ایران پاکستان اتحاد کے ثمرات/ڈاکٹر جواد ریاض

مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے عدم استحکام اور طاقت کے عدم توازن کا شکار رہا ہے۔ اسی چیز نے خطے میں بیرونی مداخلت کا راستہ استوار کیا۔ عراق، شام اور یمن اس کی بہترین مثالیں ہیں، جہاں بیرونی مداخلت نے ان ریاستوں کے بقا کو سوالیہ نشان بنا دیا۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں ایرانی مزاحمت نے جہاں اس خطے کی تاریخ کو بدل ڈالا، وہیں پر خطے کے لیے نئے مواقع بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں مگر دونوں کے تعلقات نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھا۔

ایران اور پاکستان کے تعلقات میں اس اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ سرحدی سلامتی کے مسائل، باہمی بداعتمادی اور علاقائی سیاست ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں اکثر کشیدگی کا باعث بنتی ہیں، جہاں ایک دوسرے پر عدم تعاون یا چشم پوشی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایران کے ساتھ اس کی محتاط پالیسی بھی توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ دوسری طرف، ایران کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کے مخالف گروہ پاکستانی سرزمین استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کو ایران کی بھارت نوازی اور بلوچستان کے حوالے سے ہمیشہ شکایات رہی ہیں۔ یوں سکیورٹی خدشات، علاقائی اتحاد اور سفارتی عدم ہم آہنگی مل کر دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کا سبب بنتے رہے ہیں۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار نے اس سرد مہری کو پگھلا دیا ہے۔

ایسے میں پاکستان اور ایران کا قریبی تعاون ایک متوازن علاقائی نظام کے قیام میں مدد دے سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم علاقائی طاقت سمجھا جاتا ہے جبکہ پاکستان ایک ایٹمی قوت اور بڑی فوجی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو ہم آہنگ کریں تو یہ خطے میں طاقت کے توازن کو بہتر بنا سکتے ہیں اور چھوٹے ممالک کو بھی زیادہ خودمختاری کے ساتھ فیصلے کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کے حل میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، افغانستان، یمن اور شام جیسے بحرانوں میں پاکستان کی معتدل سفارتکاری اور ایران کا علاقائی اثر و رسوخ مل کر ایک مؤثر ثالثی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ اتحاد نہ صرف تنازعات کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں امن کے امکانات کو بھی بڑھائے گا۔

توانائی کے تناظر میں، ایران کے وسیع تیل و گیس ذخائر اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت مل کر ایک ایسا توانائی نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔ اگر ایران کی توانائی پاکستان کے ذریعے دیگر منڈیوں تک پہنچتی ہے تو اس سے عالمی توانائی منڈی میں استحکام آئے گا اور خطے کے ممالک کو سستی توانائی میسر آ سکے گی۔ اس طرح یہ اتحاد معاشی استحکام کو فروغ دے کر سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جہاں تک حالیہ تناظر میں بات کی جائے تو پاکستان اور ایران کا اتحاد ایک اسٹریٹجک توازن پیدا کر سکتا ہے۔ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک مضبوط عسکری اور ٹیکنالوجیکل قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں ایران پہلے ہی اسرائیل کی پالیسیوں کا ناقد رہا ہے جبکہ پاکستان، اگرچہ براہِ راست اس تنازع میں شامل نہیں، مگر ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باعث اس کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون دفاعی صلاحیتوں میں بہتری، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک ایسا توازن پیدا کر سکتا ہے جو خطے میں یکطرفہ برتری کو مسدود کر دے گا۔

مزید برآں، یہ اتحاد مسلم دنیا میں یکجہتی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اگر پاکستان اور ایران مشترکہ پلیٹ فارم پر کام کریں تو وہ دیگر مسلم ممالک کو بھی ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی اپنانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف علاقائی اتحاد مضبوط ہوگا بلکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔

تاہم، اس تناظر میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس اتحاد کو محاذ آرائی کے بجائے استحکام اور تعاون کے نقطہ نظر سے آگے بڑھایا جائے۔ اگر اس شراکت داری کا مقصد خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور سفارتی توازن قائم کرنا ہو تو یہ نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

خطے کی صورتحال میں بہتری کے علاوہ یہ اتحاد دونوں ممالک کی معیشت اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران میں قریبی تعلقات پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے فروغ کو روک سکتے ہیں۔ بلوچستان میں حالات میں بہت بہتری آ سکتی ہے۔ توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔ سستا تیل پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان اگر ایران اور سعودی عرب میں کسی حد تک توازن رکھنے میں کامیاب ہو تو اس کے وسیع فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف ایران تیل سے مالا مال ہونے کے باوجود معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایران پاکستان خلیفانہ اتحاد ایرانی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا موقع بن سکتا ہے۔ گوادر پورٹ کے راستے نہ صرف ایران خود کو پاکستان بلکہ مشرقِ بعید کے ممالک سے بھی جوڑ سکتا ہے۔ چین اس وقت بھی ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جسے یہ تیل اپنے ملک لانے کے لیے کم و بیش 15000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان سے ایران یہ فاصلہ بہت کم ہے۔ پھر CPEC میں ایران کی شمولیت پورے خطے کی قسمت بدل سکتی ہے۔ ایران پاکستان خلیفانہ اتحاد سعودی عرب اور ایران میں صدیوں پرانی مصاہمت کو مفاہمت میں بدل سکتا ہے۔ سعودی قیادت نے اس جنگ کے دوران جس بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدیوں پرانی عرب فارس سرد جنگ میں گرم جوشی بھی آ سکتی ہے۔ اور خطے اور مسلم امہ کے لیے یہ کس قدر خوش آئند ہو سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

الغرض، سعودی عرب کی قیادت کو اعتماد میں لے کر پاکستان اور ایران کے درمیان مستقبل میں ممکنہ اتحاد نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کے لیے ایک نئے اسٹریٹجک توازن کی بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔ جغرافیائی اہمیت، عسکری صلاحیت، توانائی کے وسائل اور سفارتی اثر و رسوخ کو یکجا کر کے یہ اتحاد ایک ایسے بلاک کی صورت اختیار کر سکتا ہے جو خطے میں امن، استحکام اور خودمختاری کو فروغ دے اور مسلم امہ کا مغرب پر انحصار بھی کم کر سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مسلمانوں کے عظمتِ رفتہ کے دور کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ وہ کیا فرمایا تھا شاعرِ مشرق نے:

اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے تا بخاکِ کاشغر

اپنا تبصرہ لکھیں