوفیانہ فکشن میں نظر آتی ہے جسے کبھی افیونی تصوف تو کبھی اجارہ دار طبقے کے مفادات کے بالواسطہ تحفظ کے بیانیے سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔
“ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے” کے مرکزی کردار کو بھی محض سننے کی تربیت دی جاتی ہے ،یہاں ہمارے افسانہ نگار علامتی پیرائے میں کارپوریٹ کلچر کی تیار کردہ جدید نسل کا ذکر کر رہے ہیں جسے بتدریج حسِ لطافت سے محروم کرکے فکری کثافت پر مطمئن کر دیا گیا ہے ۔قلعہ نما دفتر کا نمائندہ بتاتا ہے کہ یہاں سوال کرنے والا لائقِ تعزیر ہے۔ذہن کو خاموش کرا کے زمانہءِ جدید کے خداؤں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے،انسانی دماغ کو خاموش کرانے کے لیے قدیم زمانے کا جسمانی اذیت کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے ۔
اس سارے منفی طرزِ عمل کو یک طرفہ دلیل اور منطق سے قابلِ قبول بنایا جاتا ہے کہ یہ شے اور صارف کی دنیا ہے،یہاں انسان یا شے ہے یا صارف اور
“کام،اس دنیا کی اصل ہے۔”
یہاں زندگی اور موت ،حقیقت اور فریب کے درمیان فرق محض التباس ہے،اضافی ہے۔پوری توجہ سے سننا اور گہرے غور و خوض کے بعد کہنا،دونوں ہی کام ہیں۔قلبِ انسانی کو حقیقت کے ادراک اور قبولیت کی بے پایاں طاقت ودیعت ہوئی ہے خواہ وہ حقیقت پتھروں کے جگر کو پاش پاش کرنے اور رگِ سنگ سے نہ تھمنے والا لہو جاری کر دینے والی ہو،اسی لیے مذکورہ افسانے کے مرکزی کردار کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اپنے وجود سے لے کر دوسرے انسانی وجودوں،اشیاء اور مظاہر کو ہر طرح کا نقصان پہنچا سکنا بھی ایک”کام”اور صلاحیت ہے۔پہلے مکالمے کے دوران ہی نوجوان کے پاؤں پر کوئی بھاری چیز گرا کر اسے تکلیف کے تجربے سے گزارا جاتا ہے۔یہ قلعہ نما دفتر انسانوں کی مختلف النوع باطنی صلاحیتیں جگا کر ان سے مختلف کام لیتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہر طرح کے اداروں کو خدمات مہیا کرتا ہے جن میں کئی ممالک کو ” منصفِ اعظم ” کی فراہمی بھی شامل ہے۔یہ دفتر جو دراصل جدید تہذیب کے نمائندہ مادی رحجانات کے فروغ کا کام کرتا ہے یہاں تربیت دی جاتی ہے کہ
“مستقل رشتے کی آرزو سب سے بڑا فریب ہی نہیں ،انسانی تہذیب کی دشمن بھی ہے ۔”
اور یہ کہ
” ہم اپنے لوگوں کو کبھی اس سچائی سے دست بردار نہیں ہونے دیتے کہ اصل سچائی بہ ہر حال جسم ہے۔۔۔”
نوجوان کو ہفتے بھر کے لیے دن کے وقت دالان اور رات کے وقت کمرے میں تنہا رکھا گیا،بر وقت کھانے ،پینے اور سونے جاگنے کی سہولت دی گئی اور اس ہفتے میں بھرپور ارتکاز کے ساتھ ہر آواز کو سننے اور اس کی”اصل صورت ” میں یاد رکھنے کا کام دیا گیا۔اس عمل میں نوجوان کو سب سے زیادہ دقت اپنی ذہنی شورش پر قابو پانے میں پیش آئی ۔اگلے ہفتے کے آغاز میں اسی قلعہ نما دفتر میں ایک ادھیڑ عمر خاتون نے اس نوجوان کو یک حرفی نام”جیم” دیا اور اپنا نام “س” بتایا اور اس کے اصل نام اور شناخت کو تبدیل کرنے کی خوبصورت توجیہہ یہ پیش کی کہ لمبے نام حروف کا زیاں ہیں اور ہر حرف اپنا طلسم رکھتا ہے جو انسانوں کو اشیاء سے جوڑتا ہے۔یہی خاتون نوجوان کو دفتر کی جانب سے پہلا کام تفویض کرتی ہیں کہ ایک”بڑے ” ملک کی فوج میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کی درخواست موصول ہوئی ہے،وہاں جانے والے اکثر ماہرینِ نفسیات بھی خودکشی کر چکے ہیں جب کہ کچھ کو مار دیا گیا ہے ۔

“۔۔۔ڈر ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو پوری فوج اپنے ہاتھوں ختم ہو جائے گی ۔یہ المیہ ہوگا۔فوج کے بغیر وہ ملک ایک ماہ نہیں چل سکتا۔باقی دنیا کا انحصار بھی اسی پر ہے ۔۔۔”

اب اس نوجوان کو یہ فریضہ سونپا گیا کہ مذکورہ فوج کے جوانوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ زندگی کی بے پایاں قوتِ اظہار کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جھاڑ جھنکار کو بہا لے جانے والی موت تب ہی بہتر ہے جب وہ دوسروں کی ہو،انھیں قائل کیا جائے کہ خود کو مارنا”بدصورتی کی انتہا” اور دوسروں کو مارنا باقاعدہ اور عظیم” آرٹ”ہے۔نوجوان کو تربیت دی گئی کہ وہ اپنے فنِ گفتگو سے سننے والے ذہن میں سوال پیدا ہونے کا احتمال بھی نہ چھوڑے لہذا افسانے کے بے روزگار نوجوان نے مفوضہ کام اس قدر مہارت اور خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ مذکورہ فوج نے اگلی جنگ میں ایک لاکھ انسان مارے اور پانچ لاکھ سے زائد زخمی اور بے گھر کیے اگرچہ متوسط ذہنی استعداد کے حامل صحافی اس بہیمیت کو تنقید کا نشانہ بنایا کیے مگر نوجوان اور قلعہ نما دفتر والے قاتل فوج کی فن کاری کے معترف ہوئے۔
یوں یہ افسانہ عصرِ حاضر میں تیسری جنگِ عظیم کے دہانے پہ کھڑی دنیا میں طاقت کے فلسفے ،سرمائے کی مرکزیت اور احساسِ مروت کے کچلے جانے کی داستان کو کچھ اس پیرائے میں بیان کرتا ہے کہ بڑے ملک کی فوج کی ماضی بعید وقریب میں لکھی گئی تمام حکایاتِ خوں چکاں پردہءِخیال پہ لہرا جاتی ہیں اور یہ سوال چھوڑ جاتی ہیں کہ عالمی امن و سلامتی کا ضامن کون بنے گا ،غم اور ظلم کی شام کتنی باقی ہےاور عالم گیر محبت کا سورج کب طلوع ہو گا؟

اپنا تبصرہ لکھیں