دائرے کا قیدی/مقصود جعفری

آدمی کا نام فائل نمبر 404 تھا۔ وہ دراصل ایک آدمی نہیں، بلکہ لکڑی کی ایک بے جان کرسی پر بیٹھا منتظر وجود تھا۔ اس کے اندر کا وقت گدھ کی طرح نوچتا تھا، مگر باہر کا وقت ایک جامد تصویر کی طرح تھا۔ دفتر کی دیواروں کا رنگ، جو کبھی سفید رہا ہوگا، اب لٹکا ہوا بھورا تھا۔ یہ وہ رنگ تھا جو امید کے باسی ہو جانے کے بعد اختیار کیا جاتا ہے۔

فائل نمبر 404 کے سامنے ایک میز تھی جس پر کاغذات کے پہاڑ نہیں تھے، بلکہ آنے والے کاغذات کے ماضی کا سایہ تھا۔ اس سائے کے عین بیچوں بیچ ایک پیالہ رکھا تھا جس میں سیاہی کے بجائے منتظر آنسوؤں کی کالی مٹھاس جمی ہوئی تھی۔وہ کسی فیصلے کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک ایسا فیصلہ جس کی منظوری کے لیے اسے دائرے سے گزرنا تھا۔دائرہ دفتر کے فرش پر پینٹ کیا گیا ایک بڑا گول نشان نہیں تھا۔ دائرہ ایک گونگی، غیر مرئی منطق تھی جو ہر آنے والی درخواست کو پہلے گھماتی تھی، پھر اسے بے معنی کر کے واپس بھیج دیتی تھی۔

فائل نمبر 404 کی درخواست کیا تھی؟ وہ بھول چکا تھا۔ شاید وہ آزادی کی درخواست تھی، یا وقت کی واپسی کی، یا پھر محض ایک سادہ کرسی کی درخواست جو سیدھی ہو۔ اس کی کرسی ذرا سی جھکی ہوئی تھی، اور اس کا جھکاؤ اسے مسلسل یہ احساس دلاتا تھا کہ وہ دنیا کے مرکز سے ہٹا ہوا ہے۔

اس کے سامنے بیٹھا کلرک، جس کا نام رُکاوٹ نمبر 101 تھا، کوئی انسان نہیں تھا۔ وہ ایک حرکت پذیر مُہر تھا۔ اس کا پورا وجود صرف ایک آواز پیدا کرتا تھا۔دوبارہ داخل کرو۔ اس کے چہرے پر آنکھیں نہیں تھیں، صرف ایک غیر فعال سوراخ تھا جہاں سے صبح کی پہلی روشنی داخل ہوتی اور شام کی آخری تاریکی بن کر باہر نکل جاتی۔فائل نمبر 404 نے اپنی درخواست کا کاغذ—جو دراصل اس کی اپنی سانس تھی—آگے بڑھایا۔مُہر نمبر 101 نے اپنے مُہر نما ہاتھ سے وہ سانس لی، اسے دیکھا، اور پھر اسے ایک بار پھر دائرے کی طرف اشارہ کر دیا۔
دوبارہ داخل کرو۔ اِس دائرے سے۔ اِس کے معنی کو سمجھو۔فائل نمبر 404 نے پوچھا۔لیکن معنی کیا ہے؟ میں نے کل بھی داخل کیا تھا۔ پرسوں بھی۔ یہ صرف ایک کاغذ ہے۔مُہر نمبر 101 نے آواز نکالی۔کاغذ اہم نہیں، گُزارش کا صحیح زاویہ اہم ہے۔ تم نے اسے سیدھا داخل کیا تھا۔ دائرہ سیدھی لکیروں کو قبول نہیں کرتا۔

فائل نمبر 404 اٹھا۔ اس کے وجود نے ایک آہ بھری، مگر اس آہ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اس نے دائرے کے کناروں پر چلنا شروع کر دیا۔ یہ ایک لامتناہی چلن تھا۔ جتنی دیر وہ چلتا، اتنا ہی اس کا مرکز پیچھے ہٹتا جاتا تھا۔دائرے کے عین مرکز میں ایک چھوٹی سی خوش رنگ جلیبی رکھی تھی۔ فائل نمبر 404 کو یاد تھا کہ جب وہ پہلی بار آیا تھا تو جلیبی تازہ اور گرم تھی۔ اب وہ جلیبی سخت ہو کر کسی بے مقصد پلاسٹر آف پیرس کی مورتی بن چکی تھی۔

اس نے محسوس کیا کہ دائرے پر چلتے ہوئے وہ اپنی درخواست کا زاویہ بدل رہا ہے۔ پہلے اس کی خواہش تھی کہ فیصلہ آئے اور وہ باہر نکلے۔ اب اس کی خواہش تھی کہ وہ فیصلہ نہ آئے تاکہ دائرے پر چلنا ختم نہ ہو سکے۔ دائرے کی حرکت اس کا مقصد بن چکی تھی۔ہزاروں چکروں کے بعد، فائل نمبر 404 کا جسم دائرے کے ساتھ ایسا مدغم ہوا کہ وہ خود ایک کچی لکیر بن گیا۔ اس نے آخری بار مُہر نمبر 101 کو دیکھا۔

مُہر نے اس کی کچی لکیر نما سانس کو اٹھایا۔ اس کی خاموش آواز آئی۔زاویہ درست ہے۔ درخواست قبول کی جاتی ہے۔اور پھر، مُہر نمبر 101 نے وہ مٹھاس، وہ انتظار کے آنسوؤں کی سیاہی، اپنے پیالے سے نکالی، اور فائل نمبر 404 کی لکیر پر زور سے لگا دی۔ٹھپ!۔وہ مہر کوئی منظوری نہیں تھی، بلکہ فائل نمبر 404 کا مُہر زدہ وجود تھا۔

فیصلہ کیا ہے؟۔ فائل نمبر 404 کی لکیر نے پوچھا، مگر اس کی آواز صرف ایک خالی گونج تھی۔مُہر نمبر 101 نے کہا۔فیصلہ یہ ہے کہ تم خود اب ایک اور مُہر بن چکے ہو۔ جاؤ، اپنے دائرے میں جا کر بیٹھو۔ کسی دوسرے کو دائرے کا صحیح زاویہ سمجھاؤ۔فائل نمبر 404 نے محسوس کیا کہ لکڑی کی کرسی پر اب ایک اور منتظر وجود بیٹھا ہے۔اور وہ خود، اب دائرے کے اندر کھڑا، صرف ایک آواز پیدا کر رہا تھا۔دوبارہ داخل کرو۔ اِس دائرے سے۔ اِس کے معنی کو سمجھو۔

اور اس کے چہرے پر، جہاں کبھی آنکھیں تھیں، اب ایک غیر فعال سوراخ تھا جہاں سے امید کی روشنی داخل ہوتی اور لٹکا ہوا بھورا بن کر باہر نکل جاتی تھی۔دائرہ مکمل ہو چکا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں