سردی آنٹی کی بپتا / محمد کوکب جمیل ہاشمی

میں، سرد موسم کی شہزادی، بارش سے شروعات کرتی ہوں۔ ژالہ باری سے التفات اور ٹھنڈی ہواؤں سے ملاقات کرتی ہوں۔ گرم شہروں کی گرم مزاجی کی اٹھتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بات کرتی ہوں۔ تبدیلی، احوال میں لاتی ہوں اور گرمی سے پریشان حال لوگوں کو سکون بخش و خوش گوار فضاؤں کی نوید دیتی ہوں۔ یہی میری سوغات ہوتی ہے، یہی میرا تحفہ ہوتا ہے۔
میرے وطن کے خوبصورت پہاڑو! تم میری لائی ہوئی برف کی نقرئی پوشاک پہن کرکتنے حسین لگتے ہو۔ منجمد سیف الملوک اور عطا آباد جھیل کی سطح پر دھوپ کی روپہلی کرنوں کے دل کش مناظر کو دیکھنے والوں کی مشتاق نظروں کی قسم، تمہیں دیکھ کر میرے جسم کا روا روا خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ مری اور گلیات میں گرم چسٹروں، اونی ٹوپیوں اور سردی کو پچھاڑتی موٹی جیکٹوں میں ملبوس، سیاحوں کی موج مستیوں اوربرف کے گولے ایک دوسرے پر پھینکتے ہوئے یاد گار تصویریں بنوانے والے لوگو! تمہیں دیکھ کر میرے دل میں پیار کے سوتے پھوٹ اٹھتے ہیں۔ تمہاری آن بان شان کے کیا کہنے. بہتی ہوئی آبشاروں پہ گاہے گاہے برف کی قلموں سے منعکس جمال فطرت کی سحرانگیزی پر فدا، سیر و تفریح کرنے والوں کی دعاؤں میں میری تعریف و توصیف اور پذیرائی کے کتنے رنگ جھلکتے ہیں۔ مگر۔

مگر اب فرقت کا وقت آ چکا ہےاب ہمارا چل چلاؤ ہے۔” اچھا تو ہم چلتے ہیں”. “ارے, ارے سردی بیگم کہاں جانے کی تیاری ہے، ابھی سے کیوں جارہی ہو، ٹہرو نا! ابھی جانے کی بات نہ کرو”۔ لوگوں نے سردی سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
” نہیں رکوں گی، اب بس ہوگئی ہے میری۔ اب اور نہیں رہنا مجھے یہاں پر”. “مگر کیوں، ایسا کیا ہوا، کس بات پہ ناراض ہو گئی ہو تم، اس سردمہری کی وجہ کیا ہے”؟ میزبانوں نے پوچھا۔
“مجھے ہر روز کیا کچھ باتیں سننے کو مل رہی ہیں لوگوں کی؟ ہر کسی نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کر رکھا ہے، جیسے میں مہمان نہیں بلاۓ جان ہوں۔ سب مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ طعنے دے رہے ہیں۔ آخر کیا بگاڑا ہے میں نے, میرے ساتھ ایسی بد سلوکی کیوں ہو رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے، سردی آنٹی جب سے آئی ہیں۔ سب کانپنے لگے ہیں۔ حالانکہ کوئی گرم کپڑے نہ پہنے تو اس میں میرا کیا قصور ہے٫ بس میں نے ٹھنڈے دل سے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اب اور نہیں ٹہرنے کی۔ میں اب جا رہی ہوں”.
“دیکھو بی بی، تم نے سنا ہوگا کہ مہمان آتا تو اپنی منشاء سے ہے، لیکن جاتا دوسرے کی مرضی سے ہے”۔ ایک بزرگ خاتون نے کہا۔
“جی نہیں دادی اماں۔ بدلتا رہتا ہے ہر سماں۔ میں نہ اس طرح آتی ہوں اور نہ یوں جاتی ہوں، میں تو بن بلائے آتی ہوں، اور اپنی مرضی سے ہی واپس جاتی ہوں” ۔ ” پلیز ٹھندی ٹھار آنٹی آپ ابھی نہ جائیں! نہ جائیں، کچھ روز اور ٹہر جائیں”. بچوں نے معصومیت سے کہا۔

“پیاری آنٹی! آپ یہاں ہوتی ہیں تو آپ سے ہی پالا پڑتا ہے۔ آپ کے سنگ دوپہر کی دھوپ کا پھیکا پن بھی میٹھا میٹھا لگتا ہے۔ اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ ” ٹھنڈ نری کھنڈ”. آپ آتی ہیں تو شمالی علاقوں اور مری کی گلیات سفید برف کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔ بہت مزا آتا ہے جب ہم برف پڑتی دیکھ کر خوب انجواۓ کرتے ہیں۔ آپ کی ٹھنڈک سے تو ہمارے دلوں میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے”.
“مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ تم ہی تو ہو، جو اپنی دھن میں میری دھند کو برا بھلا کہتے ہو۔ کبھی میرے وجود کو اسموگ کی وجہ سے میلا قرار دے کر دھتکارتے ہو۔ آخر یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟”. نہیں نہیں آنٹی، ہم ان میں سے نہیں جو آپ کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ہم تو تمہیں بہت چاہتے ہیں،
” دیکھو نا! تم چلی جاؤگی تو ہم کنو، مالٹے کیسے کھائیں گیں۔ گاجر کا حلوہ تو کہیں بھی کھانے کو نہیں ملے گا۔ مونگ پھلی اور ریوڑیاں آنا بند ہو جائیں گی۔ چکن کارن سوپ ہمیں کون پلایا کرے گا۔ کھیل کھیل میں کون گاۓ گا کہ مونگ پھلی میں دانا نہیں، ہم تمہارے نانا نہیں۔ یہ کون بولے گا کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنوں اپنوں کو دے۔ ہم آنڈے گرم کی صدائیں سننے کو ترس جائیں گے۔ مولی کی بھجیا اور شلجم پالک گوشت کے مزے، سب ختم ہو جا ئیں گے”. کچھ نوجوانوں نے حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
” اچھا, اچھا بس کرو، یہ چاپلوسی کی باتیں مجھے گراں گزرتی ہیں۔ سردی آنٹی نے تنبیہ کرتے ہوۓ کہا کہ تم سب یہی کہا کرتے تھے کہ اللہ میری توبہ یہ کیسی دھند چھائی ہوئی ہے، دور دور تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ قصور تمہارا اپنا ہوتا ہے اور اسموگ کے پھیلاؤ کا الزام ہم پہ دھرا جاتا ہے۔ پت جھڑ کو دیکھ کر مجھے ہی سخت سست کہا جاتا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔ یعنی کبھی خوشی کبھی غم۔ کبھی لبوں پہ تبسم اور کبھی آنکھیں نم”.
” سوری سردی آنٹی رک جائیں پلیز، ابھی تو ہم مڈل ایسٹ کے جھلستے ہوئے گرم موسموں سے تنگ آکر یہاں پہنچے ہیں۔ اچھی سردی آنٹی رک جائیں نا”. سب یک زبان ہو کر بولے۔

” اچھا لوگو! تمہارا اصرار ہے تو کچھ دنوں کے لئے ہم، اور ٹہر جاتے ہیں، مانے لیتے ہیں تمہاری بات۔ لیکن اس کے لئے ایک شرط ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ ہمیں روکنے کے لئے تمہیں ایک وعدہ کرنا پڑے گا کہ تم کبھی کسی کو عیب دارنہ کہنا، کبھی کسی کو برا نہ کہنا ، کیونکہ افراد ہوں یا وطن، یا وطن کی فضاؤں کو محفوظ بنانے والے بہادرسپوت سب محبت کے لائق ہیں”.
” ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو آئندہ کوئی شکائت نہ ہوگی۔ اب مان جائیں تو عنائت ہوگی۔ “. اچھا تو ٹھیک ہے۔ میں رک جاتی ہوں”۔ اس خوشی میں سب گنگنانے لگے۔
” ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے، کہ دل ابھی بھرا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”.
یہ سننا تھا کہ آسمان پہ کالی گھٹائیں چھا گئیں۔ گھن گھرج ہوئی اور آندھی طوفان کے ساتھ زوردار بارش برسنا شروع ہوگئ۔ ایک افرا تفری سی مچ گئی۔ یخ بستہ ٹھندی ہوائیں چلنا شروع ہو گئیں۔۔ دروازے کھڑکیاں بجنے لگیں۔ ایک ہلچل سی مچ گئی۔ سردی آنٹی جو رخت سفر باندھ چکی تھیں، دوبارہ سے سرد تخت پہ براجمان ہو گئیں۔ کمبل، رضائیاں، سویٹرز، جیکٹ اور مفلرز جو الماریوں سے نکال کرمچانوں اور ایٹکس میں منتقل کر دیے گئے تھے، ان کی شدت سے ضرورت پڑنے لگی۔۔
نانی، دادی، تائی اور مما نے اپنی گرم چادریں جو حفظ ما تقدم کے طور پر بکسوں میں ڈالی تھیں، پھر سے حفاظتی بنکرزسےنکل کر پروٹیکٹر شیلڈزمیں تبدیل ہو گئیں۔ دوبارہ سے دانت بجنے لگے۔ یا اللہ خیر! کچھ دنوں کے لئے ہی سہی، ہوگیا بالکل صحیح انتظام، جیسا چاہا تھا۔ شکریہ سردی آنٹی، ۔تم نے ہماری لاج رکھ لی۔

اپنا تبصرہ لکھیں