درد منت کش دوا نہ ہُوا/سعدیہ بشیر

سوشل میڈیا نے جہاں آسانیوں کے ساتھ بے شمار ابہام پیدا کیے۔ وہاں اس نے طب جیسے سنجیدہ اور حساس شعبے کو ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج ہر شخص چاہے اس کے پاس کوئی طبی علم ہو یا نہ ہو۔ بطور ماہر نہ صرف مشورے دے رہا ہے۔ بلکہ علاج بھی تجویز کر رہا ہے۔ یہ محض ایک عام سماجی رویہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں صحت کے تصور کی بگڑتی ہوئی شکل کی عکاسی کرتا ہے۔

فیس بک، YouTube اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر ایک مخصوص انداز اپنایا جا رہا ہے۔ پہلے بیماریوں کی علامات بیان کی جاتی ہیں پھر لوگوں کے خوف اور کمزوری کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور آخر میں اپنی تیار کردہ دوا یا پروڈکٹ کو حتمی حل کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار درحقیقت وہی پرانا انداز ہے جو کبھی بسوں میں منجن بیچنے والوں یا ریڑھیوں پر آواز لگانے والوں کا ہوتا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ سب کچھ جدید کیمرے اور دلکش انداز میں ہو رہا ہے۔آج کل یہ دعوی بھی عام ہو چکا ہے کہ ہم نے یہ دوا خود آزمائی ہے۔یہ سر سے پاؤں تک ہر بیماری ختم کر دیتی ہے۔ یا چند دنوں میں مکمل صحت یابی ممکن ہے۔ یہ دعوے سننے میں جتنے دلکش لگتے ہیں۔ حقیقت میں اتنے ہی غیر سائنسی اور خطرناک ہیں۔ کچھ لوگ چند جڑی بوٹیاں یا مختلف اشیاء ملا کر ایک”جادوئی نسخہ“ بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ انہیں نہ اس کے کیمیکل ری ایکشنز کا علم ہوتا ہے اور نہ انسانی جسم پر اس کے اثرات کا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس مریض کو یہ دوا دی جا رہی ہوتی ہے۔ اس کی بیماری، میڈیکل ہسٹری اور جسمانی کیفیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔ اس کے باوجود ایک ہی دوا کو ہر مرض کا علاج بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔یہ رویہ طب کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ ہر مریض اور اس کی بیماری کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ اور ہر علاج باقاعدہ تشخیص کے بعد ہی دیا جاتا ہے۔ بغیر تحقیق، بغیر لیبارٹری ٹیسٹنگ اور بغیر طبی تربیت کے ہر مرض کا علاج تیار کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔

ایک ذمہ دارانہ ڈیجیٹل معاشرہ کی تعمیر
اس صورتحال کو مزید سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ اب نامی گرامی اداکار اور مشہور شخصیات بھی ان اشتہارات کا حصہ بن چکی ہیں۔ جب کوئی معروف چہرہ کسی دوا یا نسخے کی تشہیر کرتا ہے تو عام آدمی اس پر فوراً یقین کر لیتا ہے۔حالانکہ وہ نہ اس دوا کی تحقیق سے واقف ہوتا ہے اور نہ اس کے اثرات سے۔ محض مالی فائدے کے لیے ایسے اشتہارات میں شامل ہونا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔بلکہ ایک اخلاقی جرم بھی ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں بے شمار لوگ گمراہ ہو سکتے ہیں۔ ایسے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی شہرت کو لوگوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے کے لیے استعمال نہ کریں۔

اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں کسی نہ کسی سطح پر جوابدہ ہونا چاہیے۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب ہر شخص خود کو انفلوئنسر سمجھتا ہے۔ جیسے ہی کسی برانڈ کی طرف سے کوئی پروڈکٹ یا تحفہ ملتا ہے۔ وہ بغیر تحقیق کے فوراً اس کی تعریف شروع کر دیتا ہے۔اور اسے“جادوئی کرشمہ”قرار دیتا ہے۔ یہاں نہ ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے اور نہ یہ ادراک کہ ایک ویڈیو ہزاروں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری طرف دواؤں کا کمرشلائزیشن بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ فارمیسیوں کے باہر“40% آف یا ایک کیساتھ ایک فری۔ جیسے اشتہارات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دوائی کو بھی ایک عام پروڈکٹ بنا دیا گیا ہے۔ اس کو آفرز کے ساتھ بیچنا اس کی سنجیدگی کو کمزور کرتا ہے۔یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا خطرناک ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں عام آدمی شدید کنفیوژن کا شکار ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ کون سا مشورہ درست ہے اور کون سا دھوکہ۔ خاص طور پر ذیابیطس،ڈیپریشن،

ہارمونز کے مسائل، بانجھ پن اور مردانہ کمزوری جیسے حساس معاملات کو اس کاروبار کا مرکز بنایا گیا ہے۔کیونکہ یہاں انسان کی مجبوری اور فوری حل کی خواہش سب سے زیادہ ہوتی ہے۔پھر غربت، بے روزگاری اور بھوک کا علاج بھی انھی دواؤں سے کرنے کی تشہیر کی جاتی ہے۔

کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب

یاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے

(ذوق)

اصل مسئلہ یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کی درمیانی سرحد دھندلا چکی ہے۔ جو شخص جتنا پراعتماد انداز میں بات کرتا ہے۔ لوگ اسی کو سچ مان لیتے ہیں۔ حالانکہ صحت کے معاملے میں یقین نہیں بلکہ ثبوت اہم ہوتا ہے۔

ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم بطور معاشرہ جذبات کے بجائے شعور کو ترجیح دیں۔ ہر اس دعوے کو رد کریں جو“ہر بیماری کا علاج”ہونے کا دعویٰ کرے اور ہر اس شخص پر سوال اٹھائیں جو بیماری بھی بتا رہا ہو اور ساتھ اپنی دوا بھی بیچ رہا ہو۔ مستند ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔ تحقیق کریں اور معتبر اداروں جیسے World Health Organization کی معلومات کو اہمیت دیں۔ یہ مسئلہ اب ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔ اور اس کا مقابلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب لوگ سمجھداری سے فیصلے کریں اور اپنی صحت کو غیر مستند ہاتھوں میں دینے سے بچائیں۔ اگر ہم نے اب بھی احتیاط اور شعور کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ رجحان نہ صرف ہماری صحت بلکہ ہمارے اجتماعی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا رہے گا۔ اور بقول غالب

درد منت کش دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

کی صورت حال عام رہے گی۔ آگہی دام شنیدن بچھاتی رہے گی اور مفہوم عنقا رہے گا۔کیونکہ حقیقت یہی ہے۔صحت کوئی کرشمہ نہیں۔ بلکہ علم، تحقیق اور ذمہ داری کا نتیجہ ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ پاکستان

اپنا تبصرہ لکھیں