قانون وراثت اور تزکیہءِ اخلاق/فرد کی وصیت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل(3)-عرفان شہزاد

فرد کی وصیت یا کسی عمومی قانون کی عدم موجودگی میں اولاد سے اپنے حصے وصول کرنا دیگر اقربا کے لیے باعث نزاع ہونا لازم ہے۔ قانون وراثت کی عدم موجودگی میں ابتداءً انفرادی وصیت ہی سے دفع نزاع ممکن ہے۔ چنانچہ قانون وراثت دینے سے پہلے خدا نے بھی فرد پر لازم کیا کہ وہ اپنے والدین اور دیگر اقربا کے حصوں کے لیے وصیت کر جائے:
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (البقرۃ 2: 180)
“(اِسی طرح مال کے نزاعات سے بچنے کے لیے) تم پر فرض کیا گیا ہے کہ تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آ پہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور قرابت مندوں کے لیے دستور کے مطابق وصیت کرے۔ اللہ سے ڈرنے والوں پر یہ حق ہے۔ ”
یہاں اولاد کے لیے وصیت کرنے کا نہیں کہا گیا، کیونکہ ان کا اصل وارث ہونا بداہتاً طے تھا۔ چنانچہ والدین اور اقربا کا حصہ نکالنے کے بعد بقیہ وراثت اولاد میں تقسیم ہو جاتی تھی۔
یہی معاملہ ولایت و دوستی کے حصے کا تھا۔ عرب کے خاص رواج کے مطابق جس شخص یا قبیلے کے ساتھ وابستگی اختیار کر لی جاتی تھی، اسے وراثت میں بھی شریک سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے لازما وصیت کی جاتی تھی۔ تاہم، قانون وراثت کے بعد اولیا کا حصہ ختم کر دیا گیا، سوائے یہ کہ کوئی اپنے ولی کے لیے کوئی وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے:
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا (الاحزاب 33: 6)
“مگر رحمی رشتے رکھنے والے خدا کے قانون میں دوسرے تمام مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، الاّ یہ کہ اپنے تعلق کے لوگوں سے تم کوئی حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ اِسی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔”
قانون وراثت دیے جانے سے پہلے فرد پر لازم تھا کہ اپنے احساس عدل کے مطابق اپنا ترکہ تقسیم کرے۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ ورثا موصی کے ذاتی احساس عدل پر مبنی تقسیم سے اتفاق کریں۔ انفرادی وصیت نزاعات کا بالکلیہ خاتمہ نہیں کرسکتی تھی۔ رقابت و خفگی رحمی رشتوں کو قطع اور نفوس کو آلودہ کر سکتی تھی، جو تزکیہءِ نفس اور مقصد دین کے خلاف تھا۔ اس لیے ضروری ہوا کہ خدا کی طرف سے عدل عمومی پر مبنی ایک قانون وراث دیا جائے۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ موصی نے واقعی عدل سے کام لیا ہو۔ چنانچہ ترکے کی تقسیم کا سارا اختیار موصی کے پاس ہو تو اس کی طرف سے حق تلفی یا جانب داری کے ثبوت کے بعد بھی اس کی وصیت نافذ ہوتی، جس سے ورثا کے درمیان نزاع پیدا ہوتا۔ انسانی تاریخ ایسے الم ناک نزاعات کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چنانچہ قانون وراثت دیے جانے سے پہلے مجاز اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ موصی کی طرف سے حق تلفی کے ثبوت پر وصیت میں اپنے طور پر اصلاح کر دے:
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرۃ 2: 182)
“جس کو، البتہ کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو اور وہ اُن کے درمیان صلح کرادے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بے شک، اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔”
یہ بھی ممکن تھا کہ کوئی وارث وصیت ہی کو تبدیل کرنے کی سازش کرے:
فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ‎‏ (البقرۃ 2: 181)
“پھر جواِس وصیت کو اِس کے سننے کے بعد بدل ڈالے تو اِس کا گناہ اُن بدلنے والوں ہی پر ہو گا۔ (اُنھیں یاد رکھنا چاہیے کہ) یقینااللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔”
اس صورت میں نزاع کا فیصلہ بھی مجاز اتھارٹی کرتی۔ تاہم، مجاز اتھارٹی بھی انسانی علم و عقل کے دائرے ہی میں عمل پیرا ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ تسلیم تو کر لیا جاتا ہے مگر اس کے لیے دلوں کی رضامندی حاصل نہیں کی جا سکتی اورکدورت رفع نہیں ہو سکتی۔چنانچہ ضروری تھا کہ موصی کی طرف سے حق تلفی ثابت ہونے پر ترکہ خدا کی طرف سے دیے گئے قانون کے مطابق تقسیم ہو۔
اگر صاحب مال ہی یہ چاہے کہ اس پر کوئی الزام نہ آئے اور معاملہ کوئی اور اتھارٹی طے کردے تو بھی ضروری تھا کہ عدل عمومی پر مبنی قانون وراثت موجود ہو۔
درج بالا وجوہات سے خدا کی طرف سے قانون وراثت دیا گیا۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اسے تسلیم کریں اور اگر وہ سچے ایمان والے ہیں تو اس پر خوش دلی سے راضی بھی ہوں۔ اس طرح ورثا کے دلوں کی کدورتوں کو رفع کر دیا گیا جس سےتزکیہ نفس کی راہ آسان بنا دی گئی۔
قانون وراثت دیے جانے کے بعد فرد پر اپنے مال میں وصیت کرنے کا لزوم ختم ہو گیا، کیونکہ اب جو وصیت نہیں کرے گا، اس کا ترکہ خدا کی وصیت، یعنی قانون وراثت کے مطابق تقسیم ہو جائے گا۔
تاہم، ترکے کی تقسیم کا سارا اختیار قانون کو دے دیا جاتا تو انفرادی احوال کے تنوعات کے لیے گنجایش ختم ہو جاتی ہے ،اور یہ بھی عدل کے خلاف ہے، کیونکہ ضروری نہیں کہ عدل عمومی عدل حقیقی کو مستلزم ہو۔ چنانچہ قرآن مجید کےقانون وراثت میں مورث کے حق وصیت کی اولیت دیتے ہوئے، خدا نے اپنی وصیت (قانون وراثت) کو موخر کیا، کیونکہ موصی اپنے ورثا کے حالات کے مطابق انفرادی وصیت کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔ اس کی اس وصیت پر کوئی قدغن بھی نہیں لگائی۔ چنانچہ وہ تمام ترکے کی وصیت کر سکتا ہے۔ البتہ اسے نصیحت کی ہے کہ ورثا میں سے کسی کو شعوری طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے اور عدالت میں ثابت ہو جائے تو سورہ بقرہ کی آیت 182 کے تحت اس کی وصیت کالعدم قرار پائے گی اور قرآن مجید کے قانون وراثت کے مطابق تقسیم عمل میں آئے گی۔
جاری۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں