ارتھ آور: ایک گھنٹہ، ایک پیغام، ایک ذمہ داری/ماریہ بتول

کیا ہم واقعی صرف ایک گھنٹہ اندھیرا برداشت نہیں کر سکتے، جب زمین برسوں سے ہماری لاپرواہی کا بوجھ اٹھا رہی ہے؟
ہر سال مارچ کے آخری ہفتے میں دنیا بھر میں “ارتھ آور” منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک گھنٹے کے لیے اپنی غیر ضروری لائٹس بند کر دیتے ہیں تاکہ زمین کے ساتھ یکجہتی اور ماحولیاتی تحفظ کا پیغام دیا جا سکے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بہت بڑی سوچ اور ذمہ داری چھپی ہوتی ہے۔
ارتھ آور کا آغاز ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے 2007 میں کیا تھا۔ اس کا مقصد صرف بجلی بچانا نہیں بلکہ لوگوں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنا تھا۔ آج یہ ایک عالمی تحریک بن چکی ہے جس میں دنیا کے کروڑوں لوگ حصہ لیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ماحولیاتی مسائل دن بدن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور آلودگی جیسے مسائل اب صرف خبروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں ارتھ آور ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے ابھی بھی اپنی عادات نہ بدلیں تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ دنیا نہیں مل سکے گی۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی، کبھی غیر متوقع بارشیں اور کبھی سیلاب—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم قدرتی توازن کو بگاڑ چکے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ ابھی تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
ارتھ آور دراصل ایک علامت ہے—ایک یاد دہانی کہ ہم سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ صرف ایک گھنٹہ لائٹس بند کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی توانائی کے ضیاع کو کم کرنا ہوگا، درخت لگانے ہوں گے، اور ماحول دوست عادات اپنانا ہوں گی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومتیں اور ادارے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں، مگر انفرادی سطح پر تبدیلی کے بغیر کوئی بڑی کامیابی ممکن نہیں۔ اگر ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھ لے تو ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ارتھ آور محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک سوچ ہے—ایک عزم کہ ہم اپنی زمین کو بچانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ اگر زمین محفوظ نہیں ہوگی تو ہمارا مستقبل بھی محفوظ نہیں ہوگا۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—روشنی چند لمحوں کے لیے بجھانی ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟

اپنا تبصرہ لکھیں