1922 آرٹ کی دنیا میں ایک جادوئی سال (annus mirabilis) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سال ایک طرف جوئس کا ’یولسیز‘ چھپا، دوسری جانب ایلیٹ نے ’ویسٹ لینڈ‘ مکمل کی، ہرمن ہیسے نے اپنا شاہکار ’سدھارتھ‘ لکھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ سال برطانوی مصور جان ولیم گوڈورڈ (John William Godward) کی موت کا سال بھی ہے جس نے محض 53 سال کی عمر میں گیس کے چولہے میں سر دے کر خودکشی کر لی۔
اس نے اس موقعے پر جو نوٹ چھوڑا وہ بھیانک ہے: ’یہ دنیا اتنی بڑی نہیں کہ اس کے اندر میں اور پکاسو دونوں سما سکیں۔‘
یہ جملہ محض ایک فنکار کی ذاتی بددلی کا غماز نہیں، یہ ایک عہد کے خاتمے کا اعلان ہے، ایک ایسا عہد جس میں آرٹ کا بنیادی محور حسن ہوا کرتا تھا، لیکن 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں کے شروع میں مصوری میں حسن کی جگہ بدصورتی، توازن کی جگہ بےہنگم پن، اور ٹھہراؤ کی جگہ اٹھاپٹخ نے لے لی۔
جیسے بولتی فلمیں آئیں تو خاموش فلموں کے کئی سپرسٹار فٹ پاتھ پر آ گئے، اسی طرح مصوری کے نگارخانے میں چلنے والے تبدیلی کے اس جھکڑ نے
جہاں بےشمار دوسرے فنکاروں کو عریاں کیا، وہیں گوڈورڈ بھی اس کی زد میں آ گیا۔
گوڈورڈ کا المیہ آرٹ کی دنیا میں خالص حسن کے زوال کا المیہ ہے۔ 20ویں صدی نے سچائی اور اظہار کو روایتی حسن پر ترجیح دی، اور اس بےرحمانہ تبدیلی میں گوڈورڈ جیسے فنکار، جنہوں نے زندگی حسن کی دیوی کے قدموں میں وار دی تھی، تاریخ کی تاریک راہداریوں میں بےنام مارے گئے۔
گوڈورڈ بیچارہ مصور تھا، لیکن یہ واردات تمام فنون میں ہوئی۔ شاعری، فکشن، موسیقی، فنِ تعمیر، کوئی اس سے بچا نہ رہ سکا۔
یہ کیسے ہوا، اس کے لیے میں گوڈورڈ کو مثال بناتے ہوئے وضاحت کیے دیتا ہوں۔
گوڈورڈ کا تعلق نوکلاسیکیت کی تحریک سے تھا، اور ان کا سٹائل ہائپر ریئلسٹ تھا۔ اس کی پینٹنگز میں قدیم یونان اور روم کی مثالی جھلک نظر آتی تھی۔ مرمریں چبوترے، ریشمی لباس میں ملبوس تمکنت سے پر بیگمات، اور بحیرہ روم کا لاجوردی، لافانی آسمان۔۔۔ یہ اس کے فن کی مستقل پہچانیں تھیں۔
اس کی تکنیک کا کمال یہ تھا کہ وہ کینوس پر سنگ مرمر کی ٹھنڈک، پھولوں کی تازگی اور لباس کی شفاف سلوٹوں کو یوں مصور کرتا تھا کہ دیکھنے والے کے دل میں ایک گم گشتہ زمانے کی کسک پیدا کر دیتا تھا۔
گوڈورڈ کا آرٹ کے بارے میں نقطہ نظر بہت واضح اور سادہ تھا، آرٹ کو آنکھوں کے لیے ایک جمالیاتی ٹھنڈک اور روح کے لیے تسکین کا باعث ہونا چاہیے۔ اس نے اپنے کینوس پر زمانے کی تلخیوں اور بدصورتیوں کے دکھڑے رونے کی بجائے ایک ایسی رومانوی دنیا پیش کرنے کی کوشش کی جو اپنے اندر مکمل اور بےعیب تھی۔
گوڈورڈ سے قبل ہزاروں برس سے آرٹ کا ایک اہم مقصد ابدی حسن کی تلاش اور اس کا اظہار ہوا کرتا تھا۔ قدیم یونان سے لے کر نشاۃ الثانیہ تک آرٹسٹ کا کام دنیا کو بڑی حد تک اس کی بہترین اور الوہی شکل میں پیش کرنا تھا۔ آرٹ کو انسانی روح کی بالادستی، الہامی کشش اور کائنات میں موجود ہم آہنگی کا عکاس سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی چیز بظاہر تلخ بھی ہوتی، تو اسے جمالیاتی دائرے کے اندر رکھ کر پیش کیا جاتا تھا۔
آرٹ کو حقیقی دنیا کی کڑواہٹوں کا ترجمان ہونا چاہیے، ان فنکاروں کا یہ مسئلہ نہ تھا۔ ہومر، دانتے، امر القیس، فردوسی، حافظ، خیام، لیوناردو، میکل اینجلو، رافیل ایک مثالی دنیا کو پیش کرنے کے خواہاں تھے، جو ان کے تصور کی پیداوار تھی۔ نشاۃ الثانیہ کے مصور انسانی جسم کو مثالی ’سنہری تکون‘ کی صورت میں دکھاتے تھے، نہ کہ جیسا وہ دکھتا ہے۔ شاعر ادیب رزمیے لکھتے تھے، ساس بہو کے جھگڑے نہیں۔ ہومر نے میدانِ جنگ ضرور دکھایا ہے، مگر اس کی پیش کردہ موت بھی ہیروانہ، شاعرانہ ہے۔ دانتے نے انفرنو میں کرب و اندوہ ضرور پیش کیے ہیں، لیکن اپنی بےعیب مقفع و مسجع اطالوی میں۔ گروٹیسک آرٹ میں بدصورتی ضرور ملتی ہے، مگر توازن اور نظم کے ساتھ۔
مگر پھر چلا جدیدیت کا بگولا جس نے پرانے ڈھچر اڑا ڈالے۔ 19ویں صدی کے آخر اور خاص طور پر 20ویں صدی کے آغاز میں سب کچھ بدل گیا۔ پکاسو اور ان کے ہم عصر فنکاروں کے ہاں کٹے پھٹے چہرے، بےہنگم زاویے اور کٹی پھٹی شکلیں نظر آنے لگیں جنہیں روایتی پیمانوں کے لحاظ سے ’بدصورت‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ حیران کن تبدیلی، جو بظاہر آرٹ کی بنیادی روح کے خلاف تھی، اچانک یا بلاوجہ نہیں تھی۔ اس کے پیچھے درج ذیل کئی بظاہر ٹھوس تاریخی، سماجی اور نفسیاتی وجوہات اور محرکات تھے۔
ایک تو کیمرے کی ایجاد تھی، جس نے مصوروں کو فطرت کی ہوبہو عکاسی کے بوجھ سے آزاد کر دیا۔ مصور یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے اب ان کا کام حسن کی پیشکش نہیں، بلکہ ان دیکھے جذبوں اور زاویوں کو کینوس پر لانا ہے۔
پھر آئی 1914 کی پہلی عالمگیر جنگ، جس نے انسان کو اس خونریز اور بھیانک چہرہ دکھایا۔ خندقوں، زہریلی گیسوں اور لاکھوں لاشوں کو دیکھنے کے بعد فنکاروں کو لگا کہ اس تباہی کے دور میں خوبصورت، پرسکون اور مثالی تصویریں بنانا جھوٹ اور منافقت ہے۔ دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، اور کیوبزم جیسے رجحانات نے اسی ٹوٹی ہوئی حقیقت کو پیش کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران سگمنڈ فروئیڈ صاحب تحلیلِ نفسی کا کند چھرا لے کر آ گئے اور انسان کے تاریک لاشعور اور ان کہے پہلوؤں پر پڑے پردے چاک کر کے بتا دیا کہ شعور کی بظاہر پرسکون جھیل کی سطح کے نیچے لاشعور میں کیسے الجھاووں کے مگرمچھ چھپے ہیں۔
ان ساری چیزوں کا جدید مصوروں نے گہرا اثر قبول کیا اور انہوں نے ظاہری حسن کی بجائے اندروں کی گھمر گھمیریوں کو دکھانا شروع کر دیا۔ اب آرٹ کا مقصد محض آنکھوں کو سکون دینا نہیں رہا تھا، بلکہ ذہن کو جھنجھوڑنا اور بےچین کرنا بن گیا تھا۔
ایسا نہیں ہے کہ میں جدیدیت کو مکمل طور پر رد کر رہا ہوں۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جدیدیت نے حسن کے معنی کو وسعت دی، جسے زوال نہ کہہ کر تبدیلی کہہ لیا جائے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت حسن صرف ہم آہنگی، توازن اور ظاہری دلکشی کا نام نہیں، بلکہ اس میں اضطراب، شکستگی، اور انسانی تجربے کی تلخی بھی شامل ہو گئی۔ یوں جدید فنکار شاید حسن کو قتل نہیں کر رہے تھے بلکہ اسے ایک محدود، آرام دہ دائرے سے نکال کر ایک وسیع، بےآرام مگر زیادہ سچائی سے قریب دائرے میں لے جا رہے تھے، جہاں خوبصورتی صرف سکون نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش بن جاتی ہے۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اس دعوے پر یقین کر لیں کہ آرٹ کا کام اصل دنیا کی ترجمانی کرنا ہے اور جدید فنکار اپنے کام میں بدصورتی پیش کر کے حقیقت کی ترجمانی کر رہے ہیں تو پھر یہ تو وہی نقالی والا کام ہوا جو بظاہر کیمرے کی ایجاد کے بعد دقیانوسی قرار دیا گیا تھا؟
پرانا فنکار کم از کم اس بےڈھنگی دنیا کے مقابل اپنی ایک مثالی دنیا کی صورت گری کرتا تھا، اور دیکھنے والے کو اس کی اپنی روزمرہ تلخیوں سے الگ دنیا میں لے جاتا تھا، نیا فنکار لوگوں کو ان کی اپنی مصیبتوں، پریشانیوں، تکلیفوں کا آئینہ دکھا کر کون سا کمال کر رہا ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا آرٹ کا مقصد دنیا کی عکاسی ہے یا روح کی بالیدگی؟
آپ اس سوال پر غور کریں، میں اپنی تحریر کا دائرہ مکمل کرنے کی خاطر دوبارہ گوڈورڈ کی طرف چلتا ہوں وہ دکھیارا پچھہتر سال کی تاخیر سے دنیا میں وارد ہوا۔ وقت پر پیدا ہوا ہوتا تو بڑے فنکاروں کے ساتھ گنا جاتا، آرٹ کے عجائب گھر اس کی تصویروں سے بھرے ہوتے، کرسٹیز اور سدبیز کی نیلامیوں میں اس کی تصویریں سات ہندسوں میں بکتیں۔
مگر افسوس، جلدی ہو گئی۔ گوڈورڈ کو جب تک پتہ چلتا، زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ بےشک قصور اس کا بھی تھا، اس نے اپنے آپ کو جدید دور کے ساتھ ڈھالنے کی کوشش نہ کی۔ اپنی وہی سریلی مگر مدھر بانسری بجاتا رہا جو ماڈرنزم، کیوبزم، فاوزم، سریئلزم اور پتہ نہیں کس کس ازم کے نقارخانے میں دب گئی۔
نئے دور کے نقادوں نے اسے بےرحمی سے مسترد کر دیا۔ اسے قدامت پسند اور ان کے فن کو فرسودہ قرار دیا گیا۔ اس کے انتہائی نازک کام کو محض ڈرائنگ روم کا سجاوٹی آرٹ کہہ کر تحقیر کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ موجودہ وقت کی سچائی یا درد سے بیگانہ ہے۔
اس سے بھی بڑا المیہ ہے کہ جب گوڈورڈ نے خودکشی کی تو اس کے خاندان نے اس کے ڈیکاڈنٹ سمجھے جانے والے فن اور ان کی خودکشی کو اس قدر باعث شرم سمجھا کہ موت کے بعد اس کی تمام ذاتی تصویریں اور کاغذات جلا دیے۔
یہی نہیں، انہوں نے خاندانی تصویروں سے گوڈورڈ کا چہرہ بھی مٹا دیا۔ متاسفاً کہا جاتا ہے کہ آج گوڈورڈ کا ایک بھی مستند فوٹو وجود نہیں رکھتا۔
گوڈورڈ کا المیہ دراصل آرٹ کی دنیا میں خالص حسن کے زوال کا المیہ ہے۔ 20ویں صدی نے سچائی اور اظہار کو روایتی حسن پر ترجیح دی، اور اس سنگدلانہ تبدیلی میں گوڈورڈ جیسے فنکار، جنہوں نے اپنی پوری زندگی حسن کی دیوی کے قدموں میں نچھاور کر دی تھی، تاریخ کی تاریک راہداریوں میں بےنام مارے گئے۔


