وہیل چیئر نہیں، شعور کی ضرورت/خطیب احمد

میں نے گزشتہ دو دن میں ان دس افراد سے رابطہ کیا جنہیں ایک سال قبل ہماری طرف سے وہیل چیئر فراہم کی گئی تھیں۔ ان میں دو الیکٹرک وہیل چیئرز بھی شامل تھیں۔ ان کی قیمت تقریباً دو لاکھ روپے تھی، جس میں سے پچاس ہزار کے لگ بھگ ہماری طرف سے دیا گیا، جبکہ باقی رقم انہوں نے خود انتظام کی۔

آٹھ مینوئل وہیل چیئرز میں سے دو افراد نے اپنی رقم سے وہیل چیئر خریدی۔ ہم نے صرف انہیں ان کی ضرورت کے مطابق مناسب وہیل چیئر اور اس کے حصول کی جگہ کے بارے میں رہنمائی فراہم کی تھی۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں الیکٹرک وہیل چیئرز کی۔ ایک بالکل درست حالت میں کام کر رہی ہے۔ دوسری کا کنٹرول پینل پانی لگنے سے خراب ہو گیا تھا، مگر انہوں نے خود اسے ٹھیک کروا لیا۔ اب یہ ایک اسکول جانے والے بچے کے بہترین استعمال میں ہے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی۔

میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ان وہیل چیئرز کی عمر عموماً تین سے چار سال ہوتی ہے، اس لیے آئندہ کے لیے مالی تیاری رکھیں۔ یہ مہران جیسی بنیادی سہولت ہے، اگلی بار بہتر معیار کی، تین چار لاکھ روپے تک کی وہیل چیئر خریدیں، جس کی رفتار اور بیٹری پاور زیادہ ہو۔ کیونکہ یہ کوئی زندگی بھر ساتھ دینے والی چیز نہیں، وقت کے ساتھ بدلتی اور اپڈیٹ ہوتی رہتی ہے۔

اب آتے ہیں ان چھ افراد کی طرف جنہیں مکمل طور پر مفت وہیل چیئرز دی گئی تھیں۔ ان میں سے دو تو استعمال ہی نہیں کر رہے—وہیل چیئر ویسی کی ویسی پڑی ہے۔ وہ پہلے کبھی وہیل چیئر پر بیٹھے ہی نہیں تھے، زمین پر رہنے کے عادی تھے۔ چند دن استعمال کیا، پھر دوبارہ زمین پر گھسٹنا شروع کر دیا۔ اب ان سے وہیل چیئر واپس لے کر کسی اور مستحق کو دے دی جائے گی۔

باقی چار میں سے دو کی وہیل چیئر کے اگلے چھوٹے پلاسٹک ٹائر یا بیرنگ خراب ہو گئے۔ معمولی دو چار سو روپے میں یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا، مگر ایسا نہ کیا گیا۔ نتیجتاً وہ وہیل چیئر چھوڑ کر کہیں اور سے نئی حاصل کر لی گئی۔ آج دوستوں کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ خراب وہیل چیئرز واپس لے آئیں۔

آخری دو افراد وہیل چیئر استعمال کر رہے ہیں، اور چھوٹی موٹی خرابی کو وقت پر ٹھیک بھی کرواتے ہیں۔

یہ سب وہ لوگ تھے جنہیں زندگی میں پہلی بار وہیل چیئر ملی تھی۔

اب رہ گئے وہ دو افراد جنہوں نے خود مینوئل وہیل چیئر خریدی۔ ان میں سے ایک باقاعدگی سے استعمال کر رہا ہے، جبکہ دوسرے نے چھوڑ دی ہے۔ وہ زیادہ تر چارپائی پر ہی رہتا ہے۔ وجہ ڈپریشن ہے—”میں جو چلتا پھرتا تھا، اب وہیل چیئر پر بیٹھوں؟” مسکیولر ڈسٹرافی نے ایک چلتے پھرتے نوجوان کو بستر تک محدود کر دیا ہے۔ اگلے ہفتے جا کر اس سے ملوں گا، شاید اسے گھر سے باہر نکلنے پر آمادہ کر سکوں۔

اس سے پہلے بھی جب ہم نے چھ ماہ یا ایک سال بعد فالو اپ لیا، تو کم و بیش یہی صورتحال سامنے آئی۔

اسی تجربے کے بعد 2022 سے ہم نے مکمل مفت وہیل چیئرز کی فراہمی کو محدود کر دیا۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ والدین بھی اس میں کچھ حصہ ڈالیں۔ جہاں یہ ممکن نہ ہو، وہاں ضرور مدد کی جاتی ہے—مگر نتائج اکثر وہی نکلتے ہیں جو آج آپ کے سامنے ہیں۔

چھ میں سے چار وہیل چیئرز استعمال کے بجائے سٹور کی نذر ہو گئیں۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں:

پہلی، شعور کی کمی—ہمارے معاشرے میں وہیل چیئر استعمال کرنے والے کو ترس یا عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ انفراسٹرکچر بھی اس قابل نہیں۔
دوسری، مفت ملنے والی چیز کی قدر کم ہو جاتی ہے۔
تیسری، ابتدائی مشکلات سے گھبرا کر آسان راستہ اختیار کر لینا۔

میری نظر میں اس سارے عمل میں سب سے قیمتی چیز جو ہم دے سکتے ہیں، وہ “شعور” ہے۔

خود کو قبول کرنے کا شعور، وہیل چیئر کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنے “لباس” کے طور پر اپنانے کا شعور، اپنے راستے خود ہموار کرنے کی ہمت، اپنی جیب سے بہتر وہیل چیئر خریدنے کا عزم، زمین اور چارپائی سے اٹھ کر زندگی میں واپس آنے کی خواہش—گھر سے نکلنے، اسکول یا مدرسے جانے، کوئی ہنر سیکھنے، دنیا دیکھنے کی لگن۔

اور سب سے بڑھ کر، دوسروں یا حکومت سے امیدیں باندھنے کے بجائے اپنی زندگی خود بدلنے کا فیصلہ۔

ایسا پختہ عزم، جس کے سامنے کوئی رکاوٹ ٹھہر نہ سکے—
چاہے اس سفر میں موت کو ہی کیوں نہ گلے لگانا پڑے۔

کیونکہ اگر جینا ہے، تو شیر کی طرح جینا ہے—
جو ہر حال میں اپنا شکار خود کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں